اعتکاف اجر و ثواب اور عظیم فوائد
معتکف یعنی اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی حالت میں بہت سی برائیوں مثلاً غیبت، چغلی، بری بات کرنے، سننے اور دیکھنے سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
عبادت میں فرائض سے بڑا مرتبہ کسی عبادت کا نہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اعتکاف فرض نہ ہونے کے باوجود اسلام کی ایک اہم عبادت ہے۔ نماز میں اللہ کا بندہ آقا کی بار گاہ میں کبھی قیام کرتا ہے، کبھی رکوع و سجود، زکوٰۃ میں اپنی کمائی کاکچھ حصہ محض اللہ کے حکم پر اس کے بتائے ہوئے مواقع پر خرچ کرتا ہے۔ روزہ میں خالق کے مطالبہ پر فطری خواہشات سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے۔ حج میں ایک عاشق از خود رفتہ کی طرح لباس اور وضع و قطع سے بے پروا اور دنیا سے بے گانہ ہو کر والہانہ انداز میں مقامات مقدسہ کے چکر لگاتا ہے لیکن اعتکاف کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بندہ کچھ دنوں کے لئے تمام دنیوی رشتوں اور تعلقات سے آزاد ہو کر اپنے آپ کو اس مقام پر ڈال دیتا ہے جسے بیت اللہ یا اللہ کا گھر اور مسجد کہا جاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ کسی کے سامنے اپنی حاجت مندی کے اظہار کا اس سے بہتر اور موثر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا کہ حاجت مند اپنے آپ کو حاجت روا کے در پر ڈال دے اور نہ عشق و محبت میں از خود رفتہ ہو جانے کے اظہار کی اس سے بہتر کوئی صورت ہے کہ عاشق اپنے معشوق و محبوب کے در کا غلام بن جائے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جس نے اعتکاف کو یہ اہمیت عطا کی ہے۔ خلوص دل کے ساتھ اعتکاف کرنے والے کے دل کی کتنی سچی تعبیر کی ہے۔
اعتکاف کے معنی ٹھہرنے، کسی چیز پر جمے رہنے، نیز روکے رکھنے کے آتے ہیں۔ قرآن مجید میں لفظ عکوف کا استعمال دونوں معانی میں ملتا ہے۔اصطلاحی شرح میں اعتکاف کے معنی ہیں جس مسجد میں پانچ وقت باجماعت نماز ہوتی ہو اس میں اعتکاف کی نیت سے ٹھہرنا اور اقامت اختیار کرنا، چونکہ بندہ اس عمل میں اپنے آپ کو اللہ کے گھر میں روک دیتا ہے اور مسجد میں جم کر بیٹھا رہتا ہے اس لئے اسے اعتکاف کہتے ہیں۔ اعتکاف کا رُکن ٹھہرنا ہے اور اس کی شرط خاص مسجد کا ہونا اور نیت اعتکاف کا ہونا ہے۔اعتکاف کی مشروعیت کتاب و سنت اور عقل و نقل دونوں سے ثابت ہے۔ قرآن مجید میں اعتکاف کا ذکر ہے اور احادیث میں آتا ہے کہ مدینہ منور تشریف لانے کے بعد حضور اکرم ﷺ پابندی سے رمضان لمبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ اعتکاف کی ایک اہم فضیلت یہ ہے کہ یہ عبادت پچھلی امتوں اور شریعتوں میں بھی موجود تھی۔ چنانچہ طحطاوی میں مذکور ہے ’’اعتکاف شرائع قدیمہ سے ثابت ہے،دلیل میں باری تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کو حکم فرمایا کہ بیت اللہ کو طواف کرنے والوں اور اس میں اعتکاف کرنے والوں کیلئے صاف رکھیں۔(البقرہ 125)۔
اعتکاف کی ایک بڑی غرض وغایت شبِ قدر کی تلاش وجستجو ہے اور درحقیقت اعتکاف ہی اس کی تلاش اور اس کو پانے کے لیے بہت مناسب ہے، کیونکہ حالت اعتکاف میں اگر آدمی سویا ہوا بھی ہو تب بھی وہ عبادت وبندگی میں شمار ہوتا ہے۔ نیز اعتکاف میں چونکہ عبادت وریاضت اور ذکروفکر کے علاوہ اور کوئی کام نہیں رہے گا، لہٰذا شب قدر کے قدردانوں کے لیے اعتکاف ہی سب سے بہترین صورت ہے۔ شب قدرجس کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ہے اس کی بابت گمان غالب یہی ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے اور اعتکاف جس میں آدمی پورا وقت عبادت میں صرف کرتا ہے اس اہم رات کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ احادیث پاک میں بکثرت اس کے فضائل مروی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ(اعتکاف کی وجہ سے اور مسجد میں قیام کرنے کی وجہ سے)گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کا نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندہ کی طرح جاری رہتا ہے اور نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔(سنن ابن ماجہ)
علماء نے مختلف مواقع پر اعتکاف کے محاسن بیان فرمائے ہیں۔ اعتکاف کے محاسن لاتعداد ہیں، اس میں بندہ اپنے دل کو امور دنیویہ سے بالکل فارغ کر لیتا ہے اور یکسو ہو کر عبادت کی طرف متوجہ رہتا ہے۔بندہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے کہ اس کے درپر پڑا رہ کر اس کے رحم و کرم کا منتظر رہتا ہے اور اللہ کے گھر یعنی مسجد کی چار دیواری میں خود کو محصور کر کے دن رات اس کی عبادت و اطاعت کی بجا آوری میں لگا رہتا ہے اور اس طرح اپنے دشمن شیطان کے چنگل سے محفوظ رہتا ہے اور قاعدہ ہے کہ جب رعایا بادشاہ کے حضور حاضر رہ کر اس کے احکام کی بجا آوری کرے تو بادشاہ لا محالہ متوجہ ہو کر جود و کرم کی بارش برساتا ہے۔ دراصل معتکف اس شخص کے مانند ہے جو اپنی کسی ضرورت کے تحت کسی بڑے آدمی کے دروازے پر جس سے حاجت روائی کی توقع ہوتی ہے پڑا رہتا ہے اور گویا زبانِ حال سے یہ کہتا رہتا ہے کہ اپنے آقا کے در سے اس وقت تک نہیں جائوں گا جب تک میرے گناہوں اور لغزشوں کو معاف کرکے مجھ پر رحم و کرم کی بارش اور الطاف و انعام کی بارش نہ ہو گی۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس شخص نے رمضان المبارک میں آخری دس دنوں کا اعتکاف کیا تو گویا کہ اس نے دو حج اور دو عمرے ادا کیے ہوں۔ (شعب الایمان)۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معتکف (اعتکاف کرنے والے) کے بارے میں فرمایا کہ وہ گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیاں اس کے واسطے جاری کردی جاتی ہیں، اس شخص کی طرح جو یہ تمام نیکیاں کرتا ہو۔ (سنن ابن ماجہ، مشکوٰۃ)۔ اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ معتکف یعنی اعتکاف کرنے والا، اعتکاف کی حالت میں بہت سی برائیوں اور گناہوں مثلاً غیبت، چغلی، بری بات کرنے، سننے اور دیکھنے سے خودبخود محفوظ ہوجاتا ہے، ہاں البتہ اب وہ اعتکاف کی وجہ سے کچھ نیکیاں نہیں کرسکتا، مثلاً نمازِجنازہ ، بیمار کی عیادت ومزاج پرسی اور ماں باپ واہل وعیال کی دیکھ بھال وغیرہ۔ اگرچہ وہ ان نیکیوں کو انجام نہیں دے سکتا لیکن اللہ تعالیٰ اسے یہ نیکیاں کیے بغیر ہی ان تمام کا اجرو ثواب عطا فرمائے گا، کیوںکہ معتکف اللہ کے پیارے رسول ﷺکی سنت مبارکہ ادا کررہا ہے جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی اطاعت وفرماںبرداری ہے۔
یوں تو شریعت نے کسی پر اعتکاف واجب نہیں کیا ہے لیکن کوئی خود اپنے اوپر واجب کرے یعنی اعتکاف کی منت مانے مثلاً یہ کہے کہ میں اللہ کیلئے ایک ماہ کا اعتکاف کروں یا یہ کہے کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا میں اتنے دنوں کا اعتکاف کروں گا تو اس پر اتنے دن کا اعتکاف واجب ہو جائے گا۔رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف مسنون ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اس کا پابندی سے اہتمام فرمایا اور آپؐ نے اس کے فضائل بھی بیان فرمائے ۔نفلی اعتکاف کے لئے کسی وقت کی تجدید نہیں ہے بلکہ جب چاہے جتنے وقت کیلئے چاہے نفلی اعتکاف کر سکتا ہے۔
اعتکاف اور مسجد:حضور اقدس ﷺ کا ارشاد مروی ہے ’’اعتکاف صرف مسجد میں ہو سکتا ہے۔اس لئے مردوں کیلئے مسجد میں اعتکاف لازم ہے ۔ اگر مسجد میں اعتکاف نہ کریں تو اعتکاف نہ ہوگا۔
اعتکاف کیلئے افضل مقام:نماز پر ملنے والے ثواب کے اعتبار سے مساجد میں باہم جو افضلیت ہے اس کے پیش نظر اعتکاف کیلئے افضل اور غیر افضل مقام کی فقہاء نے تعین کی ہے ،چنانچہ سب سے افضل مقام مسجد
حرام ہے اس لئے کہ اس میں مشہور روایت کے مطابق ہر نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ملتا ہے۔ دوسرا درجہ مسجد نبویﷺ کا ہے کہ اس میں ہر نماز کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ملتا ہے۔ تیسرا درجہ مسجد اقصیٰ کا ہے کہ اس میں ہر نماز کا ثواب پچیس ہزار نمازوں کے برابر ملتا ہے اور چوتھا درجہ مقامی جامع مسجد کا ہے کہ اس میں ہر نماز کا ثواب پانچ سو نمازوں کے برابر ملتا ہے اور اس کے بعد محلے کی مسجد کا درجہ ہے۔ پھر جس مسجد میں نماز ی زیادہ ہوں اس کا درجہ ہے۔
نیز یہ کہ حضور اقدس ﷺ کی حیات طیبہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجد حرام کی افضلیت معلوم ہونے کے باوجود مسجد نبوی میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح اگر کسی شخص سے تدریس و تعلیم اور ارشاد و اصلاح کا سلسلہ جاری ہو اور اس سلسلے کو جاری رکھنے کی غرض سے مقامی مسجد کے بجائے جہاں اس کا فائدہ زیادہ ہو وہاں اعتکاف کرے تو اس کا یہ اعتکاف یقیناً اولیٰ و افضل ہوگا، اس لئے کہ جو عبادت دوسروں کے حق میں بھی مفید ہو وہ اس عبادت سے بدرجہا افضل ہے جس میں صرف عبادت گزار کا فائدہ ہوگا۔جس مسجد میں اعتکاف کیا جائے اسی میں پورا کرنا چاہئے۔ بلا ضرورت دوسری مسجد میں منتقل ہونا بہتر نہیں، اس لئے کہ شریعت کا حکم ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی مسجد میں اعتکاف کرے جس میں جمعہ نہیں ہوتا، پھر جمعۃ المبارک کیلئے جامع مسجد جائے اور وہیں رہ جائے یا نماز کے بعد دیر تک ٹھہرا رہے تو مکروہ ہے، ہاں جس مسجد میں معتکف ہے اُس کے جس گوشے میں چاہے جائے یا اٹھے بیٹھے کوئی ممانعت نہیں ہے۔
بشکریہ: دنیا میگزین
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


