غزل
فوزیہ عباس شاہ سمّی۔۔شارجہ
تو نے دیکھا نہیں کمالِ غم
دل نے اوڑھی ہوئی ہے شالِ غم
بے وفائی یا ہجر ہو تیرا
اس سے بڑھ کر ہو کیا مثالِ غم
عکس حیرت کا بن نہیں پاتا
کیا مکمل نہیں خیالِ غم
برق رفتار تھے خوشی کے پل
اور گزرتا نہیں ہے سالِ غم
یہ جو وحشت مری عروج پہ ہے
جانے کب ہوگا اب زوالِ غم
پاؤں دل کے خوشی پہ تھرکے ہیں
اور دھڑکن کرے دھمالِ غم
ہر طرف سسکیاں بکھر سی گئیں
کس کے ہاتھوں گرا ہے تھالِ غم


