حضرت فاطمۃ ؓ الظہراء
تحریر حافظ مظفر احمد
فضائل:۔
- جب رسول اللہﷺ کی کمر پر کفار مکہ نے حالت سجدہ میں اونٹنی کی بچہ دانی رکھ دی تو آپ ؓ نے اسے آپؐ پر سے اٹھایا۔پھر جنگ احد میں جب آنحضورؐ کا چہرہ مبارک لہولہان ہوا تو حضرت فاطمہ ؓ نےمرہم پٹی کی۔
- رسول اللہ ﷺنے فرمایا:”فاطمہؓ اس امت کی عورتوں،تمام جہانوں کی عورتوں، بہشت میں جانے والی عورتوں اورایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں۔ “
- آنحضورﷺ نے فرمایا” فاطمہؓ کی رضا سے الله راضی ہوتا ہے اور اس کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے”
- اسی طرح فرمایا”فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔”
- حضرت عائشہ ؓ فرماتی تھیں کہ میں نے چال ڈھال،طوراطوار اور گفتگو میں حضرت فاطمہ ؓ سے بڑھ کر آنحضرتﷺ کے مشابہہ کسی کو نہیں دیکھا۔
- آنحضورﷺ کا کوئی بیٹا نہ تھابیٹیوں میں سے آپ ؐ کی اولادصرف حضرت فاطمہؓ سے چلی۔ جن کے دو بیٹوں حسنؓ و حسینؓ نے شہادت کا عظیم مرتبہ بھی پایا ۔
ولادت
حضرت فاطمہ ؓ آنحضرتﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔آپ ؓ مكہ معظمہ میں ام ّ المومنین حضرت خدیجہؓ کے بطن سے پیدا ہوئیں۔آپ ؓ کے سن ولادت کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔مؤرخ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ صاحبزادہ ابراہیم ؓ کے علاوہ آنحضرتﷺ کی تمام اولاد دعویٰ نبوت سےقبل پیدا ہوئی۔بعض روایات کے مطابق بعثت نبوی سے پانچ برس پہلے خانہ کعبہ کی تعمیر کے زمانہ میں حضرت فاطمہ ؓ کی پیدائش ہوئی ۔اس وقت حضورؐ سرور دو عالم کی عمر پینتیس35 سال تھی۔ تاریخ طبری ، تاریخ خمیس کے علاوہ اصابہ میں یہی روایت مذکور ہے۔
مندرجہ بالا روایات کے مطابق حضرت فاطمہؓ کی ولادت پانچ سال قبل بعثت مانی جائے تو 2ھ میں بوقت شادی آپؓ کی عمر 20 برس بنتی ہے۔ مگر کسی سوانح نگار نے شادی کےوقت آپؓ کی اتنی عمر نہیں لکھی حتٰی کہ مستشرقین نے بھی زیادہ سے زیادہ عمر 18 سال لکھی ہے۔تاہم مستند روایات کی رُو سے آپؓ کی ولادت سن بعثت نبوی یا اس کے ایک سال بعد مانیں تو آپؓ کی عمر شادی کےوقت15 سے 16 بنتی ہے۔ بعض دیگر مستندروایات میں بعثت نبوی کے قریب زمانہ میں حضرت فاطمہ ؓ کی ولادت ہوئی جبکہ آنحضورﷺ کی عمراکتالیس41سال تھی۔جبکہ حاکم،ابن سعد اور ابن عبدالبر نے بعثت نبوی سے ایک سال قبل آپؓ کا سن ولادت بتایاہے۔ان روایات کی تصدیق بعض دیگر قرائن سے بھی ہوتی ہے مثلاً یہ کہ حضرت فاطمہ ؓ حضرت عائشہ ؓ سےعمر میں پانچ سال بڑی تھیں اور حضرت عائشہ کی پیدائش معروف روایات کے مطابق بعثت کے چار یا پانچ سال بعد بیان کی جاتی ہے۔اسی طرح 2سنہ ہجری میں اپنی شادی کے وقت حضرت فاطمہ ؓ کی عمر15سال اور چند ماہ بیان ہوئی ہے ۔اس حساب سے بھی آپ ؓ کی پیدائش بعثت نبوی کے پہلے سال ہی بنتی ہے۔جو زیادہ قابل قبول ہے۔
بچپن اور تربیت
حضرت فاطمہ ؓ کو بچپن سے نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ کم سنی میں ماں کا سایہ سر سےاُٹھ گیا۔ شفیق باپ کے زیر سایہ زندگی شروع ہوئی تو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول اللہﷺکو دی جانے والی اذیتوں کا سامناکرنا پڑا ۔کبھی آپ کے گھر کے سامنے کوڑا کرکٹ اور غلاظت پھینک دی جاتی کبھی اپنے والد کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہو لہان دیکھا تو کبھی مشرکوں نے آپؓ کے والد بزرگوار کے سَر میں خاک ڈال دی ۔ مگر اس کم سنی کے عالم میں بھی حضرت فاطمہ ؓ نڈر ہوکر اپنے بزرگ باپ کی مددگار بنی رہیں۔
ایک دفعہ رسول کریم ﷺبیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل اور اس کے ساتھی بھی صحن کعبہ میں مجلس لگائے بیٹھے تھے۔ان سرداروں میں سے کسی ظالم نے مشورہ دیا کہ فلاں محلہ میں جواونٹنی ذبح ہوئی ہے کوئی جاکر اس کی بچہ دانی اٹھا لائے اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) جب سجدہ میں جائیں تو ان کی پشت پر رکھ دے۔ ان میں سے ایک بدبخت عُقبہ بن ابی مُعیط اٹھا اور اونٹنی کی گند بھری بچہ دانی اٹھا لایا اور دیکھتا رہاجونہی نبی کریمؐ سجدہ میں گئے اس نے غلاظت بھرا وہ بوجھ آپؐ کی پشت پردونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔حضرت عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے کہ میں یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی رسول خداﷺ کی کچھ مدد نہ کرسکتا تھا۔بس کفِ افسوس ملتا رہ گیاکہ اے کاش ان دشمنان رسول کے مقابل پر مجھے اتنی توفیق ہوتی کہ آپ ؐ کی تکلیف دور کرسکتا۔اُدھر ان مشرک سرداروں کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہﷺ کو اذیت میں دیکھ کر استہزا کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئے جارہے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کی حالت میں پڑے تھے، بوجھ کی وجہ سے سر نہیں اٹھاسکتے تھے۔یہاں تک کہ آپؐ کی لخت جگر حضرت فاطمہ تشریف لائیں اور آپ کی پشت سے وہ غلاظت کا بوجھ ہٹایا۔تب آپؐ نے سجدے سے سراٹھایا ۔ عبادت الہٰی سے روکنے اور استہزا کرنے والے ان جانی دشمنوں کے حق میں رسول اللہﷺ نے یہ فریاد کی ” اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ” اے اللہ!ان قریش کو تو خود سنبھال ۔ یہ دعا بھی قبول ہوئی اور خدائی گرفت ان دشمنان رسول پر بدر کے دن آئی اور رسول اللہﷺ نے ان کا یہ عبرت ناک انجام بچشم خود دیکھاکہ میدان بدر میں ان کی لاشیں اس حال میں پڑی تھیں کہ تمازتِ آفتاب سے ان کے حلیے بگڑ چکے تھے۔
اپنےشفیق چچاابوطالب کی وفات کے بعد تو رسول اللہﷺ کی ایذا دہی کا سلسلہ بہت تیز ہوگیا۔
یہاں تک کہ آپؐ کی ذات پر حملے ہونے لگے ۔ایک مرتبہ کسی بدبخت نے آپؐ کے سر پر خاک ڈال دی۔ رسول کریمﷺگھر تشریف لائے ۔آپؐ کی لخت جگر حضرت فاطمہ مٹی بھرا سردھوتی اور ساتھ روتی جاتی تھیں۔ رسول اللہﷺانہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا بیٹی!رونا نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہارے باپ کا محافظ ہے۔ پھرفرمایا قریش نے میرے ساتھ ابوطالب کی وفات کے بعد بدسلوکی کی حدکردی ہے۔
حضرت فاطمہ ؓ کا اعلان نکاح
2سنہ ہجری میں حضرت علی نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حضرت فاطمہ سے عقد کی درخواست کی جسے حضورؐ نے بخوشی قبول فرمایا۔حضرت علی نے حق مہر میں اپنی ایک اونٹنی مالیت چار سو اسّی480 درہم اور زرہ مالیتی 20درہم پیش کی۔ نبی کریمؐ نے ہدایت فرمائی کہ اس رقم کا ایک حصّہ خوشبو وغیرہ کے لئے، دوسرا حصّہ کپڑوں کے لئے اور تیسرا حصّہ دیگر اخراجات میں صرف کیا جائے۔
اس بابرکت نکاح کا اعلان خودرسول کریمﷺنے فرمایاجس میں مہاجرین وانصار کے بزرگ شامل ہوئے۔ رسول کریمﷺنے خطبہ نکاح ارشاد کرتے ہوئے فرمایا:۔
“سب تعریف اللہ کی ہے وہ اپنی نعماء اور قدرت کے لحاظ سے قابل پرستش اور اپنے غلبہ اور طاقت کے سبب واجب الاطاعت ہے ،وہ عذاب دینے کے لحاظ سے ایسی ذات ہے جس سے انسان ڈر جائے۔اور نعمتوں کا مالک ہونے کے سبب ایسی ذات ہے جس کا رعب دلوں پر طاری ہے،وہ اپنے احکام زمین و آسمان میں جاری کرتا ہے،اس نے اپنی قدرت سے مخلوق کو پیدا کیا ،پھر انسان کواس میں سے دانائی کے ساتھ ممتاز کیا ۔ا پنی عزت کے ساتھ اسے حکومت بخشی اور اپنے دین کے ساتھ اس کو معزز بنایا۔پھر اپنے نبی محمد ﷺکےذریعہ ان کی تکریم کی۔ وہ خدا جس نے مصاہرت کے تعلق کو نسب سے ملا کر ، اس(نکاح) کو فرض ٹھہرایا جس سے برائیاں زائل ہوئیں اور رِحموں کو اس نے زینت بخشی۔ پھر اس امر (یعنی صلہ رحمی و مصاہرت )کو لوگوں کے لئے لازم حال قرار دیا۔چنانچہ اللہ تعالی ٰنے فرمایا وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا۔(یعنی اور وہی ہے جس نے پانی سے بشر کو پیدا کیا او ر اسے آبائی اور سسرالی رشتوں میں باندھااور تیرا رب دائمی قدرت رکھتا ہے۔) اس کاحکم اس کی قضا ءکو جاری کرتا ہے،اسکی قضاء اسکی قدر کی طرف چلتی ہےاور اسکی قدر اپنی اجل کی طرف جاتی ہے۔ ہر ایک اجل کے لئے وقت مقدر ہے۔ پھر خدا جس(حکم) کو چاہتا ہے اس کو مٹاتا اور جس کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور ام الکتاب اسی کے پاس ہے ۔ اس کے بعد میں بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ فاطمہ کا علی سے نکاح کروں اور میں نے اس چار سو مثقال کے مہر پر اس کا نکاح کر دیاہے”
خطبہ کےبعد آنحضورﷺنےچھوہاروں کا ایک طشت تقسیم کروایا۔پھر آپؐ نے نئے جوڑے کودعا دی خدا تمہاری پریشانیاں دور کرے، تمہارا نصیب نیک کرےاور تم دونوں میں برکت دے اور تم سے بہت سی پاک اولاد پیدا ہو۔”
پھررسول اللہﷺمنبر سے اتر آئے اور حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ تم بھی کچھ کہو جس پر انہوں نے خدا کی حمد کی اور حضور ﷺ پر درود بھیجنے کے بعد کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی لڑکی فاطمہ کا مجھ سے نکاح کیا ہے اور میری یہ زرہ اس کا مہر ہے اور میں اس پر راضی ہوں ۔
