خواتین کی جگہ لیبارٹری ہے
تحریر: اے کے لودھی
اقوام متحدہ ہر سال 11 فروری کو’’عالمی یوم سائنس برائے خواتین‘‘ مناتاہے ، اس دن کو منانے کا آغاز 2015 میں ہوا تھا جس کا مقصد سائنس کے میدان میں خواتین کی خدمات کا اعتراف کرنا اور ان کے لیے سائنسی دنیا میں مزید بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں سائنس کے شعبے میں خدمات سر انجام دینے والے افراد میں 30 فیصد خواتین ہیں اور آنے والے وقت میں اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔اقوام متحدہ نے کئی عالمی تنطیموں اور متعدد ممالک کی حکومتوں کے تعاون سے سائنس کے میدان میں خواتین و لڑکیوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے بھی مہم شروع کر رکھی ہے۔
عالمی یوم سائنس برائے خواتین کے حوالے سے اسپیشل رپورٹ
’’خواتین کی جگہ لیبارٹری ہے‘‘ کے عنوان سے یو این ویمن کے تحت جاری مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ نوجوان لڑکیوں کو سائنس کے میدان میں مواقع فراہم کرنا ہے۔
ماہرین بشریات ان حقائق کی کھوج لگانے میں مصروف ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مختلف حوالوں سے عورت کو مرد سے کم باصلاحیت سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کی عورت ہر شعبہ زندگی میں مرد کے نہ صرف شانہ بشانہ ہے بلکہ کارکردگی میں بھی کم نہیں۔ کبھی سمجھا جاتا تھا کہ شاید گھر گھرہستی اور کسی حد تک تعلیم اور صحت کے شعبوں کیلئے ہی خواتین کا کردار ہونا چاہئے۔ آج کی عورت نے اس خام خیالی کو مٹا دیا اور خود کو منوایا۔ اس کے باوجود کچھ شعبوں میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ سائنس کی پڑھائی اور عملی شمولیت میں خواتین کے مقابلے مردوں کا تناسب زیادہ ہے۔یوں تو خواتین دنیا کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں مگر سائنسی میدان میں اب بھی خواتین کی تعداد کم ہے۔ ’’انٹرنیشنل ڈے آف ویمن اینڈ گرلز ان سائنس‘‘ منانے کا فیصلہ اس لئے کیا گیا تاکہ خواتین اور لڑکیاں سائنس کے میدان میں بھی ترقی کر سکیں۔
بات مشرق کی ہو یا مغرب کی، خواتین کو ان کے حقوق دلوانے اور برابری کا موضوع اکثر زیر بحث رہتا ہے۔ اس معاملے پر عوام کی بڑی تعداد اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ صرف تعلیم اور طب ہی نہیں بلکہ خواتین ہر شعبے میں مردوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھیں۔ اسی حوصلہ افزائی کی وجہ سے خواتین مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ پھر چاہے بات مسلح افواج کی سخت ڈیوٹی ہو یا خلائی سفر پر جانے کی، خواتین کسی طور پیچھے نہیں۔ 1972 میں مردوں اور خواتین کے مابین سائنسی خدمات میں تعداد کا فرق بالترتیب 97 فیصد کے مقابلے میں 3 فیصد تھا۔ 1998 میں یہ فرق 90 کے مقابلے میں 10 فیصد رہ گیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کی سائنس میں دلچسپی بڑھی تو اس میدان میں مردوں اور خواتین کی شمولیت میں فرق بھِی کم ہو گیا۔ 2013 میں امریکی خواتین کی سائنس کے میدان میں نمائندگی 21 فیصد ، پاکستان میں 18 فیصد تھی جبکہ بولیویا 63 فیصد خواتین سائنسدانوں کے ساتھ سرفہرست تھا۔ مجموعی طور پر دنیا بھر میں 28 فیصد خواتین سائنسدان تھیں۔ سائنس میں قابل قدر خدمات سر انجام دینے پر 15 خواتین کو نوبل انعامات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس تعداد میں مستقبل قریب میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔
یہ دن پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے۔ پاکستانی خواتین کو جن بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں تعصب، ہراسانی اور صنفی امتیازات شامل ہیں اور ایسے کلچر کا مکمل فقدان ہے جہاں سائنسی شعبوں میں خواتین کے کام کرنے کو اچھا سمجھاجائے۔پاکستان سمیت متعدد ممالک میں معاشرتی رویوں، سماجی و مذہبی حدود و قیود کے باعث خواتین سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی) میں کریئر بنانے سے کتراتی ہیں۔ قومی سطح پر بھی بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت اور پرائیویٹ ادارے ملازمتوں میں خواتین کی حوصلہ افزائی کریں اور ساتھ ہی سٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دیا جائے۔ عموماً گھریلو اور ملازمت کے مسائل کے باعث بہت سی باصلاحیت خواتین گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ خواتین کے لیے ورک کلچر کچھ ایسا ہے جہاں انھیں انسان سے زیادہ مشین سمجھا جاتا ہے۔ گھریلو اور بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ سائنس جیسی کسی مشکل فیلڈ میں کام کرنے کے لیے بہت زیادہ ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ نے سائنس میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کہتے ہیں کہ سائنس کے شعبے میں خواتین اور لڑکیوں کے حوالے سے ہم ایک سادہ سی بات کو واضح کرتے ہیں کہ سائنس میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی سائنس اتنی ہی بہتر ہو گی۔خواتین اور لڑکیاں تحقیق میں تنوع لاتی ہیں، سائنسی ماہرین کی تعداد کو بڑھاتی ہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئے تناظر مہیا کرتی ہیں جس سے سبھی کو فائدہ ہوتا ہے۔اصولی طور پر سائنس کو سب کے لیے عام ہونا چاہیے لیکن اب بھی اس شعبے میں مردوں کا غلبہ ہے۔سیکرٹری جنرل نے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے نئے وظائف، تربیتی عمل اور منصوبوں جیسے اقدامات پر زور دیاتاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین کو مشکلات پر قابو پانے اور اپنا کریئر بنانے میں مدد دینے کے لیے ترغیبات اور رہنمائی کے پروگرام بھی ضروری ہیں۔انہوں نے خواتین کے حقوق یقینی بنانے اور دقیانوسی تصورات، تعصبات اور ساختیاتی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہم سب کمرہ ہائے جماعت، لیبارٹریوں اور اداروں کے بورڈ میں خواتین کی بڑی تعداد کو شامل کر کے اپنی دنیا کی اس بے پایاں صلاحیت کو سامنے لا سکتے ہیں جس سے تاحال پورا کام نہیں لیا جا سکا۔
سائنسی ترقی:چند نمایاں پاکستانی خواتین
دنیا بھر کی طرح پاکستانی خواتین بھی سائنسی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ خواتین سائنسدانوں کی بات کی جائے تو کئی نام قابل ذکر ہیں۔چند نمایاں نام اس طرح ہیں۔
ڈاکٹر بینا شاہین
انہوں نے 250 سے زائد ریسرچ آرٹیکل لکھے اور 12 پیٹنٹ ان کے نام پر موجود ہیں۔ انہیں کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔
ڈاکٹر رابعہ حسین
انہوں نے برسن ییلو ایوارڈ کے علاوہ اور کئی ایوارڈ بھی حاصل کیے اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں یونیورسٹی آف لندن کا فیلو بھی بنایا گیا۔
ڈاکٹرحناچوہدری
انہوں نے بھی کئی ایوارڈز اپنے نام کیے، جن میں سے کلینشین سائنٹسٹ ایوارڈ سرفہرست ہے
ثانیہ نشتر
ثانیہ نشتر مراض قلب کی معالج ہیں، وفاقی وزیر اور بی آئی ایس پی چیئرپرسن کی حیثیت سے وزیر اعظم پاکستان کے لیے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ سے متعلق معاون رہیں۔
نرگس مالوالہ
نرگس پاکستانی نژاد امریکی ماہر طبیعیات ہیں جو 2015 میں کشش ثقل کی لہروں کا پتہ لگانے میں اپنی پیشرفت کی تحقیق کے لیے جانی جاتی ہیں۔ 2020 میں ایم آئی ٹی میں اسکول آف سائنس کی پہلی خاتون ڈین بن گئیں۔
تسنیم زہرہ حسین
ایک نظریاتی طبیعیات دان اور کچھ پاکستانی خواتین میں سے ہیں جنھوں نے طبیعیات میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ وہ سٹرنگ تھیوری پر کام کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بھی ہیں۔ جرمنی میں نوبل انعام یافتہ افراد کی میٹنگ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
عاصمہ ظہیر
کمپیوٹر سائنس دان اور پہلی پاکستانی خاتون ہین جنھوں نے IBM کا بہترین ایوارڈ ، 2019 حاصل کیا۔
عذرا قریشی
وہ نباتیات کی ماہر ہیں جنھیں پاکستان میں آلو کی پیداوار میں 5 فیصد اضافے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ انھوں نے تجارت
میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنایا ، 1997 میں نارمن بورلاگ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ارفع کریم
ارفع کریم ایک نو عمر کمپیوٹر پروگرامر تھیں جو 2004 میں مائیکرو سافٹ کے مصدقہ پروفیشنل بننے والی شخصیت بن گئیں۔ بل گیٹس نے انھیں ذاتی طور پر امریکا میں مائیکرو سافٹ کے صدر دفتر میں مدعو کیا تھا۔
مریم سلطانہ
ایک فلکی طبیعیات ہیں۔ 2012 میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہ پاکستان میں پہلی خاتون فلکیاتی ماہر بن گئیں۔
طلعت شہناز رحمٰن
ایک کنڈینسڈ مادہ فزیک ہیں۔ ان کے تحقیقی عنوانات میں سطحی مظاہر اور پرجوش میڈیا شامل ہے ۔
ابان مارکرکبراجی
پارسی نژاد ماہر حیاتیات اور سائنس دان ہیں۔ وہ IUCN کے ایشیا علاقائی دفتر ، بین الاقوامی یونین برائے تحفظ برائے فطرت کی علاقائی ڈائریکٹر ہیں۔ماحولیاتی تحفظ ، پائیدار ترقی اور فطرت کے تحفظ کی وجوہ کے لیے نمایاں شراکت ہیں۔ انھیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا
آصفہ اختر
ایک ماہر حیاتیات ہیں جو کروموسوم کے شعبے میں کام کرتی ہیں۔وہ جرمنی کی مائش ٹھیٹ میکس پلانک سوسائٹی میں حیاتیات اور شعبہ طب کی پہلی بین الاقوامی خاتون نائب صدر بن گئیں۔ آصفہ کو یورپی لائف سائنس آرگنائزیشن (ای ایل ایس او) ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
فرزانہ اسلم
وہ ایک ماہر طبیعیات اور ماہر فلکیات ہیں۔ انھوں نے سیمی کنڈکٹر نانو پارٹیکلز ، فوٹوون اور لیزر سائنس سے حساس پولیمر مرکب کے شعبے میں کام کیا گلاسگو میں انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کے زیر اہتمام فوٹوون 04 کانفرنس میں ایوارڈ ملا۔
دنیا کو تبدیل کرنے والی خواتین
اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق ذیلی تنظیم (یو این ویمن) نے ہر سال منائے جانے والے ’ ’خواتین اور لڑکیوں کے سائنسی عالمی دن‘ ‘کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل نمایاں خدمات سر انجام دینے والی سائنسدان خواتین کی فہرست شائع کی۔ ’’سائنس کی مدد سے دنیا کو تبدیل کرنے والی خواتین‘ ‘کی فہرست میں مجموعی طور پر 7 خواتین کو شامل کیا گیا ہے اور ان میں سے ایران کی ایک ماہر ریاضی دان خاتون کو بھی شامل کیا گیا ۔فہرست میں ایران کے علاوہ چین، جنوبی افریقہ، امریکا، پولینڈ، برازیل اور ایتھوپیا کی سائنسدان خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔ان خواتین کے نام اس طرح ہیں۔
تو یویو
چین کی قدیم دوائیوں کی مدد سے ملیریا کا علاج دریافت کرنے والی 89 سالہ سائنسدان ماہر طب تو یویو کو فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔
کیارا نرگھم
جنوبی افریقہ کی فوڈ سیکیورٹی ماہر، موجد اور پبلک اسپیکر کیارا نرگھم کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔
کیتھرائن جانسن
امریکہ کی ماہر ریاضی دان کیتھرائن جانسن کو بھی دنیا کو بدلنے والی خواتین کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
میری کری
یورپی ملک پولینڈ کی آنجہانی کیمیادان میری کری بھی اقوام متحدہ کی فہرست کا حصہ ہیں۔
مارشیا باربوسا
برازیل کی ماہر طبیعات مارشیا باربوسا کو بھی یو این ویمن کی فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔
سیگنت کولیمو
افریقی پسماندہ ملک ایتھوپیا کی ماہر حشریات سیگنت کولیمو کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مریم میرزا خانی
ایران کی ماہر ریاضی دان مریم خوارزمی بھی یو این ویمن کی فہرست کا حصہ ہیں، وہ 2017 میں کینسر کے باعث چل بسی تھیں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


