//درس القرآن و حدیث ماہ جولائی ۲۰۲۰
quran

درس القرآن و حدیث ماہ جولائی ۲۰۲۰

۔

اِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلَ مِنَّیْ ج اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ فَلَمَّا وَضَعَتْھَا قَالَتْ رَبِّ اَنِّیْ وَضَعْتُھَا اُنْثٰی ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ط وَ لَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی ج  وَاِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْٓ اُعِیْذُھَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔ فَتَقَبَّلَھَا رَبُّھَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْبَتَھَا نَبَاتًا حَسَنًا لا وَّ کَفَّلَھَا زَکَرِیَّا ج ط کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْھَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ لا وَجَدَ عَنْدَھَا رِزْقًا ج قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذَا ط قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔ (سورة اٰل عمران آیت 36 تا 38)

ترجمہ

  جب عمران کی ایک عورت نے کہا۔ اے میرے رب ! جو کچھ بھی پیٹ میں ہے یقینا وہ میں نے تیری نذر کردیا (دنیا کے جھمیلوں سے )آزاد کرتے ہوئے۔ پس تو مجھ سے قبول کرلے۔ یقینا تو ہی بہت سننے والا (اور ) بہت جاننے والا ہے۔ پس جب اس نے اسے جنم دیا تو اس نے کہا : اے میرے رب ! میں نے تو بچی کو جنم دیا ہے جبکہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس چیز کو جنم دیا تھا اور نر مادہ کی طرح نہیں ہوتا اور (اس عمران کی عورت نے کہا) یقینا میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے ، اور میں اسے اور اس کی نسل کو راندئہ درگاہ شیطان سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ پس اس کے رب نے اسے ایک حسین قبولیت کے ساتھ قبول کر لیا اور اس کی احسن رنگ میں نشو نما کی اور زکریا اس کا کفیل ٹھہرایا ۔ جب کبھی بھی زکریا اس کے پاس محراب میں داخل ہوا تو اس نے اس کے پاس کوئی رزق پایا۔ اس نے کہا۔ اے مریم ! تیرے پاس یہ کہاں سے آتا ہے ؟ اس نے (جواباً) کہا یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یقینا اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔

تشریح

  جب عمران کی عورت نے اپنے ہاں پیدا ہنے والی بچی (حضرت مریم) کے بارہ میں کہا کہ یہ تو لڑکی ہے حالانکہ میں نے خدا تعالیٰ سے لڑکا مانگا تھا تو اللہ تعالیٰ جواباً فرماتا ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی الگ الگ ہوتے ہیں مگر یہ بچی جو تمہیں اطا کی گئی ہے یہ عام لڑکیوں کی طرح نہیں بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھ دی ہے کہ بغیر ازدواجی تعلقات کے اس کا بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔

(حضرت مرزا طاہر احمد صاحب)

بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ مریمؑ کی والدہ عمران کی بیوی نہ تھی۔ یہ غلط ہے۔ یہودیوں ، عیسائیوں میں بزرگوں کے نام پر قوم چلتی ہے۔ موسٰیؑ اور ہارونؑ عمران کے بیٹے تھے۔ پس انہی کی نسل میں سے ایک عورت تھی جس کا یہ ذکر ہے۔

امْرَأَتُ عِمْرَانَ:  عمرانیوں کی ایک عورت نے۔ عمران خاوند اور اس کی بی بی مراد نہیں۔

مُحَرَّرًا :  اب تک ہندوئوں میں اور بعض مسلمانوں میں یہ رسم ہے کہ اگر کسی کی اولاد زندہ نہ رہے تو وہ چڑھا دیتا ہے۔ گویا اس پاک رسم کی اصل موجود ہے۔ وہ کسی خانقاہ کے نام پر تو نہ تھی البتہ فرمایا کہ یا اللہ میں نے اپنے کام سے آزاد کردیا۔ دین کے لئے وقف کردیا۔

وَضَعْتُھَا اُنْثٰی  :  یہ اس لئے کہا کہ لڑکی کا رواج نہ تھا۔

لَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی  :  اگر یہ خدا کا کلام ہے تو پیشگوئی ہے کہ یہ لڑکی معمولی عورتوں سے بہت اچھی ہوگی۔ اگر اس میں عورت کا کلام ہے تو معنے ظاہر ہیں۔

اللہ نے فرمایا کہ لڑکا اس لڑکی جیسا نہ ہوتا۔

وَ اِنِّیْٓ اُعِیْذُھَا بِکَ :  کیا اچھا ہو کہ مسلمان اس ہدایت پر عمل کریں اور صحبت سے پہلے بہت بہت دعائیں کر لیا کریں کہ ان کی اولاد نیک ہو۔

وَ کَفَّلَھَا زَکَرِیَّا :  یہ اس لئے فرمایا کہ تا بتائے کہ یہ تمام گھرانہ پاکوں کا ہے جس کی عورتیں اور مرد انعامات الٰہی سے مشرف تھے۔

وَجَدَ عَنْدَھَا رِزْقًا :  بہت معمولی بات ہے مگر مفسرین کی عجوبہ پسند طبیعت نے بے موسمی میوے کھائے۔ یہ خواہ مخواہ کی زیادة علی القرآن ہے۔

قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ :  یہ واقعہ صرف اللہ تعالیٰ نے اس لئے بیان کیا کہ تا ظاہر ہو کہ اس خاندان کے بچے بھی کیسے خدا پرست تھے کہ وہ معمولی چیزیں بھی جب پاتے تو توحید میں ایسے مستغرق تھے کہ یہی کہتے کہ خدا نے دیا ہے۔

(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ نمبر 65تا 67)