اسلامی تعلیمات

آنحضرت ﷺ کا توکل علی اللہ

تحریر۔ امتہ الباری ناصر
اللہ تعالیٰ انبیائے کرام علیھم السلام کے سپرد ایسا مشکل کام کرتا ہے جو اس ذات بابر کات پر کامل بھروسے اور توکل کے بغیر شروع ہی نہیں ہوسکتا۔ خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت پر ان کو ایسا اعلیٰ درجے کا یقین ہوتا ہے کہ وہ پورے وثوق سے دعوت الی اللہ کرتے ہیں اور مخالفین کو پوری تحدی سے اپنی کامیابی کے دعوے سناتے ہیں اللہ پاک اپنے وعدوں اور عمل سے یہ حوصلہ بڑھاتا رہتا ہے

یٰقَومِ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکُمۡ مَّقَامِیۡ وَتَذۡکِیۡرِیۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡتُ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَکُمۡ وَشُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ لَا یَکُنۡ اَمۡرُکُمۡ عَلَیۡکُمۡ غُمَّۃً ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَیَّ وَلَا تُنۡظِرُوۡنِ

(یونس: 72)

اے میری قوم! اگر تم پر میرا مؤقف اور اللہ کے نشانات کے ذریعہ نصیحت کرنا شاق گزرتا ہے تو میں تو اللہ ہی پر توکل کرتا ہوں۔ پس تم اپنی تمام طاقت اکٹھی کر لو اور اپنے شرکاء کو بھی۔ پھر اپنی طاقت پر تمہیں کوئی اشتباہ نہ رہے پھر کر گزرو جو مجھ سے کرنا ہے اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَ قَدۡ ہَدٰٮنَا سُبُلَنَاؕ وَ لَنَصۡبِرَنَّ عَلٰی مَاۤ اٰذَیۡتُمُوۡنَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ

(ابرا ہیم: 13)

اور ہم کیوں نہ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔ حالانکہ اس نے ہمیں ہمارے (مناسب حال) راستے ہمیں دکھائے ہیں اور جو تم نے ہمیں تکلیفیں دی ہیں ہم ضرور ان پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔

وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا

اور اللہ پر توکل کر اور اللہ ہی کارساز کے طور پر کافی ہے۔

(الاحزاب: 4)

أَلَیْسَ اللّٰهُ بِکَافٍ عَبْدَهٗ

(الزمر: 37)

کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟

اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَیَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ

(المؤمن: 52)

یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور اُن کی جو ایمان لائے اِس دنیا کی زندگی میں بھی مدد کریں گے اور اُس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔

وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ

(الطلاق: 4)

اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو وہ (اس کی مدد اور حفاظت) کے لیے کافی ہے۔

قُلۡ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَاِلَیۡہِ مَتَابِ

(الرعد: 31)

تو کہہ دے وہ میرا ربّ ہے کوئی معبود اس کے سوا نہیں، اسی پرمَیں توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف میرا عاجزانہ جھکنا ہے۔

پس یہ آپؐ کے توکّل کی قرآنی گواہی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ اعلان کرنے کے لئے کہہ رہا ہے کہ مَیں جو تیرے دل کا بھی حال جانتا ہوں، مَیں یہ کہتا ہوں کہ اعلان کر دے کہ تو نے ہمیشہ مجھ پر توکّل کیا ہے۔

(بخاری کتاب البیوع باب کراھیۃ السخب فی السوق)

اللہ تعالیٰ نے آپؐ کا ایک نام متوکل رکھا۔ حضرت محمد عربی ﷺ اللہ تعالیٰ کی منشا کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے اور سب سے زیادہ عمل کرنے والے تھے آپؐ کی ساری زندگی توکل علی اللہ کے بے نظیر نمونوں سے بھری پڑی ہے۔ سارا بھروسہ، یقین اور توکل قادرو توانا اللہ تعالیٰ کی ذات پر تھا۔ زندگی میں کئی صبر آزما مقامات آئے مگر آپؐ نے توکل علی اللہ کے بہترین نمونے دکھائے آپؐ اپنی طرف سے صدقِ دل سے کوشش کرتے تھے اور پھر کام کے انجام کو خالقِ حقیقی کے سپرد کردیتے اور کامیابی کیلئے دعا میں لگ جاتے۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ آنحضور ﷺ کے توکل کے بارے میں فرماتے ہیں:
خدا تعالیٰ پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑدے بلکہ یہ معنے ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خداتعالیٰ پر چھوڑے اس کا نام توکل ہے۔ اگر وہ تدبیر نہیں کرتا اور صرف توکل کرتا ہے تو اس کا توکل پھوکا ہوگا اور اگر نری تدبیر کر کے اس پر بھروسہ کرتا ہے۔ اور خداتعالیٰ پر توکل نہیں ہے۔ تو وہ تدبیر بھی پھوکی ہوگی۔ ایک شخص اونٹ پر سوار تھا۔ آنحضرت ﷺکو اس نے دیکھا۔ تعظیم کے لئے نیچے اترا اور ارادہ کیا کہ توکل کرے اور تدبیر نہ کرے۔ چنانچہ اس نے اونٹ کا گھٹنا نہ باندھا۔ جب رسول اللہ ﷺ سے مل کر آیا تو دیکھا کہ اونٹ نہیں ہے۔ واپس آکر آنحضرت ﷺ سے شکایت کی کہ میں نے توکل کیا تھا لیکن میرا اونٹ جاتا رہا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تو نے غلطی کی۔ پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھتا، پھر توکل کرتا تو ٹھیک ہوتا۔

(ملفوظات جلد3 صفحہ566 ایڈیشن1988ء)

حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے اپنا سر اٹھا کر نظر کی تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دیکھے اس پر میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر کوئی نظر نیچی کرے گا۔ تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا:اے ابو بکرڈرومت۔ ہم دو ہیں ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے۔

(بخاری کتاب المناقب باب ہجرۃ النبیؐ)

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
’’اللہ اللہ کیا توکل ہے۔ دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنا نزدیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپؐ کو خدا تعالیٰ پر ایسایقین ہے کہ باوجود سب اسباب مخالف کے جمع ہوجانے کے آپ یہی فرماتے ہیں کہ یہ کیوں کر ہوسکتا ہے خدا تو ہمارے ساتھ ہے پھر وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں؟‘‘

(سیرۃ النبیؐ صفحہ94)

اللہ، اللہ، اللہ

ایک غزوہ سے واپسی کے موقع پر آرام کی غرض سے آپؐ ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔باقی صحابہ بھی الگ الگ آرام کر رہے تھے۔ایک دشمن آپؐ کی گھات میں تھا۔ اس نے آپؐ کی تلوار جو درخت سے لٹک رہی تھی۔ سونت لی اور آپؐ کو بیدار کر کے یوں للکارا کہ بتاؤ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ آپؐ لیٹے ہوئے تھے، کوئی ساتھی اور محافظ پاس نہ تھا، تلوار آپؐ کے سر پر لہرا رہی تھی۔ اس حالت میں تو بڑے بڑے بہادروں کا پِتاپانی ہو جاتا ہے۔ لیکن جرأت واستقامت اور توکل علی اللہ کی شان دیکھیے کہ آپؐ نے نہایت پرُ سکون اور پر اعتماد انداز میں فرمایا: ’’اللہ، اللہ،اللہ‘‘ یہ پرشوکت لفظ سن کر دشمن پر کپکپی طاری ہو گئی۔ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ آپؐ اٹھے، تلوار اپنے ہاتھ میں لی اور حملہ آور سے کہا کہ اب تم بتاؤ کہ تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ بےچارہ اس قدر مبہوت ہوا کہ آپؐ کے قدموں میں گر گیا۔ آپؐ نے اسے جانے دیا۔ ایسا توکل، ایسی جرأت اور ایسا عفو تو اس انسان نے کبھی ساری زندگی نہ دیکھا ہو گا۔اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ واپس اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا کہ میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو دنیا کا بہترین انسان ہے!کیاہی سچی بات ہے جو اس دیہاتی کی زبان سے جاری ہوئی۔

(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات الرقاع)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو توکل کا درس دیا۔ فرماتے ہیں:

جو شخص گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ

’’… میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلتا ہوں اور اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، اور نہ کسی بھی کام کی قدرت میسر آسکتی ہے نہ قوت، مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے… تو اس کو کہہ دیا جاتا ہے کہ تو نے ہدایت پائی، تیری کفالت کردی گئی، تجھے ہر شر سے بچادیا گیا اور شیطان اس سے دور ہٹ جاتاہے۔‘‘

(ابوداؤد، ترمذی)

’’اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسے اس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گاجیسے پرندوں کو عطا فرماتا ہے کہ وہ صبح کے ‏وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اورشام کو سیر ہوکر لوٹتے ہیں۔‘‘

(ترمذی، ابواب الزھد، باب فی التوکل علی اﷲ حدیث2351)

پھر ایک دعا کا اس طرح ذکرآتا ہے کہ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ جب آپؐ رکوع میں جاتے تو یہ دعا کرتے تھے کہ:

اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ اَسْلَمْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ أَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ سَمْعِیْ صَرِیْ وَدَمِیْ وَلَحْمِیْ وَعَظْمِیْ وَعَصْبِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

کہ اے اللہ! مَیں نے تیرے لئے رکوع کیامیں تجھ پر ایمان لایا، تیرے لئے مسلمان ہوا، اور تجھ پر توکل کیا۔ تو ہی میرا رب ہے۔ میری سماعت اور بصارت، خون اور گوشت اور ہڈیاں اور اعصاب اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہیں۔ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

(النسائی کتاب التطبیق باب نوع آخر)

حضرت اقدس مسیحِ موعودؑ فرماتے ہیں:
’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل متبتل تھے ویسے ہی کامل متوکّل بھی تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم وقبائل کے سرداروں کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متأثر نہ ہوئے۔ آپؐ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا۔ اسی لئے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپؐ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔ یہ بڑا نمونہ ہے توکل کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ اس لئے کہ اس میں خدا کو پسند کرکے دنیا کو مخالف بنا لیا جاتا ہے۔ مگر یہ حالت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کو نہ دیکھ لے، جب تک یہ امیدنہ ہو کہ اس کے بعد دوسرا دروازہ ضرور کھلنے والا ہے۔ جب یہ امید اور یقین ہو جاتا ہے تو وہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنا لیتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اور دوست بنا دے گا۔ جائیداد کھو دیتا ہے کہ اس سے بہتر ملنے کا یقین ہوتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدا ہی کی رضا کو مقدم کرنا توتبتّل ہے اور پھر تبتّل اور توکل توام ہیں۔ یعنی تبتّل کا راز توکّل ہے اور توکّل کی شرط ہے تبتّل۔ یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔‘‘

(الحکم جلد5 نمبر37، 10؍اکتوبر 1901ءصفحہ3)

تحریر امۃ الباری ناصر

 

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *