دھاگے
. تحریر قدسیہ عالم-فرانس
یہ ؟؟ ارے یہ آپ کو کہاں سے ملی ؟؟؟یہ تو میری تصویر ہے … ہے نہیں تھی… اب میری صورت ایسی نہیں …میں نے اپنی صورت اپنی تصویر بدل ڈالی ہے … یہ سب دھاگے اتار پھینکے ہیں… لیکن کچھ عرصہ پہلے تک میں بالکل ایسے ہی دکھتی تھی … میرے اپنوں نے سجا سنوار کر بال بنا کر مجھے گڑیا سا بنا کر میرے اردگرد دھاگے لپیٹنے شروع کر دیئے … محبت کا دھاگہ ، نفرت کا دھاگہ، بھرم کا دھاگہ، انا کا دھاگہ ، معاشرتی اقدار کا دھاگہ ، غفلت کا دھاگہ ، خوش فریبی کا دھاگہ …غرض یہ کہ میرے کان ناک منہ ہر چیز کو باندھ دیا گیا… پر ، پر میری آنکھیں کھلی تھیں اور یہی میرے کام آئیں …
میں ایسی ہی تھی اسی تصویر جیسی … تکلیف کی شدت سے بگڑا ہوا چہرہ ، آنکھوں میں وحشت …میں ایسی تھی نہیں، بنا دی گئی تھی…
میں آپ کو شروع سے اس تصویر کی اور اپنی کہانی سناتی ہوں …تاکہ آپ کو کوئی اسطرح بے یقینی اور لاپرواہی کے دھاگوں میں لپٹی من موہنی صورت والی کوئی لڑکی نظر آئے تو اس کی مدد کر سکیں…
میں بہت سا پڑھنا چاہتی تھی پر FA کے دوران میری جھٹ منگنی اور پٹ شادی ہو گئی …
ہو جاتی ہے بہت سی لڑکیوں کی شادی میری بھی ہو گئی میں اپنے دولہا کا انتظار کر رہی تھی جب وہ میرے جوڑے سے زیادہ لال آنکھوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا، بہکی بہکی چال کے ساتھ پلنگ کے کونے پر ٹک گیا اور وہیں ڈھے سا گیا …دو چار بہکے بہکے جملے بولے اور وہیں آڑا ترچھا ہو کر پڑ گیا … یہ ہوتی ہے سہاگ رات ؟؟؟میرے جوڑے کی چمک دمک میرے ہاتھوں کی لالی میرے آنسوؤں کی دھار میں دھل گئی اور پھر بہت سال یہی کچھ ہوتا رہا…
میرے شوہر میری ساسو ماں کے لاڈلے کا دل ٹوٹا ہوا تھا ان کا خیال تھا میرے جیسی کوئی خوبصورت کم عمر سی لڑکی اس کے دل کے کانچ سمیٹ کر اسے پھر سے نئے جیسا کر دےگی … ایسا ہوا ہے کبھی بھلا ؟؟ نہ ہوا ہے نہ ہو گا… مجرمانہ غفلت کا ایک دھاگہ میری روح پر لپیٹ کر میری روح کو ایک شکنجے میں کس دیا گیا…
امی آئیں ملنے …مجھے کمھلایا ہوا دیکھا محبت کا ایک دھاگہ میرے اردگرد باندھا اور تسلی حوصلہ دے کر چلی گئیں …
میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی کچھ کہنے کے سوچنے سمجھنے کے قابل ہی نہیں تھی … آنکھوں میں جو سپنے سجا کر آئی تھی انکی تعبیر اتنی بھیانک ہو گی سوچا نہ تھا…
شوہر کے دل کے قریب ہونے کی کوشش کی یہی سبق سکھایا جاتا ہے لڑکیوں کو سو عمل کیا پر وہاں سے دھتکار ملی … اسے مجھ سے تو کیا دنیا کی کسی چیز سے دلچسپی نہ تھی ، سسرال والے خاصے خوشحال تھے۔اس لئے اسے کام کرنے کی ضرورت نہ تھی سو دن رات اسی لال پری کے ساتھ گزرتے …کبھی کوئی دوست آدھی رات کو گھر اتار جاتا کبھی ملازم آ کر خبر دیتا صاحب فلاں جگہ گاڑی میں دنیا ما فیہا سے بے خبر پڑے ہیں …
جلدی بچے پیدا کر لو بچےہوں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا …دھوکے اور خوش فریبی کا ایک اور دھاگہ کس کر باندھا گیا دو بچے بھی ہو گئے پر میرے شوہر کے طور اطوار نہ بدلے…
جھوٹے دلاسوں کے دھاگے میرا دم گھٹنے کا باعث بن رہے تھے میں سانس نہیں لے پاتی تھی پر میں جی رہی تھی … کئی دفعہ مدد کے لئے والدین کی طرف دیکھا وہاں دکھ تھا میرے غم کا ادراک بھی تھا نہ تھا تو مدد کا کوئی اشارہ نہ تھا… وہ معاشرتی دباؤ کے دھاگوں میں بندھے تھے … وقت گزر تا جا رہا تھا… مجھے اپنے بچوں کے لئے نمونہ بننا تھا اورپھر میں نے خود ایک قدم اٹھایا گھر والوں کی اجازت سےتعلیم کا سلسلہ شروع کیا جہاں سے اس شادی کے وقت منقطع ہوا تھا…پھر میں نے ایک ایک کر کے اپنے اردگرد سے جھوٹ کے بنے ہر دھاگے کو اتار پھینکا، کانوں پر سے طفل تسلی کا ، لبوں سے جھوٹی شرم و حیا کااورناک سے معاشرتی انا کا دھاگہ سب اتار پھینکا …۔
خود پڑھا تاکہ اپنے بچوں کو پڑھا سکوں اور اعتماد دے سکوں اب اپنے بچوں کو وہ کچھ بھی میں سکھا رہی تھی جوایک باپ ہی سکھا سکتا تھا… وہ بیچارے باپ کے ہوتے ہوئے بھی محروم تھے … میں ان کی کمی پوری کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ……میری زندگی کا مقصد انہیں زمہ دار انسان بنانا رہ گیا تھا…
میرے شوہر کی عادات سےمیری ساس اور سسر دونوں کو پوری آگاہی تھی اورمیرے والدین کو کچھ کچھ اندازہ تھا پر اس فرسودہ سوچ نے کہ شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا مجھے اس مردہ رشتے کے دھاگے میں باندھا تھا … رشتہ مردہ تھا میرے پاس کوئی معجزہ نہیں تھا کہ اس کو زندگی بخش دیتی معجزے عام نہیں ہوتے،… اس مردہ رشتے میں روح پھونکنے کسی مسیحا کی آمد متوقع نہیں تھی ……مجھے راستہ بدل لینا چاہئے تھامیں اس کی ہمت نہ رکھتی تھی کسی طرف سے مدد کا کوئی اشارہ بھی نہ تھا میں نے اپنی صلیب خود اٹھائی اور موت سے زندگی کی طرف آبلہ پا چلنا شروع کیا……وہ سانسیں قید کرنے والے دھاگے اتار پھینکے اور وہیں رہ کر سر اٹھا کر جینا سیکھ لیا۔