حضرت فاطمہ ؓ کی تقریب رخصتی
رسول پاک ﷺنے اس مبارک جوڑے پر اپنے وضو کا پانی چھڑک کر دعائے خیردی۔ حضرت اسماء بنت عُمیس کہتی تھیں کہ مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے جب رسول کریمﷺان دونوں کیلئے بوقت رخصتی خاص دعا کر رہے تھے۔ آنحضرتﷺ نے نہایت سادگی سے حضرت فاطمہ کو رخصت کیااور انہیں نصیحت کے رنگ میں فرمایا”تمہارا شوہر دنیا و آخرت میں سردار ہوگا۔یہ میرے اولین صحابہ میں سےہے اور علم و حلم میں دوسروں سے بڑھ کر ہے”
ضرورت کی چند گھریلو چیزیں جو حضرت فاطمہ ؓ کو دی گئیں ان میں کمبل،تکیہ،چارپائی،بستر،چادر، آٹا پیسنے کی چکی، چھاننی، مشکیزہ ،پیالہ اوردوگھڑے شامل تھے۔ یہ تھی بوقت شادی سرکار دوعالم کی صاحبزادی کی کل کائنات ۔
حضرت علی کی زندگی بھی درویشا نہ تھی۔ دعوت ولیمہ تک کے لئے کچھ انتظام نہ تھا۔ چنانچہ جنگل سے گھاس کاٹ کر شہر کے سناروں کو بیچ کر ولیمے کے لئے رقم اکٹھی کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر جب یہ بھی ممکن نہ ہواتوخودرسول کریم ﷺ، حضرت سعد اور بعض اور صحابہ کی اعانت سے پروقار ولیمہ کی تقریب ممکن ہوئی۔ جو کھجور،منقہ ،جَو کی روٹی ،پنیر اور شوربے کی دعوت تھی۔اس زمانے کے اقتصادی حالات اور غربت اور سادگی کا اندازہ حضرت اسماء کی اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے ۔آپ فرماتی تھیں کہ اس زمانے میں اس دعوت ولیمہ سے بہتر کوئی ولیمہ نہیں ہوا۔ I
حضرت فاطمہ ؓ سے محبت و شفقت
حضرت فاطمة الزھراء رسول اللہﷺ کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھیں ۔آپؐ کی محبت بھری تربیت کا اثر تھا کہ حضرت فاطمہ میں بھی آپؐ کی پاکیزہ سیرت کارنگ جھلکتا نظرآتا تھا۔
حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال، طور اطوار اور گفتگو میں حضرت فاطمہ سے بڑھ کر آنحضرتﷺ کے مشابہہ کوئی نہیں دیکھا۔ سیدہ فاطمہ جب حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں تو حضور ﷺکھڑے ہو جاتے تھے محبت سے انکا ہاتھ تھام لیتے تھے اور اسے بوسہ دیتے اور اپنے ساتھ بٹھاتے اور جب آنحضور ؐ حضرت فاطمہ کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی احترام میں کھڑی ہو جاتیں آپؐ کا ہاتھ تھام کر اسے بوسہ دیتیں اور اپنے ساتھ حضورؐ کو بٹھاتیں۔
رسول اللہﷺمدینہ سے سفر پر روانہ ہوتے وقت سب سے آخر میں اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ سے مل کر جاتے اور واپسی پر مسجد نبوی میں دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت فاطمہ سے ہی آکر ملتے۔
اس زمانہ میں معاشی تنگی کے پیش نظر آپ ؐ اس نئے جوڑے کو قناعت اور صبر ودعا کی تلقین بھی فرماتے تھے۔چنانچہ ایک دن حضرت علی نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے توسینے میں درد ہونے لگا ہے۔ تمہارے اباّ کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں، جاکر درخواست کرو کہ ہمیں بھی ایک خادم عطاہو۔ فاطمہ کہنے لگیں خدا کی قسم! میرے تو خود چکی پیس پیس کر ہاتھوں میں گٹّے پڑگئے ہیں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپ نے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا؟ عرض کیا کہ سلام عرض کرنے آئی ہوں۔پھر انہیں حضور ﷺسے کچھ مانگتے ہوئی شرم آئی اور واپس چلی گئیں۔ حضرت علی نے پوچھا کہ کیاکرکے آئی ہو؟وہ بولیں کہ میں شرم کے مارے کوئی سوال ہی نہیں کرسکی۔تب وہ دونوں حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضورﷺ کی خدمت میں اپنا حال زار بیان کر کے خادم کے لئے درخواست کی۔رسول کریمﷺ نے فرمایا “خدا کی قسم ! میں تمہیں دے دوں اوراہل صُفّہ (غریب صحابہ) کو چھوڑدوں؟جو فاقہ سے بے حال ہیں اور ان کے اخراجات کے لئے کوئی رقم میسر نہیں۔ان قیدیوں کے عوض ملنے والی رقم اہل صفّہ پر خرچ کروں گا” دوسری روایت سے رسول اللہﷺ کے اس جواب کا بھی پتہ چلتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ میں یہ قیدی پہلے ہی شہدائے بدر کے یتیم بچوں میں تقسیم کرچکا ہوں۔یہ سن کر وہ دونوں واپس گھر چلے گئے۔ رات کو نبی کریمﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے۔ وہ دونوں اپنا کمبل اوڑھے لیٹے ہوئے تھے۔ رسول اللہﷺ کو دیکھ کر اُٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا اپنی جگہ لیٹے رہو۔پھر فرمایا تم نے مجھ سے جو مانگاکیا میں اس سے بہتر چیز تمہیں نہ بتاؤں؟انہوں نے کہا ضرور بتائیں۔ آپ نے فرمایا یہ چند کلمات ہیں جو جبریل نے مجھے سکھائے ہیں کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔ جب رات بستر پر جاؤ توتینتیس مرتبہ سبحان اللہ ،تینتیس مرتبہ الحمدللہ اورچونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھاکرو۔دوسری روایت میں تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ،الحمدللہ اورچونتیس مرتبہ اللہ اکبر کے ساتھ آخر پر لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيۡکَ لَهٗ ،لَهٗ الْمُلْکُ وَلَهٗ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ پڑھنے کا بھی ذکر ہے۔
حضرت علی فرماتے تھے جب سے رسول اللہﷺ نے مجھے یہ کلمات سکھائے میں انہیں آج تک پڑھنا نہیں بھولا۔کسی نے تعجب سے پوچھا کہ جنگ صفین کے ہنگاموں میں بھی آپ یہ نہیں بھولے؟ کہنے لگے ہاں جنگ صفین میں بھی یہ ذکر الہٰی کرنامیں نے یادرکھا تھا۔
الغرض رسول اللہﷺنے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ کو ذکرالہٰی کی طرف توجہ دلا کر سمجھایا کہ خدا کی محبت میں ترقی کرو ۔اللہ خود تمہاری ضرورتیں پوری فرمائے گا۔تم خداکو نہ بھولو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا۔ اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ کےحالات دیکھ کر ان کیلئے رسول اللہﷺ نے یہ دعابھی کی کہ کبھی ان کو بھوک کی تکلیف نہ آئے۔ فاطمہ فرماتی ہیں اس کے بعد کبھی مجھے بھوک کی تکلیف نہیں پہنچی۔
بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے کشائش عطا فرمائی تو آنحضرتﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو ایک عمر رسیدہ خادم بھی عطا فرمایا۔ایک روایات میں ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کے پاس جو اوڑھنی تھی اس سے پورا جسم نہیں ڈھانپاجاسکتاتھا۔اگر سر ڈھانپتیں تو ٹانگیں برہنہ ہوجاتیں اور اگر ٹانگیں ڈھانپتیں تو سر ننگا ہوجاتا۔ اس پر حضرت فاطمہ ؓ نےیہ صورتحال بتاکر آنحضورﷺ سے اس بوڑھے خادم سے پردہ کی بابت پوچھا تو آپ ؐ نے جواب دیا”وہ تمہارے باپ کی طرح ہے اور تمہارا غلام ہے “
تربیت اولا د
نبی کریم ؐ کو اپنی اولاد کی تربیت کا بہت خیال تھا آپؐ ان کیلئے دعائیں کرتے ،انہیں اہل بیت کے پاکیزہ مقام پر ہونے کے لحاظ سے عبادات اور نیکیوں کی طرف توجہ دلاتے ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمؐ چھ ماہ تک فجر کی نما زکے وقت حضرت فاطمہ کے دروازے کے پاس گزرتے ہوئے فرماتے رہے۔ “اے اہل بیت! نماز کا وقت ہوگیا ہے” پھرآپؐ سورہٴ احزاب کی آیت:33 پڑھتے کہ”اے اہل بیت ! اللہ تم سے ہر قسم کی گندگی دور کرنا چاہتا ہے اور تم کو اچھی طرح پاک کرنا چاہتا ہے”
آنحضورﷺ کواپنی بالغ اولاد کی نمازتہجد کی ادائیگی کی بھی فکرلاحق ہوتی تھی۔ حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ہمارے گھر تشریف لائے اور مجھے اور فاطمہ کو تہجد کے لئے بیدار کیا۔ پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اور کچھ دیر نوافل ادا کئے۔اس دوران ہمارے اٹھنے کی کوئی آہٹ وغیرہ محسوس نہ کی تو دوبارہ تشریف لائے اور ہمیں جگایا اور فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ حضرت علی کہتے ہیں میں آنکھیں ملتاہوا اُٹھا اور بُڑبڑاتے ہوئے کہہ بیٹھا “خدا کی قسم ! جو نماز ہمارے لئے مقدر ہے ہم وہی پڑھ سکتے ہیں۔ ہماری جانیں اللہ کے قبضہ میں ہیں وہ جب چاہے ہمیں اُٹھادے” رسول کریم ﷺواپس لوٹے۔ آپ نے تعجب سے اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے پہلے میرا ہی فقرہ دہرایا کہ “ہم کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے سوائے اس کے جو ہمارے لئے مقدر ہے” پھر یہ آیت تلاوت کی “وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْ ءٍ جَدَلًا” کہ انسان بہت بحث کرنے والا ہے۔ Q
حضرت فاطمہ ؓ کی مالی قربانی
حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ بنت ہبیرہ نامی ایک خاتون نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں۔نبی کریمؐ اپنی لاٹھی سے ان کو ہلاتے جاتے تھے اور فرمانے لگے کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تمہارے ہاتھ میں آگ کی انگوٹھیاں ڈال دے؟اس نے حضرت فاطمہ ؓکے پاس آکر اس بات کا شکوہ کیا۔حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ ادھر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوگیا،نبی کریمؐ گھر پہنچ کر دروازے کے پیچھے کھڑے ہوگئےاور اجازت لیتے وقت آپؐ کا یہی معمول تھا۔اس وقت حضرت فاطمہ ؓ کے ہاتھ میں سونے کی ایک لڑی تھی اور وہ اس خاتون سے مخاطب تھیں کہ یہ سونے کی لڑی دیکھو جو مجھے ابو الحسن ؓ نے تحفہ دیا ہے،دریں اثناء نبی کریمﷺ گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا، اے فاطمہ ؓ !بات انصاف کی ہونی چاہیئے ۔ کل کلاں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد(ﷺ)کی صاحبزادی فاطمہؓ کے ہاتھ آگ کی لڑی ہے۔پھر آپ ؐ نے انہیں سخت ملامت کی اور وہاں رُکے بغیر ہی واپس تشریف لے گئے۔تب حضرت فاطمہ ؓ نے وہ سونے کی لڑی فورا ً فروخت کرکے اس کی قیمت سے ایک غلام خریدا اور اسے آزاد کردیا۔نبی کریمﷺ کو جب اس بات کا پتہ چلا تو آپؐ نے خوش ہوکر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیااورفرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کی ہے جس نے فاطمہ ؓ کو آگ سےنجات دی۔
حضرت فاطمہ ؓ کی محبت و خدمت رسولؐ
حضرت فاطمہ ؓ بھی دلی محبت کے جذبہ سے اپنے مقدس باپ کا ہرطرح خیال رکھتی تھیں اور حتی الوسع ان کی خدمت کی سعادت پاتیں۔ ایک دفعہ کسی نے حضرت علیؓ کی دعوت کی اور آپ کے لئے کھانا تیارکیا۔ حضرت فاطمہ ؓ نے حضرت علی ؓ سے مشورہ کیا کہ کسی روز ہم بھی رسول اللہ ﷺ کو اپنے ہاں دعوت پر بلاتے ہیں تاکہ آپؐ ہمارے ساتھ کھانا کھائیں۔چنانچہ انہوں نے آنحضور ؐ کو کھانے پربلایا۔آپؐ تشریف لائے۔ ابھی آپؐ نے اپنا قدم مبارک دروازہ کی چوکھٹ پر رکھا ہی تھا کہ گھر کے ایک کونے میں تصویروں والا پردہ دیکھا، جسے دیکھتے ہی آپؐ واپس تشریف لے گئے، حضرت فاطمہؓ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ آپ جاکر پتہ کریں کہ حضورؐ کس وجہ سے واپس تشریف لے گئے ہیں۔ حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ میں حضورؐکے پیچھے گیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کس چیز نے آپؐ کو واپس لوٹا دیا؟ آپ ؐنے فرمایا کہ میرے لیے یا کسی اور نبی کیلئے کسی ایسے گھر میں داخل ہونامناسب نہیں جہاں تصویروں والے نقش و نگار ہوں۔ اس واقعہ سے رسول اللہﷺ کے اس حسن ِتربیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے جس کا آپ ؐ اپنی اولاد کیلئے خیال رکھتے تھے۔
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ تشریف لائیں ان کے صاحبزادے حسن وحسین ہمراہ تھے ۔حضرت فاطمہ ہنڈیا میں کچھ کھانا حضور ﷺکے لئے لائی تھیں، وہ آپؐ کے سامنے رکھا۔آپ ؐنے پوچھا ابوالحسن یعنی حضرت علی کہاں ہیں حضرت فاطمہ نے عرض کیا کہ گھر میں ہیں۔ حضورﷺ نے ان کو بلا بھیجا اور پھر سب اہل بیت بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔حضرت اُم سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے کھانے سے فارغ ہوکر ان اہل بیت کے حق میں یہ دعا کی”اے اللہ! جوان اہل بیت کا دشمن ہو تُو اس کا دشمن ہو جا اور جوا نہیں دوست رکھے تُو اسے دوست رکھنا”
حضرت فاطمہ ؓنےغزوات میں بھی رسول اللہﷺکےساتھ شریک ہوکر آپؐ کی خدمت کی توفیق پائی۔ جنگ اُحد میں آنحضورﷺ کا چہرہ مبارک زخمی اور لہولہان ہوا توحضرت فاطمہ اور حضرت علی نے آپؐ کی مرہم پٹی کی۔
حضرت فاطمہ ؓ کی بہن حضرت رقیہ ؓ کی وفات پررسول کریمﷺ اپنی صاحبزادی فاطمہ کو لے کر ان کی قبر پر آئے تو فاطمہ قبر کے پاس رسول کریمﷺ کے پہلو میں بیٹھ کر رونے لگیں ۔ رسول اللہﷺ دلاسا دیتے ہوئے اپنے دامن سے ان کے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔
اولاد سے مشفقانہ اور عادلانہ سلوک
رسول اللہﷺکا سلوک اپنی اولاد سے مشفقانہ ہونے کے ساتھ عادلانہ بھی تھا۔آپؐ نے اپنے تمام اعزّ ہ و اقارب کو اورخاص طور پراپنی بیٹی فاطمہ کو کھول کرسنادیا تھا کہ اللہ کے مقابل پر میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا ۔تمہارے عمل ہی کام آئیں گے۔
