اسلامی تعلیمات

شہید محراب و منبر، علی کرم اللہ وجہہ

Spread the love

 تحریر راضیہ سید

اللہ تعالی نے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آیت مبارکہ کے ذریعے سب سے پہلے قرابت داروں، رفقا اور عزیزوں کو دین حق کی دعوت دینے کا حکم دیا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر تمام قریش مکہ اور دیگر عزیزوں کے لئے باقاعدہ کھانے کا اہتمام کیا گیا لیکن کھانے سے فراغت کے بعد جب بھی ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین فطرت اسلام کی دعوت دیتے تو ابولہب آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا اور حاضرین کو بہلا پھسلا کر وہاں سے لے جاتا کہ محمد ﷺ نے نعوذ باللہ کوئی نیا دین بنا لیا ہے جس کے ذریعے یہ ہمیں ہمارے باپ دادا کے مذہب سے منحرف کرنا چاہتا ہے۔

غرضیکہ تین دن تک دعوت کا اہتمام ہوا اور ہر مرتبہ ابولہب نبی اکرم ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی کرتا رہا۔ تیسرے اور آخری دن جب اس نے یہ گستاخی کی تو آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت ابوطالبؓ نے ابولہب کی سخت ترین الفاظ میں سرزنش کی۔ اس کے بعد تمام حاضرین کے سامنے نبی اکرم ﷺ نے اسلام کی تشریح و توضیح بیان کرتے ہوئے انھیں دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دی اور پوچھا کہ اس کارخیر میں کون ساتھ دے گا ؟

لیکن دوسری طرف تمام شرکا پر ایک سکتہ طاری تھا، اچانک ایک بچہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، میں آپ کی نصرت کروں گا ۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ اس بچے علی مرتضی کا کہا حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا۔ میدان جنگ ہو یا زندگی کا کوئی بھی مشکل مرحلہ، ہر جگہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہمارے نبی ﷺ کا سایہ بن کر ان کی حفاظت و نصرت کرتے رہے۔

فتح مکہ کے موقع پر آپؓ نے ہی دوش نبوی ﷺ پر سوار ہو کر تمام بتوں کو توڑ دیا۔ آپؓ کو اس لئے بھی کرم اللہ وجہہ کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی آپؓ سے شرک نہ ہوا اور آپؓ نے کبھی بتوں کی پوجا نہیں کی، نہ ہی اسلام کے خلاف کوئی عمل کیا۔

شب ہجرت جب سب کو اپنی جانوں کے لالے پڑے تھے، وہ علی کرم اللہ وجہہ ہی تھے جن کے ذمے مشرکین مکہ کی تمام تر امانتیں رکھوا کے ہمارے نبی ﷺ نے مدینہ کی جانب ہجرت کی تھی ۔ فتح خیبر ہو یا جنگ خندق، آپؓ ہمیشہ اسلام کے اولین مجاہد کے طور پر صف اول میں رہے ۔ سوائے جنگ تبوک کے کہ اس جنگ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپؓ کو مدینہ میں اپنا جانشین بنا کر گئے تھے۔ آپؓ نے تمام جنگوں اور غزوات میں حصہ لیا اور دشمنان اسلام کے دانت کھٹے کئے ۔

جب جنگ خندق میں آپؓ میدان میں اترنے لگے تو ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ آج کُل ایمان، کُل کفر کے مقابلے میں جا رہا ہے اور خندق کے میدان میں علیؓ کی ایک ضربت متقی افراد کی ہزار ہا سال کی عبادات سے افضل ہے۔‘‘

جنگ خندق میں آپؓ نے عمرو بن عبدود کو جہنم واصل کر کے جنگ کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔ عمرو بن عبدود اس دور کا معروف جنگجو تھا اور اس کے متعلق مشہور تھا کہ وہ ایک ہزار سپاہیوں سے لڑنے کی سکت رکھتا تھا۔ خیبر میں جب قلعہ قموص چالیس دن تک فتح نہ ہو سکا اور کسی صحابی سے میدان فتح نہ ہوا تب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا علم (پرچم) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دیا اور سب کے سامنے فرمایا ’’آج میں عَلَم اس شخص کو دوں گا جو مرد ہو گا جو کرار غیر فرار ہو گا اور جو مرحب کا قاتل ہو گا۔‘‘

