غزل ۔ ۔ ۔ دیا جیم
شاعرہ: دیا جیم
چراغ دل ضوفشاں ہوا ہے
وہ اشک بن کر بیاں ہوا ہے
خوشی کے دکھ بھی الگ سے دکھ ہیں
غموں کا بھی امتحاں ہوا ہے
وہ ایک لمحہ تری نظر کا
مری دعا کا نشاں ہوا ہے
نہ پوچھ اہل وفا کی حالت
ہر ایک چہرہ دھواں ہوا ہے
کہیں دریچوں پہ شام اتری
کہیں سحر کا گماں ہوا ہے
جو راز برسوں تھا دل میں پنہاں
وہ آج سب پر عیاں ہوا ہے
تری محبت کے فیض سے اب
ہر ایک موسم جواں ہوا ہے
وفا کی راہوں پہ چلتے چلتے
وجود میرا نشاں ہوا ہے
دیا جلایا ہے جس نے سکھ کا
وہی زمانے کی جاں ہوا ہے


