//ایک مسیحی ڈرائیور کی بیٹی جو وزارت خارجہ کی افسر بننے جارہی ہیں

ایک مسیحی ڈرائیور کی بیٹی جو وزارت خارجہ کی افسر بننے جارہی ہیں

. اس سال سی ایس ایس کے امتحان کے نتائج کافی منفرد ہیں کیونکہ ان میں کئی ایسے امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے جن کا اس مقام تک پہنچنے کا سفر آسان نہ تھا۔ایسی ہی ایک کامیاب امیدوار صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے رہائشی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ڈرائیور کی خدمات انجام دینے والے مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے جان کینیڈی کی بیٹی رابیل کینیڈی بھی ہیں جو تربیت مکمل کرنے کے بعد پاکستان کی فارن سروس یا وزارت خارجہ میں خدمات انجام دیں گی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کے مطابق رابیل کینیڈی مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والی ملک کی پہلی خاتون سی ایس ایس افسر ہوں گی جو وزارت خارجہ میں خدمات انجام دیں گی۔

رابیل کینیڈی نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں انتھک محنت کرنے پر آمادہ کرنے والی شخصیت ان کے والد ہیں۔ ’میرے پاپا ایف بی آر میں ڈرائیور ہیں۔ وہ کئی کئی گھنٹے کام کر کے جب شام کو گھر آتے تو ہمیشہ کہتے کہ میں سارا دن اپنے افسروں کے لیے گاڑی کے دروازے کھولتا اور بند کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے یہ کام کریں بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے پڑھیں، خوب پڑھیں، پڑھ لکھ کر افسر بنیں اور ملک و قوم کی خدمت کریں۔‘

رابیل کینیڈی کا کہنا تھا ’یہ وہ الفاظ ہوتے تھے جنھوں نے مجھے کچھ کرنے کا حوصلہ دیا، محنت اور انتھک محنت کرنے پر ابھارا۔ جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔‘

رابیل کینیڈی نے اپنی انتھک محنت کی کہانی بی بی سی کو سنائی ہے۔ آئیے ان کی کہانی انھی کی زبانی سنتے ہیں۔میرے پاپا پڑھے لکھے نہیں ہیں مگر زندگی کے حوالے سے بہت بامقصد ہیں۔ میرا بچپن عام سا تھا مگر مجھے بچپن میں زیادہ کھیل کود کا شوق نہیں تھا اور میری زیادہ دلچسپی پڑھائی کی جانب تھی۔میں نے ہمیشہ تقریری مقابلوں میں حصہ لیا اور انعامات جیتے ہیں۔ میری تقریر کئی سال تک میرے پاپا تیار کیا کرتے تھے۔

جس بھی موضوع پر تقریر ہوتی وہ اس کا خاکہ بناتے، میں اس کو لکھتی اور پھر جب سکول جا کر اساتذہ کو سناتی تو مجھے منتخب کرلیا کرتے تھے۔ میں نے بچپن ہی سے فیصلہ کرلیا تھا کہ مجھے کچھ کرنا ہے۔ بس اسی کے بارے میں ہمیشہ سوچتی رہتی تھی۔

ہم پانچ بہن بھائی ہیں، سب کے سب پڑھ رہے تھے۔ پاپا ہر صورت میں اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے تھے مگر ظاہر ہے کہ معاشی مسائل تھے۔ فیسیں اور دیگر اخراجات بہت زیادہ ہوتے تھے۔ ایسے میں جب میں 18 سال کی تھی اور ایف ایس سی کی تو میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اپنے پاپا کا بازو بننا ہے۔

اس کے لیے میں نے اپنے ہی سکول میں بحیثیت ٹیچر نوکری کے لیے درخواست دی۔ میں نے میٹرک تک تعلیم اسی سکول سے حاصل کی تھی جس پر انھوں نے مجھے منتخب کرلیا۔ آغاز میں مجھے 12 ہزار اور اب مجھے 24 ہزار تنخواہ ملتی ہے۔ میں صبح سے دوپہر دو بجے تک سکول میں فرائض ادا کرتی رہی اور اس کے ساتھ ایک نجی کالج سے پرائیوٹ طور پر اپنی تعلیم جاری رکھی۔

گریجویشن کے بعد ایم ایس سی کرنے کے لیے شام کی کلاسز میں داخلہ لیا۔ اب یہ ایک اور سخت محنت کا دور تھا لیکن میں نے اپنی منزل واضح کرلی تھی کہ مجھے سی ایس ایس کرنا ہے اور عزم تھا کہ ہر صورت میں کرنا ہے۔

میں دوپہر دو بجے تک سکول میں ٹیچنگ کرتی تھی جس کے بعد اڑھائی بجے ایم ایس سی کی کلاسوں کے لیے پہنچنا ہوتا تھا۔ شام کو پانچ سے چھ بجے تک کلاسیں ہوتی تھیں۔

عموماً شام سات بجے تک گھر پہنچتی۔ کھانا وغیرہ کھا کر والدہ، بہن بھائیوں اور پاپا کے ساتھ کچھ دیر بات چیت کرنے کے بعد ایم ایس سی کی تیاری کے علاوہ، سی ایس ایس کی تیاری کرتی تھی۔ جس میں پتا ہی نہیں چلتا تھا اور صبح کے تین، چار بج جاتے۔ اس وقت تھوڑی دیر کے لیے سوتی عموماً یہ سونا زیادہ سے زیادہ چار یا پانچ گھنٹے ہوتا۔ پھر اُٹھ کر سکول کی تیاری کرتی۔

میرے پاپا اور مما میرے لیے اکثر ناشتہ لے کر آتے مگر سکول سے دیر ہو رہی ہوتی تھی تو وہ ناشتہ میں ساتھ لے جاتی۔ کبھی سکول اور کبھی راستے میں ناشتہ کرتی تھی۔

میں نے ایف ایس سی سپیرئیر سائنس کالج سیالکوٹ سے کیا تھا۔ اس دور میں مجھے یاد ہے کہ مجھے دس سے تیس روپے جیب خرچ ملتا تھا۔ ظاہر ہے مجھے اندازہ تھا کہ جس مشکل سے پاپا مجھے یہ جیب خرچ دیتے تھے وہ مجھ سے پوشیدہ نہیں تھا لیکن یقین جانیے کے مجھے کبھی بھی احساس کمتری نہیں ہوا۔

مجھے بچپن سے لے کر اب تک بہت اچھے دوست اور اُستاد ملے جنھوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ سکول اور کالج میں میری مسلمان سہیلیاں میرے ساتھ خوشی سے چیزیں شیئر کیا کرتی تھیں۔

ایک دوست مریم نے تو میرا اتنا ساتھ دیا کہ میں بتا نہیں سکتی ہوں۔ وہ ہر مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑی تھی۔ سکول میں تو استاد میری مدد کرتے ہی تھے، ایف ایس سی کے دوران اور بعد میں بھی میرے اساتذہ نے نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ مدد بھی فراہم کی۔دیکھیں سی ایس ایس کا امتحان مذاق نہیں ہے۔ بالکل بھی نہیں، اس کے لیے تیاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ میں تو صرف محنت کر رہی تھی مجھے تو کچھ پتا نہیں تھا کہ امتحان میں کیا آتا ہے۔ میں تو صبح گھر سے نکلتی تھی شام کو واپسی ہوتی تھی۔ میں پوری طرح پڑھائی اور اپنی ملازمت پر فوکس تھی۔ یہاں تک کہ مجھے تو یہ بھی نہیں یاد کہ کبھی میں نے اپنے لیے کوئی خریداری کی ہو۔یہ خریداری بھی مما کرتی تھیں۔ رات کو مجھے بتا دیا کرتی تھیں کہ میں نے صبح کون سے کپڑے پہننے ہیں۔ وہ میں پہن لیتی تھی۔ ہمارے طبقے میں میری عمر کی بیٹیوں سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ ہم اپنی ماؤں کا گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹائیں۔ میرے پاس تو گھر کا کام کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا تھا جبکہ میری مما اس موقع پر خود سارا کام کرتیں اور مجھے آرام اور پڑھائی کا موقع فراہم کرتی تھیں۔سی ایس ایس کی تیاری کے لیے میرے ایک استاد عرفان صاحب گائیڈ لائن دیا کرتے تھے۔ مجھے بتاتے کہ کیسے تیاری کروں، کون سی کتابیں پڑھوں۔ اس طرح میں نے سی ایس ایس کی تیاری کی تھی۔میں شاید خود ہر طرح سے پرعزم تھی جس وجہ سے قدرت بھی میری مدد کر رہی تھی۔سی ایس ایس کے امتحان کے لیے بہت محنت کی تھی۔ تحریری امتحان دیا تو امید تھی کہ میں پاس ہو جاؤں گی۔ پاپا کو بھی بتا دیا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ پاس ہو جاؤں گی۔ وہی ہوا تو سب سے زیادہ خوش میرے پاپا اور مما تھے۔ پاپا کی خوشی تو بتا نہیں سکتی۔جس دن تحریری امتحان کے نتائج آئے اس دن میرا بھائی باہر تھا۔ اس نے سنا تو دوڑتا دوڑتا آیا اور بتایا کہ نتیجہ آ گیا ہے۔ہم نے ویب سائٹ کھولی تو وہ زیادہ ٹریفک کی وجہ سے کھل نہیں رہی تھی۔ بس ہم سب دعائیں کر رہے تھے۔ اتنے میں فرحان صاحب نے فون کیا اور بتایا کہ میرا نام موجود ہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد ہم نے خود نتیجہ دیکھ لیا۔یقین کریں کہ ہم اتنے خوش، اتنے خوش تھے کہ بتا نہیں سکتے۔ اس موقع پر سب پاپا کو تلاش کر رہے تھے۔ ہم ان کے کمرے کی طرف گئے تو وہ خود کو کمرے میں بند کرکے میرے کامیاب ہونے کی دعائیں کر رہے تھے۔

انھیں کچھ ہوش نہیں تھا۔ کچھ پتا نہیں تھا وہ بس میرے لیے دعائیں کر رہے تھے۔ میں دوڑ کر ان کے پاس گئی اور ان کو بتایا کہ پاپا آپ کی محنت اور دعائیں قبول ہو گئیں۔ میں کامیاب ہو گئی ہوں تو انھوں نے مجھے خوشی سے سینے سے لگا لیا۔

اب انٹرویو کا معاملہ درپیش تھا۔ لیکن اب تو حوصلہ افزائی بھی ہو چکی تھی۔ میرے استاد اور سہلیاں میری حوصلہ افزائی کرتی تھیں کہ میں انٹرویو بھی پاس کر لوں گی۔

مجھے اپنی کامیابی کے بعد اس بات کا یقین ہو گیا کہ جب کوئی بندہ خود محنت کرنا شروع کردے تو پھر قدرت بھی اس کی ایسے مدد کرتی ہے کہ بندہ خود حیران ہو جاتا ہے اور ناممکن ممکن ہو جاتا ہے۔‘

رابیل کینیڈی کے والد جان کینیڈی نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ میں تو خود ایک ڈرائیور ہوں۔ ’میں نے صرف ایک خواب دیکھا۔ اس خواب کے پیچھے کئی سال تک اندھادھند بھاگتا رہا۔ مگر اس خواب کو پورا کرنے کے لیے میری بیٹی رابیل نے بہت محنت کی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں تو ان پڑھ ہوں جب اپنے افسروں کو دیکھتا تو صاف پتا چلتا تھا کہ پڑھے لکھے اور ان پڑھ لوگوں میں کتنا فرق ہوتا ہے، بس یہاں ہی سے خواہش پیدا ہوئی کہ میرے بچے بھی پڑھیں اور خوب پڑھیں۔’رابیل کا دوسرا نمبر ہے۔ میرے بڑے بیٹے جرار نے بھی امتحان دیا ہوا ہے، اس کا نتیجہ بھی آنے والا ہے۔ رابیل بچپن ہی سے مختلف تھی۔ بہت چھوٹی تھی تو اس وقت ہی مجھے لگتا تھا کہ یہ کوئی بچی نہیں بلکہ بہت ہی سمجھدار انسان ہے۔ کبھی کوئی ضد نہیں کی جو میں کہتا توجہ سے سنتی تھی۔‘

جان کینیڈی کا کہنا تھا کہ رابیل نے خود ہی ملازمت شروع کردی، اپنی تنخواہ لا کر اپنی والدہ کو دے دیتی تھی جو گھر کے کاموں اور دیگر بہن بھائیوں پر خرچ کرتی تھیں۔ انھوں نے بتایا ’رابیل نے پڑھائی کے لیے سکالر شپ حاصل کیے تھے جس وجہ سے مجھ پر بوجھ بہت کم ہو گیا تھا۔‘وہ بتاتے ہیں کہ جب رابیل کی قابلیت کے ڈنکے بجنے لگے تو میں اپنے افسروں سے بھی بات کرنے لگا۔ ان سے پوچھنے لگا کہ اب مستقبل میں کیا ہونا چاہیے تو بہت سے افسران نے مدد کی۔ انھوں نے مجھے کہا کہ رابیل کو اب سی ایس ایس کی طرف جانا چاہیے۔جان کینیڈی کا کہنا تھا کہ ’ہم غریب لوگ ہیں۔ ہمارے ہاں جب بچیاں بڑی ہوں تو اس وقت ہی سے ان کے رشتوں کی باتیں گھروں میں شروع ہو جاتی ہیں۔ رابیل کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ ایک دفعہ رابیل سے اس بارے میں بات ہوئی تو اس نے مجھے کہا کہ پاپا میں اس وقت اپنے مقصد کو پورا کرنے کی طرف بڑھ رہی ہوں۔ مجھے تھوڑا وقت دیں کہ شادی سے پہلے اپنا کریئر بنا لوں۔