متفرق

دعا

Spread the love

  تحریر سعدیہ تسنیم سحر

شوہر باپ اور بیٹا مل کر دائرہ بناتے ہیں اور بیوی ماں اور بیٹی بھی ایک دائرہ بناتیں ہیں لیکن چونکہ معاشرہ مرد کا ہے اس لیے مرد کو ظاہری طور پر قوام ہونے کا فخر اور تکبر عورتوں کو کسی گنتی میں ہی نہیں گننے دیتا -تاوقتیکہ قسمت کا کوئی چابک کسی دعا کی طرح لگ جائے جیسے مجھے لگا۔کسطرح لگا ٹھہرئیے میں آپ کو بتاتا ہوں ۔

میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں 9سے 5 والی نوکری کرتا ہوں -سگریٹ پان فلم کسی قسم کا کوئی بے ہودہ شوق نہیں پالا -جو کماتا ہوں لا کر اپنی بیوی کو دے دیتا ہوں-مجھے اپنی بیوی سے محبت بھی ہے اور میں دوسری عورتوں پر کوئ اختیاری نظر نہیں ڈالتا نہ اچھی نہ بری -ہاں بے اختیاری کی ایک نظر ڈالنے کے بعد میں اپنی نظر کو باندھ لیتا ہوں اور اپنے آپ پر نازاں ہوتا ہوں کہ میرے جیسا غض بصر رکھنے والا شوہر کم ہی ہوتا ہے ہر مرد گھر میں تو با حیا بیوی رکھنا چاہتا ہے لیکن باہر اپنی آنکھیں سینکنے سے باز نہیں آتا ۔

 دن میں دس مرتبہ میں اپنی بیوی کی چھوٹی موٹی باتوں پر بے عزتی کرتا ہوں کہ یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہ کیا دوسرے لفظوں میں میں وہ والا شوہر ہوں جو کہتا ہے کہ آٹا گوندھتے ہوئے تمھاری کہنیاں کیوں ہلتی ہیں لیکن پھر بھی میں اسے خوش قسمت قرار دیتا ہوں کہ اسے مجھ جیسا مرد ملا –

 میرا ایک ہی بیٹا ہے اسکے بعد میری بیوی بیمار ہو گئ لیکن میں نے اسے چھوڑا نہیں حالانکہ میری والدہ کو بہت شوق تھا کہ میرے زیادہ بچے ہوں کیونکہ میں بھی اپنے والدین کا اکلوتا تھا -والدہ نے بہت زور لگایا کہ میں دوسری شادی کر لوں لیکن میں نے اپنی والدہ کی بات نہیں مانی اورہر آئے گئے کے سامنے اپنی بیوی کی بیماری اور اپنی ظرف کی داستان سناتا – بیوی میرے لیے گویا ایک پنچنگ بیگ تھی جس پر میں اپنے دن بھر کی فرسٹریشن اتارا کرتا اسے آگےسے جواب دینے کی اجازت نہیں تھی تاہم کبھی کبھی وہ یہ شعر ہلکی نم آوازمیں گنگناتی

شاید بقید زیست یہ ساعت نہ آسکے

تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم

میں شاید زندگی بھر اپنا چلن نہ بدلتا کہ ایک دن اچانک میں نے اپنے بیٹے کی گفتگو سنی۔اصل میں  میری بیوی نے بیٹے کے لیے گڑیوں اور ٹیڈی بیئر کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر رکھا تھا کیونکہ میرے بچے کو ساتھ کھیلنے کے لیے ایک بہن یا بھائی چاہیے ہوتا تھا تو میری بیوی اسے گڑیا اور ٹیڈی بیئر متبادل کے طور پر خرید دیتی تھی  اور میرا بیٹا ان کھلونوں سے کھیلتے وقت انہیں کردار بنا کر کھیلتا آج وہ اپنی ایک گڑیا کے بال کھینچ کر ڈانٹ رہا تھا بےوقوف عورت تجھے سمجھ نہیں آتی-تم دنیاکی جاہل ترین عورت ہو پتہ نہیں میری قسمت اتنی خراب کیوں ہے جو مجھے تم جیسی عورت ملی آپ ٹھیک سمجھے یہ سارے وہ فقرات ہیں جو میں اپنی بیوی کو کہتا ہوں میرا باپ میری ماں کو ایسے ہی کہتا تھا اور میں اپنی ماں کے ہر دکھ پر رونے کے باوجود زندگی بھر  ماں کی عزت نہ کر سکا  چونکہ میں بےہدایتا بیٹا تھا اسلیئے شوہر بن کر بھی بے ہدایتا ہی رہا جو بچہ ماں کو بے عزت ہوتا دیکھتا ہے وہ کبھی اچھا بیٹا نہیں بنتا اور جو اچھا بیٹا نہیں بنتا وہ اچھا شوہر بھی نہیں بنتا  ۔یہ دائرہ اسی طرح چلتا رہتا ہے  نجانے کن لمحوں کی کی گئی دعا میرے دل کے صحن میں امید کا خوش رنگ بوٹا لگا گئ ۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *