شعر و شاعری

حسرتِ نا تمام

Spread the love

شاعرہ: امۃ الباری ناصر۔ امریکہ

میرے گھر میں بھی ایک بیری تھی

کوئی پتھر اِدھر نہیں آیا

بیر لگ لگ کے جھڑتے رہتے تھے

کوئی بھی دیکھ کر نہ للچایا

چار دیواری چھوٹی کروا دی

شاید آ جائے کوئی ہمسایہ

ہر اک آہٹ پہ بھاگ کر دیکھا

کوئی آیا ۔ مگر نہیں آیا

میری بیری کا حسن ماند ہؤا

غنچہ جیسے کوئی ہو مرجھایا

اس کی آنکھوں میں اک اداسی تھی

جیسے آسیب کا کوئی سایہ

ایک دن دل بہت فسردہ تھا

خوف سے ایک وہم سا آیا

بند کمرے میں جھانک کر دیکھا

کیا بتاؤں کہ کیا نظر آیا

ہوک اُٹھتی ہے آہیں بھرتی ہوں

پھر کبھی زخم بھر نہیں پایا

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *