بچوں کا ادب اور جان کے دشمن
تحریر: ڈاکٹر حنا جمشید
ایک زمانہ تھا جب ہمارے گھر میں بچوں کا اخبار ’پھول اور کلیاں‘ ، ماہنامہ پھول، تعلیم و تربیت اور بچوں کی دنیا جیسے ادبی رسائل باقاعدگی سے آیا کرتے تھے۔ جس دن اس اخبار یا رسالے نے آنا ہوتا، ہماری نظر اور ہمارے قدم صبح سے ہی گھر کے مرکزی دروازے کا طواف شروع کر دیتے۔ آج ہمہ وقت موبائل فون کی دنیا میں گم رہنے والے اس ڈیجٹل عہد کے بچے اس خوشی کی سرشاری کو کبھی محسوس نہیں کر سکتے جو ہمیں تب ان رسائل کو پڑھتے ہوئے ملا کرتی تھی۔
سچی بات تو یہ ہے کہ آج کے اس مشینی عہد میں بچوں کے لیے اچھا اور عمدہ ادب ڈھونڈے سے ہی ملتا ہے۔ عموماً بچوں کے لیے تخلیق کیے گئے ادب میں پہلے سے سنی گئی کہانیوں کی تکرار بھی اسے غیر دلچسپ بنا دیتی ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے لیے بڑا ادیب وہ نہیں جو زندگی کے پیچیدہ و مشکل فلسفیانہ مباحث کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنائے بلکہ وہ بھی ہے جو اپنی نئی نسل کے لیے ادب تخلیق کرے اور اپنی کہانیوں سے انھیں زندگی کے ان مشکل اسباق و مسائل سے روشناس کرائے جو آنے والے وقت میں ان کی زندگی میں کسی امتحان کی مانند کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ ہماری خوش بختی ہے کہ اس عہد میں ہمارے درمیان ڈاکٹر حسن منظر جیسے حساس و معتبر ادیب موجود ہیں۔ جنھوں نے بچوں کے لیے ایسی عمدہ کہانیاں تخلیق کیں جن سے ملے اسباق انھیں زندگی بھر نہ بھولیں گے۔ بچوں کے لیے تحریر کی گئی ان کی تینوں کتب ’سمندر میں جنگ‘ ، ’جان کے دشمن‘ اور ’داخلے کا دن‘ ایسی انمٹ کہانیوں پر مشتمل ہیں، جن میں زندگی کے دلگداز حقائق سے ملے اخلاقی اسباق ننھے اذہان پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر حسن منظر ایک حساس دل رکھتے ہیں شاید اسی لیے کہانی ’جان کے دشمن‘ میں انھوں نے پرندوں کا دکھ بیان کیا ہے، وہ ننھے معصوم پرندے جنھیں خطرہ فقط اپنے سے طاقتور پرندوں سے نہیں ہوتا بلکہ ان ظالم انسانوں سے بھی ہوتا ہے جو اپنی شکاری فطرت کی تسکین کے لیے ان کی جان کے در پے ہوتے ہیں۔ ان کے یہی احساسات آگے ایک ’سنی سنائی‘ کہانی میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں وہ ننھی چڑیوں کے لیے آزردگی سے کہتے ہیں کہ:
”بھلا اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جانے والی چڑیا، جسے ڈبکی مارنے والے نے دھوکے سے ٹانگوں سے پکڑ کر جھیل کے پانی کے اندر گھسیٹ لیا ہو اور فوراً ہی اس کی دونوں ٹانگیں توڑ دی ہوں کہ وہ دوبارہ اڑ نہ سکے، اب ہزاروں میل کا سفر تنہا طے کر کے اپنے ساتھیوں سے بھلا کیسے مل سکتی ہے؟“
کہانی ’سمندر میں جنگ‘ طاقت کے غیر ضروری اظہار سے گریز کی کہانی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بسا اوقات کم طاقتور مخلوق اپنی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے کس طرح طاقتور کو پچھاڑ دیتی ہے۔ ’عظمت اللہ کے ہاتھ‘ مکافاتِ عمل کے تحت ان ہاتھوں کے کٹ جانے کی ہولناک کہانی ہے، جو انسانی جان لینے سے گریز نہیں کرتے تھے۔
’فرفر اور رنگو‘ بچوں کی جانوروں سے محبت اور انسیت کی کہانی ہے، ایک ایسی محبت جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ننھی ’فیری اور لڑاکو لڑکا‘ چھوٹے بچوں کے باہمی جھگڑوں اور ذہین شرارتوں کی کہانی ہے، ’سنی سنائی‘ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ بعض اوقات جو باتیں محض سنی سنائی ہوتی ہیں ان میں صداقت کہیں نہیں ہوتی۔ ’جوتیوں والے بابا‘ ایک ایسے بادشاہ کی کہانی جو اپنی رعایا کی ابتر حالت سے ہمیشہ بے خبر رہا اور جب اسے ایک برگزیدہ ہستی کے ذریعے اس بات کا احساس دلایا گیا تب اس نے اپنی بے خبری کا ازالہ کیسے کیا۔
’شرارت کی رگ‘ وہ رگ ہے جو ان لوگوں میں ہمیشہ موجود ہوتی ہے، جو بڑے ہو کر بھی اپنے اندر کے بچے کو زندہ اور خوش رکھتے ہیں۔ ’دادی‘ انسانی نفسیات اور رویوں کی پیچیدگی کی کہانی ہے، جس میں انسان بسا اوقات توجہ کے حصول کے لیے ان معیوب کاموں کا بھی مرتکب ہو جاتا ہے، جو اس کے لیے ہمیشہ ایک پچھتاوا بن جاتے ہیں جب کہ ’آدھا گلاس پانی‘ اس بچے کی کہانی ہے، جس نے بچپن میں جھوٹ کا جو سفر شروع کیا اس نے جوانی میں اس کی تباہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
یہ کیسی اچھی بات ہے کہ ہمارے بچوں کے بچپن کی انمول یادوں میں ان کہانیوں کی شمولیت انھیں مزید حسین بنا دے گی۔ ایسی پیاری، دلگداز اور کبھی نہ بھولنے والی کہانیوں کو ہمارے لیے تخلیق کرنے پر ڈاکٹر حسن منظر صاحب کا بہت سا شکریہ۔ بک کارنر جہلم کے گگن شاہد صاحب اور امر شاہد صاحب کا بھی بہت شکریہ کہ جنھوں نے ان کہانیوں کو پیاری فاطمہ راحی صاحبہ کی دلکش تصاویر سے مزین کر کے ایسے عمدہ پیرائے میں طبع کیا۔ یہ شکریہ اس لیے بھی ضروری کہ بچوں کا ادب بچوں کی ہی مانند انمول ہوا کرتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