فتح مکہ کے سفر کا واقعہ ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت فاطمہ نامی نے کچھ زیورات چرالئے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق چور کی سزااس کے ہاتھ کاٹنا ہے۔وہ عورت چونکہ معزز قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی اس لئے اس کے خاندان کو فکر ہوئی اور انہوں نے رسول اللہﷺ کے بہت پیارے اور عزیز ترین فرد اسامہ بن زید سے حضور کی خدمت میں سفارش کروائی کہ اس عورت کو معاف کردیا جائے ۔ اسامہ نے جب رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا توآپؐ کے چہرہ کا رنگ سرخ ہوگیا اور فرمایا کیا تم اللہ کے حکموں میں سے ایک حکم کے بارہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو؟ اسامہ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں۔اسی شام کو نبی کریم ﷺنے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا”تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی معزز انسان چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تھا تو اس پر حدقائم کرتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا” پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا۔ مگر جہاں اولاد کے جائز حقوق کا سوال ہوتا وہاں آپ ؐ ان کی حمایت بھی فرماتے۔
فتح مکہ کے بعد بنو ہاشم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی جسمانی اولاد تو کوئی نہیں اور حضرت علیؓ ہی بوجہ دامادی آپؐ کے وارث ہیں ۔ انہوں نے حضرت علی ؓ کو ابوجہل کی بیٹی کے رشتہ کی پیشکش کر دی۔دراصل وہ اس سیاسی شادی کےذریعہ آئندہ حکومت و بادشاہت میں حصّہ داربننے کی کوشش میں تھے، مگر رسول اللہﷺ نے اسے پسند نہیں فرمایا۔چنانچہ آپؐ منبر پر کھڑے ہوئے اور درج ذیل خطبہ ارشاد فرمایا :۔
“آل ہشام علی بن ابی طالب سے اپنی بیٹی کاعقد کرنے کیلئے مجھ سے اسکی اجازت چاہتے ہیں لیکن میں اجازت نہ دونگااور کبھی نہ دونگا۔البتہ ابن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے۔فاطمہؓ میرے جسم کا ایک حصہ ہے جس نے اس کو اذیت دی مجھ کو اذیت دی”
نیز فرمایا” فاطمہؓ مجھ سے ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ (اس شادی کے ذریعہ ) اسے دین کے بارہ میں کہیں فتنہ میں نہ ڈالا جائے۔ خدا کی قسم رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن (ابو جہل)کی بیٹی بیک وقت ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں”
رسول اللہﷺ کی حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد سے محبت
رسول کریم ﷺنے اپنی اولاد کی تربیت کی بنیاد محبت الہٰی پرر کھی تاکہ وہ اللہ کی محبت میں پروان چڑھیں اور یہ محبت ان کے دل میں ایسی گھر کرجائے کہ وہ غیراللہ سے آزاد ہوجائیں۔ چنانچہ نبی کریم ؐ حضرت حسن اور حسین کو گود میں لے کر دعاکرتے تھے کہ اے اللہ! میں ان سے محبت کرتاہوں تو بھی ان سے محبت کر۔
حضرت فاطمۃ الزہراءؓ کو اللہ نے پانچ اولاد عطا فرمائیں جن میں سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔ شادی کے بعد حضرت فاطمہؓ صرف نو برس زندہ رہیں ۔ اس نو برس میں شادی کے دوسرے سال حضرت امام حسن ؓپیدا ہوئے اور تیسرے سال حضرت امام حسین ؓ۔ پھر غالباً پانچویں سال حضرت زینبؓ اور ساتویں سال حضرت امّ کلثومؓ ۔ نویں سال حضرت محسن ؓبطن ِ مادر میں ہی فوت ہو گئے۔ اس جسمانی صدمہ سےحضرت فاطمہ ؓ بھی جانبر نہ ہوسکیں۔لہذا وفات کے وقت آپ نے دو صاحبزادوں حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسین ؓ اور دو صاحبزادیوں زینب کبریٰ ؓ و امّ کلثوم ؓ کو چھوڑا جو اپنے اوصاف کے لحاظ سے طبقہ خواتین میں اپنی ماں کی سچی جانشین ثابت ہوئیں۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا”اسامہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے سوائے (میری بیٹی) فاطمہ کے۔ خود اسامہ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ انہیں اور حضرت حسین کو دونوں رانوں پر بٹھالیتے اور فرماتے “اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما”
حضرت ابولیلیٰ ؓبیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم کی خدمت میں حاضر تھے۔کم سن حضرت حسن یا حسین میں سے کوئی آپؐ کی گود میں چڑھا ہواتھا۔اچانک بچے نے پیشاب کردیااور میں نے حضورﷺ کے پیٹ پر پیشاب کے نشان دیکھے۔ہم لپک کر بچے کی طرف آگے بڑھے تاکہ اسے اُٹھالیں۔رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے بیٹے کو میرے پاس رہنے دو اور اسے ڈراؤ نہیں پھر آپ نے پانی منگواکراس پر اُنڈیل دیا۔
حضرت یعلیٰ عامری سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک دعوت پر جارہے تھے کہ سامنے سے کم سن حسین دیگربچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے نظر آئے۔ رسول اللہﷺ نے کھیل کھیل میں ان کو پکڑنا چاہا تووہ ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ رسول کریم ﷺاس طرح ان کو ہنساتے رہے یہاں تک کہ ان کو پکڑلیا۔ پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ ان کے سر کے پیچھے اور دوسرا ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اورا پنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر انہیں چومنے لگے اور فرمایا حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں(یعنی میرا ان سے گہرادلی تعلق ہے) جو شخص حسین سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔حسین ہماری نسل ہے۔:
