تاریخشخصیاتگوشۂ ادب

بانو قدسیہ – اردو ادب کا درخشاں ستارہ (قسط دوم)

بانو قدسیہ خوبصورت اور دھیمے لب و لہجے کی مالک تھیں۔ اپنے شوہر اشفاق احمد کی شریک قلم بھی رہیں، دونوں نے ریڈیو کے لیے لکھا، ٹی وی کے آ جانے کے بعد پی ٹی وی نے ان پر قبضہ کر لیا اور وہ دونوں ٹی وی ڈراموں کے ہی ہو کر رہ گئے۔ ایک کا ڈرامہ ختم ہوتا تو دوسرے کا شروع ہو جاتا۔ بانو قدسیہ کا پہلا ٹی وی ڈرامہ ’سدھراں‘ تھا، طویل ڈراموں میں دھوپ جلی، خانہ بدوش، کلو اور پیا نام کا دیا شامل ہیں۔ 1981 میں بانو قدسیہ کا ناول ’راجہ گدھ‘ شائع ہوا جس نے انہیں ناول نگاری کی بلندیوں پر لا کھڑا کیا اور یہ ناول بانو قدسیہ کی شناخت بن گیا اور ہمیشہ رہے گا۔ ان کے ناولوں کی تعداد 27 ہے، جب کہ ڈرامے اور بے شمار افسانے شائع ہوئے۔ ان تصانیف میں آبِ حیات، آتش زیر یا، آدھی بات، آسے پاسے، امربیل، ایک دن، باز گشت، بحرانوں کے درمیاں، پروا، پھر اچانک یوں ہوا، پیا نام کا دریا، تماثیل، توجہ کی طالب، چہار چمن، چھوٹا شہر بڑے لوگ، حوا کے نام، دست بستہ، دوسرا دروازہ، دوسرا قدم، راجہ گدھ، راہ رواں، سامان وجود، سورج مکھی، سدھراں، شہر بے مثال، شہر لازوال آباد، حاصل گھاٹ، فٹ پاتھ کی گھانس، کچھ اور نہیں، لگن اپنی اپنی، مادھو لال حسین (ناول)، مردِ ابریشم، موم کی گلیاں، نا قابل ذکر اور ہجرتوں کے درمیاں شامل ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے بانو قدسیہ کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں ستارہ امتیاز اور 2010 میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔

بانو قدسیہ کے ناول ’راجہ گدھ‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ یہ ناول اس قدر مشہور ہوا کہ ہر جانب اسی ناول کی دھوم سنائی دی۔ اس ناول کو اردو کے بہترین ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بہترین ناول اور بھی ہیں جنہیں ادب میں آج بھی پسندیدہ ترین ناول تصور کیا جاتا ہے ان میں مولوی نذیر احمد کا ’فسانہ آزاد‘، مرزا ہادی سودا کا ’امراؤ جانِ ادا‘، منشی پریم چند کا ’گؤ دان‘، قراة العین حیدر کا ’آگ کا دریا‘، عبد اللہ حسین کا ’اداس نسلیں‘، خدیجہ مستور کا ’آنگن‘، شوکت صدیقی کا ’خدا کی بستی‘، انتظار حسین کا ’آگے سمندر ہے‘۔ اشفاق احمد کا ’گڈریا‘ شامل ہیں۔ راجہ گدھ سے مراد ہے گدھ کا راج، ناول کی کہانی میں ایسے لوگوں اور ایسے پہلوؤں سے پردہ اٹھا یا گیا ہے جو در حقیقت گدھ کا راج بنے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں میں اچھے اور برے کی تمیز باقی نہیں رہی، حلال اور حرام میں تمیز کرنا ان کے بس کی بات نہیں رہی، مردار کھانے اور مردار کھلانے میں انہیں زرہ برابر خوف نہیں ہوتا۔ یہ ناول ہمارے معاشرے کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ اس ناول موضوع یا پلاٹ بانو قدسیہ کو اس طرح ملا کہ اس نے اپنے گھر میں کام کاج کے لیے ایک لڑکا ملازم رکھا جو مذہب کے اعتبار سے ہندو تھا۔

ایک دن اس بچے نے بانو سے پوچھا کہ اسلام میں ایسی کونسی خوبی یا نیا پن ہے جو دوسرے مذہب میں نہیں۔ بانو قدسیہ نے بچے کو جواب تو دیا لیکن نہ تو بچے کی تسلی ہوئی اور بانو بھی اس الجھن میں پڑ گئی کہ اس بچے کے سوال کا مطمئن بخش جواب کس طرح دیا جا سکتا ہے کہ وہ مطمئن ہو جائے۔ چنانچہ بانو قدسیہ کی سوچ کا دھارا اسلام میں حلال اور حرام کی جانب مرکوز ہوا۔ کیونکہ حرام اور حلال کا جو دو ٹوک فلسفہ اسلام میں پایا جاتا ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں یا اس قدر شدت کسی دیگر مذہب میں نہیں پائی جاتی۔ چنانچہ بانو قدسیہ نے اِسی موضوع کو اپنے ناول کا موضوع بنایا، ساتھ ہی اسے لاہور کی ثقافت و معاشرت سے بھی نتھی کرتے ہوئے راجہ گدھ تخلیق کیا۔ راجہ گدھ کے توسط سے ناول نگار یہ پیغام دینے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے کہ رزق حرام ایک نسل تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ کینسر کے مرض کی مانند آنے والی نسل میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس ناول کے پیچھے اشفاق احمد کی سوچ اور عمل شامل ہونے کی آواز بلند کی جسے اشفاق احمد نے اپنے زندگی میں بہت واضح الفاظ میں رد کیا اور کہا کہ یہ ناول صرف اور صرف بانو قدسیہ کے ذہن کی تخلیق ہے، البتہ اشفاق احمد کو بانو قدسیہ کے تمام ناولوں میں راجہ گدھ زیادہ پسند تھا اسی طرح بانو قدسیہ کو اشفاق احمد کا ’’گڈریا‘‘ پسند تھا۔

دونوں میاں بیوی لکھاریوں نے اپنے خون پسینے کی حلال کمائی سے لاہور کے قدیم علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک گھر تعمیرکیاجس کا نام اشفاق احمد نے ’’داستان سرائے‘‘ رکھا۔ اس سے قبل وہ لاہور کے علاوه سمن آباد میں رہائش رکھتے تھے۔ اب ’داستان سرائے‘ میں دونوں لکھاریوں کی یادیں اور داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ داستان سرائے کے دونوں مکین اپنی اس محبوب سرائے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہہ کر لاہور کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں ابدی نیند سو چکے لیکن داستان سرائے کے در و دیوار آج بھی اپنے بنانے اور آباد کرنے والے والے محسنوں کو نہیں بھولے، داستان سرائے جانے والوں کو اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی مدھر مدھر گفتگو، میٹھے اور پنجابی ملے اردو کے جملے سنائی دیتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ داستان سرائے کے اصل وارث یہی کہیں کسی کونے سے نکل آئیں گے اور یہاں آئے اپنے مہمانوں سے ہم کلام ہو جائیں گے۔ دونوں بلا کے مہمان نواز، مہمان نوازی میں ایک سیر تو دوسرا سوا سیر۔ رکھ رکھاؤ والے تھے، گھر آئے ہر ایک کی خدمت کرنا گویا ان کے فرائض میں شامل تھا اور خوشی کے ساتھ۔ بقول الطاف حسین حالیؔ

ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا

خاکساری اپنی کام آئی بہت

بانو قدسیہ اور اشفاق احمد خان کو اللہ نے تین بیٹوں سے نوازا، انیق احمد خان ڈاکٹر ہیں، انیس احمد خان کاروبار اور اثیر احمد خان بنک میں ملازمت کرتے ہیں۔ اثیر احمد خان نے اپنی والدہ بانو قدسیہ کے انتقال پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب میرے والد اشفاق احمد خان کا انتقال ہوا تھا تو گویا اس وقت میری والدہ بانو قدسیہ انتقال کر گئیں تھیں اور اب جب کہ میری والدہ حقیقی معنوں میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں ہیں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ اب میرے والد اس دنیا میں نہیں رہے۔ اثیر احمد خان کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کو اشفاق احمد خان سے بے حد محبت اور وہ ان کا حد درجہ احترام کیا کرتی تھیں ان کی جانب سے ہم بھائیوں کو سخت تاکید تھی کہ خبر دار اپنے باپ کے سامنے بلند آواز سے بات بھی نہ کرنا گستاخی تو بہت دور کی بات ہے۔ اثیر احمد خان نے یہ بھی بتایا کہ میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد میری والدہ ہر جمعرات کو والد صاحب کی قبر پر جایا کرتی تھیں۔ ایسا بھی ہوا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی لیکن وہ والد صاحب کی قبر پر ہر صورت میں جایا کرتیں۔ ایک بار جب وہ اپنے بڑے بیٹے کے ہمراہ ابا کی قبر پر فاتحہ پڑھ رہیں تھیں اس وقت انہوں نے انیق احمد خان سے کہا کہ بیٹا جب میں مر جاؤں تو میری قبر اپنے ابا کے قدموں میں بنوانا۔ یہ گھڑی بانو قدسیہ کی دعا کی قبولیت کی گھڑی تھی۔ اللہ نے ان کی یہ خواہش پوری کی، انہیں لاہور کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں اپنے شوہر اشفاق احمد خان کے پہلو میں ہی جگہ ملی۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھیں، لاہور کے ایک اسپتال میں زیر علاج رہیں۔ ان کے انتقال سے دنیائے ادب سے تعلق رکھنے والی برادری عظیم ناول نگار اور کہانی نویس سے محروم ہو گئی۔ بانو قدسیہ کی وفات ملک اور ادبی حلقوں کے لیے نقصان عظیم ہے۔ وہ اردو ادب کا قیمتی اثاثہ تھیں۔ پروردگار ان کی مغفرت فرمائے ؎

ہر آن بڑھتا ہی جاتا ہے، رفتگاں کا ہجوم

ہوا نے دیکھ لیے ہیں چراغ سب میرے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *