موم کی گڈی
اوے منے ميري گڈي واپس کر۔اوے منے۔۔۔۔رک ذرا۔۔۔۔منے ميري بات سن۔۔۔۔۔منے۔۔منے۔۔ٹھہر ذرا۔۔منے سن تو سہي ۔۔ميري گڈي۔۔۔يہ کہتے کہتے اس کي ہچکي بندھي اور وہ روتے روتے پيپل کے تنے کے ساتھ لگ گئي۔آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہيں لے رہےاور وہ اس سيلابي ريلے ميں بہتي گئي ۔
ماں !!!!!!!!!! ماں کيسے سہہ پاتي وہ کيسے سہہ سکتي تھي ؟؟
ماں ۔۔۔ وہ سانولي سلوني ماں جس کے چہرے ميں اس نے دنيا کا سارا حسن ديکھا۔ باپ کے اس دنيا سے رخصت ہوجانے کے بعد انکي کل کائنات تو وہ ہي تھي جو انکا مشرق بھي تھي اور مغرب بھي۔۔۔
جو گھروں ميں صفائي کرکے دونوں بچوں کي پرورش کر رہي تھي ۔ کھيلتے کھيلتے منا کبھي شرارت ميں بہن کي گڈي لے منے واپس آجاؤ ۔۔منے۔۔منا کھيل ہي کھيل ميں اپني بہن کي گڈي لے کرآگے آگے بھاگتا جا رہا تھا کہ نمبر دار کے نوکروں نے اسے دبوچ ليا۔اسے گھسيٹتے ہوے ڈيرے پہ لے گئے۔ ہزار منتيں کيں ، واسطے دئيے تڑپي مگروہ ظالم منے کو مرغي چوري کے الزام ميں بنا ثبوت و گواہ الزام لگا کر مارتے رہےاس تشدد سے منا تڑپ تڑپ کر نڈھال ہوگيا ۔۔ ۔۔ وہ بہت دور جا چکا تھا۔ ۔۔ اور پھر ماں بھي تو اسکے پيچھے چلي گئي۔۔۔۔
وہ پيپل کے تنے سے لگ کے روتي رہي۔۔۔۔روتے روتے بےسدھ ہو گئي۔۔۔ ہنستا بستا چھوٹا سا گھرانہ اجڑ گيا
يہ امير لوگ پتھر کے کيوں ہوتے ہيں۔کيوں يہ ايک غريب کو انسان نہيں سمجھتے۔——
وہ اکيلي ہے۔۔اس ظالم معاشرے ميں۔۔اپنے پياروں کو کھو کر اب وہ کس کے ساتھ کھيلے کس کے ساتھ پيار جتائےوہ کسے ماں کہہ کر آواز دے ۔۔اب کون اسکے آنسو اپني چادر سے صاف کرکے اسے تسلي دے؟ اسکے سينے ميں رہٹ کے چلنے کي سي آواز کي گونج کے ساتھ سسکيوں کا شورفضا طوفان اٹھا رہا ہے۔۔۔۔۔اب اسے تنہا موم کي گڈي بن کے صبح شام پگھلنا اور جلناہےاور اب ہر روز يونہي يہ غم اسے اندر ہي اندرگھن کي طرح کھا کر کھو کھلا کرتا رہے گا ۔۔۔۔۔اور وہ بلکل ايک موم کي طرح پگھلنا ہے ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔