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کی پشت پر حسن اور حسین سوارتھے اور آپ اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کے بل چل رہے تھے اور ان بچوں سے باتیں کررہے تھے کہ تمہارا اونٹ کتنا اچھا ہے اورتم دونوں سوار بھی کیسے خوب ہو۔;
حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم کو دیکھاحضرت حسن آپؐ کے کندھے پر تھے اور فرمارہے تھے” اے اللہ! اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر”
ایک دفعہ رسول کریمؐ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ حسن اور حسین آگئے انہوں نے سرخ قمیص پہنے تھے اور چلتے ہوئے ٹھوکریں کھارہے تھے رسول کریم ؐمنبر سے اتر آئے اور انکو اٹھا لیا ، اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا “اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں۔ میں نے ان دونوں بچوں کو چلتے اور گرتے دیکھاتو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اپنی بات روک کر ان کو اُٹھا لایا”
حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺہمارے ہاں تشریف لائے۔ میں لیٹا ہوا تھا۔ حضرت حسن اور حضرت حسین نے پینے کیلئے کچھ مانگا۔حضورﷺ اٹھے، ہمارے گھر میں ایک بکری تھی جس کا دودھ دوہا جاچکا تھا۔ آپ اس کا دودھ دوہنے لگے تو دوبارہ بکری کو دودھ اتر آیا۔حسن حضورؐ کے پاس آئے تو حضورﷺ نے اُن کو پیچھے ہٹا دیا اور اُن کی بجائے حسین کو دودھ دیا۔ حضرت فاطمہ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ یہ آپ کو زیادہ پیارا ہے ۔آپ نے فرمایا نہیں دراصل پہلے دودھ اس نے مانگا تھا۔
حضرت ابوبکر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نماز پڑھتے ہوئے جب سجدہ میں جاتے تھے تو بعض دفعہ حضرت حسن آپ کی پشت یا گردن پرچڑھ جاتے۔ حضور ﷺبہت نرمی سے ان کو پکڑ کر اُتارتے تاکہ گریں نہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ حضرت حسن کے ساتھ آپ جس طرح محبت سے پیش آتے ہیں ایسا سلوک کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے۔فرمایایہ دنیا میں میری خوشبو ہے۔ میرا یہ بیٹا سردار ہے جو دوگروہوں میں صلح کروائے گا۔
رسول اللہﷺ کی وفات
10ہجری میں آنحضرتﷺ کا وصال ہوا۔ وفات سے ایک روز قبل آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو بلا بھیجا ،آپ تشریف لائیں تو آپ ﷺ نے ان سے کان میں کچھ بات فرمائی ۔جس پر حضرت فاطمہؓ رونے لگیں ۔پھر بلا کر کان میں کچھ کہا جس پر وہ ہنس پڑیں۔حضرت عائشہ ؓ نے دریافت کیا توعرض کی کہ پہلی دفعہ آپ ؐنے فرمایا کہ میں اسی مرض میں انتقال کروں گا۔جب میں رونے لگی تو فرمایا کہ میرے خاندان میں سب سے پہلے تم مجھ سے آکر ملوگی تو ہنسنے لگی۔
حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ (حضورؐ کی بیماری میں) آئیں نبی کریمﷺ نے فاطمہ کو خوش آمدید کہا اور اپنے دائیں طرف یا شاید بائیں جانب بٹھایا ۔حضرت فاطمہ ؓ کو اپنے مقدس باپ سے جو محبت اور عشق تھااسی وجہ سےآپؓ سےاپنے والد کی تکلیف دیکھی نہیں جارہی تھی بے ساختہ کہہ اٹھیں وائےمیرے باپ کی تکلیف ۔اس پر آنحضرتﷺ نے فرمایا آج کے بعد تمہارے باپ کو کوئی تکلیف نہ رہے گی۔رسول اللہﷺ کی وفات پر حضرت فاطمہ کی زبان سے جو جذباتی فقرے نکلے، ان سے بھی آپ کی گہری محبت پدری کا اظہار ہوتا ہے، آپ نے حضرت انس سے کہا کہ وائے افسوس میرے ابا!ہم آپؐ کی موت کا افسوس کس سے کریں ؟ کیاجبریل سے؟ وائے افسوس ! ہمارے اباّ ! آپؐ اپنے رب کے کتنے قریب تھے ! ہائے افسوس ! ہمارے اباّ ہمیں داغ جدائی دے کرچلے گئے جنہوں نے جنت الفردوس میں گھر بنا لیا۔ ہائے افسوس! میرے ابا ! جنہوں نے اپنے رب کے بلانے پر لبیک کہا اور اس کے حضور حاضر ہوگئے۔پھر جب آنحضورﷺ کی تدفین مکمل ہوچکی تو حضرت فاطمہ ؓ نے حضرت انس ؓ خادم رسول سے فرمایا۔اے انس ؓ !تم لوگوں نے رسول اللہﷺ کے اوپر مٹی ڈالنے کو کیسے گوارا کرلیا۔
حضرت فاطمہ ؓ نے اپنے مقدس باپ کی وفات پرغمناک دل اور آنکھوں سے رواں آنسوؤں کے ساتھ جو مرثیہ کہا اس کا ایک لاجواب شعر ہے۔آپ ؓ فرماتی ہیں:۔
صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبٌ لَوۡ أَنَّهَا صُبَّتۡ عَلٰى الۡأَيَّامِ عُدْنَ لَيَالِيَا
یعنی مجھ پر ایسے مصائب ٹوٹ پڑےکہ اگر دنوں پر پڑتے تو انکو راتوں میں بدل دیتے۔
حضورﷺ کے وصال کے بعد جب خلافت راشدہ کا خدائی وعدہ پورا ہوا تو قیام خلافت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام خوف دور کر دئیے ۔خلافت کو بتدریج استحکام نصیب ہوا۔حضرت ابو بکر نے پہلا نہایت پر حکمت قدم یہ اٹھایا کہ قوم کی شیرازہ بند ی کی۔
مسئلہ میراث
مدینہ سے دودن کے فاصلہ پر فدک نام سے کھجوروں وغیرہ کے باغات پر مشتمل سرسبز علاقہ تھا۔ جہاں یہودی آباد تھے۔یہود ِخیبر کی شکست کے بعد انہوں نے بھی آنحضورؐ سے صلح کرکے فدک کے تمام باغات اور اموال کا نصف آپؐ کو دےدیاتھا۔جو بغیر جنگ کے حاصل ہونے کے باعث مال فئے یعنی رسول اللہﷺ کا خالص مال تھا۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓسے درخواست کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ترکہ میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو بطور فئے عنایت فرمایا تھا ان کا حصۂ میراث ان کو دیدیں تو حضرت ابو بکر ؓ نے ان کو جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہم انبیاء کے مال میں عمل میراث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے(بخاری میں اس جگہ لکھا ہے کہ ہم انبیاء کی جماعت سے مراد رسول اللہﷺ کا اپنا وجود ہے،باقی انبیاء اس میں شامل نہیں)بہرحال اس پرحضرت فاطمہؓ کو رنجش پیدا ہوئی۔علامہ ابن حجر نے لکھا ہے کہ یہ ناراضگی محض ملاقات کے حجاب یا انقباض کی حد تک تھی۔ gآنحضرت ﷺ کی رحلت کے بعد آپ چھ ماہ تک زندہ رہیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے اپنا حصہ رسول اللہﷺ کے مال متروکہ خیبر و فدک میں سے اور اس مال صدقہ میں سے جو مدینہ منورہ میں موجود تھا طلب کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے جس طرح اس میں تصرف فرمایا ہے میں اس میں سے آپؐ کے کسی عمل کو نہیں چھوڑ سکتا۔ میں ڈرتا ہوں کہ اگر آنحضورؐ کے طریقہ عمل سے کچھ بھی چھوڑ دوں گا تو گمراہ ہو جاؤں گا۔
بخاری کی دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے البتہ آل محمد ؐ اپنی گزر بسرکے لیے اس میں سے لے سکتے ہیں، رہا سلوک کرنا تو خدا کی قسم!میں رسول اکرمﷺ کے رشتہ داروں سے سلوک کرنے کو اپنے رشتہ داروں سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔ i
حضرت فاطمہ ؓ کی آخری بیماری میں حضرت ابوبکرؓخلیفۃ المسلمین ملاقات کے لئے تشریف لائے اور حضرت فاطمہ ؓ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو حضرت علی ؓ نےحضرت فاطمہؓ کو اطلاع دی جس پر آپؓ ان کے پاس تشریف لائے۔پھرحضرت ابوبکر ؓ نےفرمایا کہ خدا کی قسم میں نے تو اپنا گھر بار ،خاندان اور قبیلہ صرف خدا کی رضا،اس کے رسولؐ کی رضا اور اہل ِبیت سے محبت کی خاطر چھوڑا تھا۔الغرض حضرت ابوبکرؓ کےسمجھانےاورحقیقت کھل جانےپروہ ان سےراضی ہو گئیں۔
شیعہ لٹریچر سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت ابوبکرؓحضرت فاطمہؓ کے پاس آئے اور وہ ان سے راضی ہو گئیں۔
حضرت فاطمہ ؓ نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خداﷺ کی وفات کے تین مہینے بعد تین3 جمادی الثانی بروز پير سن 11 ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔وفات کے وقت آپ ؓ کی عمر 21،22برس تھی۔ آپؓ کی تجہیز و تکفین میں ایک جدت تھی کیونکہ عورتوں کے جنازہ پر جو پردہ لگانے کا دستور ہے اس کی ابتداء ان ہی سے ہوئی ہے۔اس سے پیشتر عورت اور مرد سب کا جنازہ کھلا ہوا ہوتا تھا۔حضرت فاطمہ ؓ کی قبر کے متعلق بھی اختلاف ہے۔بعض کا خیال ہے کہ وہ جنت البقیع میں حضرت امام حسن ؓ کے مزار کے پاس مدفون ہوئیں لیکن طبقات کی متعدد روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دارعقیل کے ایک گوشہ میں مدفون ہوئیں۔
امام جعفر سے روایت ہے کہ جب حضرت فاطمہ ؓ کی وفات ہوئی تو حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ جنازے کیلئے تشریف لائے تو حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ آپ آگے آکر جنازہ پڑھائیں ۔ حضرت علی ؓ نے کہاکہ آپ ؓ خلیفۂِ رسول ؐہیں آپ ؓ ہی نماز جنازہ پڑھائیں۔چنانچہ حضرت ابو بکر ؓ نے حضرت فاطمہ ؓ کی نماز جنازہ پڑھائی۔