خبیر کے میدان میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ جس شجاعت و بہادری سے لڑے اسکی مثال نہیں ملتی اور مرحب کو اپنی ذوالفقار سے سر سے پائوں تک دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی دین اسلام کے لئے خدمات اور ان کے فضائل کا احاطہ کرنا ازحد مشکل کام ہے ۔ایک روایت کے مطابق قرآن پاک کی ۳۰۰ سے زائد آیات آپؓ کی شان میں نازل ہوئی ہیں جن میں آیہ تطہیر اور آیہ مباہلہ زیادہ نمایاں ہیں۔ آیہ تطہیر میں رسول پاک ﷺ کے اہل بیتؓ کی عصمت اور پاکیزگی کی گواہی دی گئی ہے اور آیہ مباہلہ میں نصرانیوں سے مقابلے میں حضور کے اہل بیتؓ اطہار کے مقابلے میں جانے کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اسی آیت کی بنا پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نفس رسول ﷺ قرار پائے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک مرتبہ نماز ادا کر رہے تھے کہ سائل نے سوال کیا، آپؓ نے حالت رکوع میں ہی اسے اپنی انگوٹھی عطا کر دی۔ قرآن پاک کی آیت مبارکہ میں ہے ’’ کہ مومن تو وہ ہیں جو حالت رکوع میں زکوۃ دیتے ہیں‘‘۔

علم و حکمت، عدل و انصاف، شجاعت و بہادری، قناعت و بزرگی، جہاد اکبر بالنفس سب میں آپؓ ہمارے نبی ﷺ کا پرتو ہیں اور انہی کا عکس ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ خود فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ اس طرح رہا ہوں جس طرح اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہے اوران سے تربیت حاصل کی ہے۔ ‘‘

سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر ۱۱۶ میں تحریر ہے کہ حضرت برا بن عاذب رضی اللہ تعالی عنہہ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے حج کیا اور واپسی کا سفر کیا تو ہم سب ان کے ساتھ تھے کہ ایک مقام پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام فرمایا اور سب صحابہ کو جمع کر کے پوچھا ’’کیا مومنوں پر میرا خود ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں تو انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا ’’کیا ہر مومن پر میرا اسکی ذات سے زیادہ حق نہیں؟ ‘‘ صحابہ نے یک زبان ہو کر کہا ’’ کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ یقیننا ہے۔‘‘

پھر آپ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ’’جس جس کا میں مولا ( سردار ، مومنوں کی جان کا مالک ) ہوں اسکا اسکا یہ علیؓ مولا ہے اور اے اللہ جو اس علیؓ سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ اور جو اس علیؓ سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔‘‘

آپؓ کی شان میں بہت سی احادیث بھی وارد ہوئی ہیں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میں عِلم کا شہر ہوں اور علیؓ اسکا دروازہ ہیں ، علیؓ حق کے ساتھ ہیں اور حق علیؓ کے ساتھ ہے ، علیؓ کو مجھ سے وہی نبست ہے جو ہارونؑ کو موسیؑ سے تھی ، مومن اور منافق کے مابین فرق علیؓ کی محبت ہے اور علیؓ کا ذکر کرنا عبادت ہے ۔ ‘‘
ارشاد نبوی ﷺ ہے ’’جو شخص آدمؑ کے علم، نوحؑ کے تقوی، ابراہیمؑ کے حلم اور موسیؑ کی عبادت کو دیکھنا چاہے وہ میرے بھائی علیؓ پر نگاہ کرے۔ ‘‘

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نہج البلاغہ بھی تحریر کی جو حکمت و دانائی کا انمول خزانہ ہے۔ کئی غیر ملکی مفکرین نے بھی اس کتاب کی بے حد تعریف بیان کی ہے۔ نہج البلاغہ میں خود ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ حق گوئی اور حق نے علیؓ کے پاس کوئی دوست نہیں چھوڑا، فرمایا کہ مجھے زندگی بھر یہی حسرت رہی کہ جتنا مجھے علم تھا اتنا کسی نے سوال نہیں پوچھا اور جتنا میں سخی تھا اتنا کسی نے مانگا نہیں۔‘‘

نہج البلاغہ کی حکمت ۲۹۰ میں فرماتے ہیں ’’ اگر اللہ تعالی نے اپنی نافرمانی کرنے پر عذاب کا خوف نہ بھی دلایا ہوتا پھر بھی ضروری تھا کہ اسکی نعمتوں کے شکرانے میں اسکی نافرمانی نہ کی جائے ۔ ‘‘ بحار الانوار میں خود اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہتے ہیں ’’میں بتولؓ کا شوہر ہوں جو عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں۔ وہی فاطمہؓ جو پاکدامن ، نیکو کار اور اللہ تعالی کی طرف سے ہدایت شدہ ہیں، جن سے حبیب خدا ﷺ محبت کرتے ہیں اور جو پیغمبر ﷺ کی بہترین بیٹی اور ریحانہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔‘‘

کئی غیر ملکی مفکرین اور مورخوں کا کہنا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت کی وجہ ان کا عدل و انصاف بنا کیونکہ اس دور کے بہت سے افراد کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قانون اصل حالت میں قائم کرنا پسند نہیں تھا۔ لہذا مذموم سازش کے تحت ایک خارجی عبدالرحمن ابن ملجم کے ہاتھوں ۱۹ رمضان ۴۰ ہجری میں مسجد کوفہ میں جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ حالت سجدہ میں تھے کہ آپؓ کے سر مبارک پر زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے حملہ کروایا گیا جس نے آپؓ کو شدید زخمی کر دیا۔

لیکن آپؓ صبر و استقامت کا دامن تھامے رہے۔ آپؓ کا قاتل جو گرفتار ہو چکا تھا اسے آپؓ نے اسوہ رسول ﷺ کی پیروی میں شربت پلوایا ۔ اپنے بیٹے امام حسن رضی اللہ تعالی عنہہ کو وصیت کی کہ ’’ اگر اس ضرب کی وجہ سے میں شہید ہوجائوں تو تم بھی اسے ایک ہی ضرب مارنا لیکن اسکے ہاتھ پائوں مت کاٹنا کہ میں نے حضور ﷺ کو کہتے سنا ہے کہ کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹو خواہ وہ کاٹنے والا کتا ہی کیوں نہ ہو ۔ ‘‘ آخر تلوار میں چھپی زہر نے اپنا اثر چھوڑا اور آپؓ ۲۱ رمضان کو فجر کے وقت شہادت پا کر اللہ جل جلالہ سے جا ملے۔

آپؓ کی شہادت کے جانکاہ واقعے پر تاریخ ساز، مرثیہ گو شاعر میر انیس نے نہایت پُردرد اشعار لکھے ہیں،
سجدے میں شیر حق کا دوپارہ ہوا جو سر
اک بار کاپننے لگے مسجد کے بام و در
ابلا لہو کہ ہو گئی محراب خوں سے تر
اک زلزلہ سا بس ہوا نازل زمین پر
گردوں پہ جبرئیل پکارا غضب ہوا
سجدے میں حق کے قتل امیر عرب ہوا

عدل و انصاف حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا طریق اور فطرت تھی، آپؓ نے خود فرمایا کہ ’’حکومتیں کفر پر تو چل سکتی ہیں لیکن ظلم و ناانصافی پر نہیں ۔ ‘‘

آج دنیا میں جتنی بھی افراتفری ہے یہ سب قانون کی عمل داری نہ ہونے کے باعث ہے۔ اسوہ حیدری پر عمل دنیا میں امن و سلامتی کے استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *