متفرقمعاشرہ

میرا گھر میری جنت

Spread the love

تحریر: سائرہ خان

نئے گھر میں شفٹ ہونے کے بعد بکھرے ہوئے سامان کو سمیٹ کر انھیں منتخب کردہ جگہ پر رکھنا ایک کٹھن اور تھکا دینے والا مرحلہ ہوتا ہے۔کاموں کی فہرست اتنی طویل ہو جاتی ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کیا جائے۔لہٰذا شفٹ ہونے سے پہلے یا بعد میں کاموں کی فہرست کچھ اس انداز میں ترتیب دی جائے کہ ضروری یا غیر معمولی کام پہلے اور معمولی کام بعد میں فہرست میں شامل کیے جائیں۔

یہ ضروری کام کون سے ہیں؟ اس سلسلے میں قارئین کے لئے مفید مشورے پیش کیے جا رہے ہیں۔

بجلی کے آلات کی تنصیب
ہو سکتا ہے کہ جب آپ ایک مشکل اور مصروفیت بھرا دن گزارنے کے بعد اپنے نئے گھر میں شفٹ ہوں تو سورج ڈھل چکا ہو اور وہاں مناسب روشنی کا نہ ہونا آپ کو ضروری کام سر انجام دینے میں رکاوٹ بنے۔ویسے تو یہ کام نئے گھر میں شفٹ ہونے سے قبل ہی کروا لیجیے تو بہتر ہے لیکن اگر آپ نے پہلے اس جانب توجہ نہیں دی تو اب دے دیجیے اور کسی الیکٹریشن کو بلا کر اپنے نئے گھر میں فین، ایل ای ڈی لائٹس (ایسے اپلائنسز جو کم سے کم بجلی کنزیوم کریں)، نئے سوئچ بورڈ اور اے سی کی انسٹالیشن کروا لیں۔

ایک پروفیشنل الیکٹریشن کو ڈھونڈنے میں آپ گھر کے مالک یا پڑوسیوں سے بھی معلومات لے سکتے ہیں۔ساتھ ہی بریکر باکس اور پانی کے والوں کی جانچ پڑتال بھی کروا لیں تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں آپ کو ان چیزوں کے بارے میں پہلے سے معلومات ہوں، ساتھ ہی گھر کی وائرنگ بھی چیک کروا لیں۔

مرکزی دروازے کے لاک کی تبدیلی
عام طور پر اکثر افراد اس طرف توجہ ضروری نہیں سمجھتے، تاہم کسی بھی حادثہ سے محفوظ رہنے کے لئے لاک کی تبدیلی بے حد ضروری ہے۔

جیسے ہی آپ کو پرانے مالک مکان کی جانب سے اپنے نئے گھر کی چابی وصول ہو، آپ سب سے پہلے دروازوں میں نئے لاک نصب کروائیں کیونکہ وہ گھر اب آپ کا ہے، لہٰذا کسی دوسرے پر اعتماد کرنے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ آپ تھوڑا سا خرچہ کر لیں۔

گھر کی صفائی
ہو سکتا ہے جب آپ کو نئے گھر کی چابی دی جائے تو وہ گھر صاف ستھرا ہو مگر پھر بھی آپ اپنے طریقے سے نئے گھر کی صفائی ضرور کرنا چاہیں گے۔

اگر آپ کا بجٹ اجازت دے تو آپ صفائی کے لئے کسی کام کرنے والے کی مدد بھی لے سکتے ہیں لیکن عام طور پر گھر شفٹنگ کے دوران، بجٹ کنٹرول سے باہر چلا جاتا ہے، لہٰذا اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کا آغاز کریں۔اپنے ہاتھوں کی حفاظت کے لئے صفائی سے قبل ربڑ کے دستانے پہن لیں۔تمام سامان جیسے کہ بالٹی، جھاڑو، موپ، ویکیوم کلینرز اور دیگر سامان اکٹھا کر لیں پھر ان کی مدد سے کاؤنٹر ٹاپ، کیبنٹس کے نچلے حصے، سنک، ٹائلز اور نلکوں کی صفائی کرنا شروع کر دیں۔

اگر گھر میں معیاری کلینرز دستیاب نہ ہوں تو قدرتی کلینرز مثلاً لیموں، سرکہ، بیکنگ سوڈا اور زیتون کے تیل کے استعمال کے ذریعے بھی گھر کی صفائی کا کام بخوبی کیا جا سکتا ہے۔

دیواروں اور چھتوں کا پینٹ
صفائی کے بعد آپ کے نئے گھر کی اصل صورت سامنے آ جائے گی۔دیواروں اور چھتوں کی جانب غور کریں اور دیکھیں کہ ان کا رنگ و روغن کہیں سے خراب تو نہیں ہو رہا یا دیواروں اور چھتوں پر کسی قسم کے سوراخ انہیں بدنما تو نہیں بنا رہے۔

کیا واقعی انھیں رنگ کروانے کی ضرورت ہے! اگر ایسا ہے تو آپ کسی پروفیشنل رنگ والے کی خدمات حاصل کرتے ہوئے نیچرل اور ٹرینڈی کلرز کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے گھر کا نقشہ بدل دیجیے۔

سامان اور فرنیچر سیٹ کرنا
آپ کا اگلا مرحلہ ان باکس کو کھولنے کا ہے، جو آپ نے نئے گھر میں منتقل ہونے سے قبل بحفاظت سامان شفٹ کرنے کے لئے بنائے تھے۔

گھر کے تمام کمروں کا ایک بار پھر جائزہ لیں اور اس بات کا فیصلہ کریں کہ کونسا کمرہ بیڈروم کے لئے مناسب رہے گا اور کونسا لیونگ روم کے لئے، ہر کمرے کا فرنیچر ان کی مختص جگہوں پر سیٹ کر دیں۔اگر ضرورت محسوس ہو کہ گھر میں کچھ ایسی ناقص جگہیں موجود ہیں جن کو چھپانا لازم ہے تو ان کو پینٹنگ، فریمنگ، وال پیپر یا پیپر ورک کی مدد سے چھپایا جا سکتا ہے۔

الماریاں منظم کیجیے
فرنیچر کے بعد اگلا کام الماریوں کو منظم کرنا ہے۔الماری کی سیٹنگ کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں لیکن یہ اتنا مشکل بھی نہیں جتنا آپ سوچ رہے ہیں۔الماریاں منظم کرنے کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھیں کہ 10 سال کی عمر میں ہی بچوں کو کپڑے خود تہہ کرنے کی عادت ڈال دیں، اس طرح آپ کے بچے بھی اس کام میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔الماری کو منظم کرنے کے لئے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیں، روزمرہ پہنے جانے والے کپڑوں کی جگہ الگ بنائیں۔جن حصوں میں کپڑے زیادہ رکھنے ہوں اور جگہ تنگ ہو ان جگہوں کے لئے کپڑوں کی عمودی رخ تہہ بنائیں،ان طریقوں پر عمل کرنے سے آپ کی الماری منظم اور ترتیب وار نظر آئے گی۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *