آخری خواہش
گلی سے نکل کر میں نہر کے ساتھ ساتھ ہولی۔ میرا گھر قریب ہی تھا۔ طبیعت کے اضمحلال نے تھکا سا دیا تھا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر ایک گہری سانس لی اوربیل بجائی۔ میرے شوہر وکیل ہیں۔ گھر کے بیرونی حصے میں ان کا دفتر ہے جہاں عدالت سے ان کے واپس آتے ہی موکلوں کا آنا جانا شروع ہوجاتا ہے۔ وہیں سے اٹھ کر انہوں نے میرے لئے دروازہ کھولا۔ مجھے غور سے دیکھا اور پوچھا بہت دیر کر دی؟ …جی بس کچھ وقت لگ گیا۔
ہاں روشنے ماسی کی بہو اور بیٹا آپ کو بہت دعائیں دے رہے تھے کہ وکیل صاحب نے کفن دفن سے لے کر آج سوئم تک سارے اخراجات کے لئے کھلے پیسے دیئے سارے کام بہت اچھے ہو گئے۔ میں نے شاکی نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھااور تفصیل بتائی۔ وکیل صاحب جانتے تھے کہ میں ان سے ناراض ہوں۔ انہوں نے محبت سے مجھے دیکھا اور کہا آپ جائیں آرام کریں میں کچھ کام نمٹا کر آتا ہوں پھر تفصیل بتائیے گا۔ جی کہہ کر … میں اندر آگئی
آج روشنے ماسی کا سوئم تھا، وہ روشنے ماسی جس نے تیس سال ہمارے گھرانے کی خدمت کی تھی… میری خوشدامن صاحبہ نے مجھے ایک مرتبہ کہا تھاکہ روشنے بہت دکھی عورت ہے اس کے آخری سانس تک اس کا ساتھ نبھانا…اور اللہ جانتا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد میں نے ہمیشہ اس کا خیال رکھا …میں نے چادر اتاری پنکھا تیز کیا اور کولر سے ٹھنڈے پانی کا گلاس لے کر بیٹھی …ٹھنڈا پانی اور برف روشنے ماسی کو لے گیا …
ابھی چند ہفتے پہلے تک وہ بھلی چنگی ادھر ادھر آتی جاتی تھی۔ گرمیاں شروع ہو گئی تھیں اور برف کا کال پڑ رہا تھا۔ سارے گھر روشنے ماسی کو باری باری برف دیتے تھے۔ دوپہر کو وہ دو تین کٹورے برف لے کر گھر چلی جاتی کہا کرتی میری پوتی نے ٹھنڈا پانی ہی پینا ہوتا ہے اور بیٹے کے گھر آنے سے پہلے میں کولر ٹھنڈا نہ کر لوں تو جتنی گرم دوپہر ہوتی ہے اتنا میرا دل جلتا ہے … اس نے اپنے بیٹے کو چار سال پہلے قسم دے کر محلے کی واحد برف کی دکان پر جانے سے روک دیاتھا جب برف کے آخری ٹکڑے کے لئے دو نوجوان لڑکے اس طرح لڑ پڑے کہ ایک اپنے خون میں نہا گیا اور دوسرے کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔ ڈیڑھ کلو برف وہیں زمین پر پڑی پگھلتی رہ گئی تھی۔ روشنے ماسی نے اس دن کے بعد برف لوگوں سے مانگ کر گھر لیے جانی شروع کر دی…
کبھی کبھی میں اسے کہا کرتی بیٹا تمہارا نکما نکل آیا بہو تمہارا خیال نہیں کرتی پر تم سارا وقت اسی جوڑ توڑ میں رہتی ہو کہ کیسے انہیں آرام پہنچا دوں …
کیا کروں تم تو جانتی ہو بیوگی کی یہ ساری عمر میں نے اسی کے سہارے گزاری اب یہ نکھٹو نکلا یہ بھی میری قسمت ہے وہ دونوں مجھے پوچھیں نہ پوچھیں میں تو نہیں چھوڑ سکتی میری اولاد اور آگے اس کی اولاد ہے جو مجھے اور پیاری ہے …
وہ ایک شدید گرم دوپہر تھی جب اسی طرح برف مانگتے اکٹھے کرتے اسے لو لگ گئی وہ چکرا کر میرے گھر کے دروازے پر گر گئی …
رکشہ منگوایا محلے کے کلینک پر لے گئی دوائیں دے کر آرام کا کہہ کر ڈاکٹر نے بھیجا تو میں اسے واپس اپنے گھر لے آئی… وہ راضی نہ تھی پر آ گئی …
پھر وہ اٹھ نہیں سکی… بیٹا بہو دیکھنے تک نہ آئے …وہ روز کہے مجھے گھر بھیج دو میرا وقت قریب ہے … میں اسے تسلی دوں کچھ نہیں ہوتا تھوڑے دن آرام کر لو … ایک شام جب وکیل صاحب اپنے موکلوں سے فارغ ہو کر گھر کے اندر آئے تو ماسی کہنے لگی وکیل صاحب بہو سے کہیں مجھے میرے گھر بھجوا دے … کھانے کے بعد انہوں نے مجھے کہا تم روشنے ماسی کو اس کے گھر بھیج دو … میرا وہی جواب تھا کہ نہیں اسے گھر میں آرام نہیں ملے گا اسے اچھی خوراک اور آرام کی سخت ضرورت ہے …کچھ دن بعد کی بات ہے وکیل صاحب نے ایک دن عدالتوں سے آنے کے کچھ دیر بعد رکشہ منگوایا محلے کے ایک لڑکے کو بلوایا اور روشنے ماسی کو اس کے گھر بھجوا دیا میں احتجاج کرتی رہ گئی …
اور پھر دوہی دن بعد روشنے ماسی کے انتقال کی خبر آئی تو انا للہ پڑھنے کے بعد وکیل صاحب کے منہ سے شکر ہے سن کر میں حیرت اور صدمے سے گنگ رہ گئی … کوئی شخص کسی کے مرنے پر شکر بھی کر سکتا ہے …؟؟؟؟ بس اس دن سے میں سخت دکھ اور تکلیف کا شکار اور اپنے میاں سے دل دل میں ناراض تھی …
ٹھنڈی سانس لے کر میں نے پانی کا گلاس سائیڈ پر رکھا جو میرے ہاتھوں میں پکڑے پکڑے اپنی ٹھنڈک کھو چکا تھا …
اتنے میں دفتر کا وقت ختم ہو گیا شاید آخری موکل بھی چلا گیا تھا جب وکیل صاحب اندر آ کر میرے قریب ہی بیٹھے اور مجھے مخاطب کیا…
بیگم کیا سوچ رہی ہو؟؟؟ کچھ نہیں …
اچھا اب بتاؤ تم بتا رہی تھی کہ ماسی کے آخری کام سب اچھے سے ہو گئے …
یہ تو میں آپ کو بتا ہی چکی آپ بتائیں جب ماسی بیمار ہوئی آپ نے علاج میں کوئی کمی نہ چھوڑی پھر اس کا کفن دفن بعد کے سارے اخراجات بھی پورے کئے تو آخر اسے مرنے کے لئے گھر کیوں بھیج دیا کیا تھا زندگی کے آخری چار دن وہ یہاں آرام سے گزار لیتی؟ …وہ یہاں آرام سے نہیں تھی بیگم
یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟
یاد ہے وہ دن جب میں عدالت سے آیا وہ بہت تکلیف میں تھی میں نے رک کر اس کا حال پوچھا تو جانتی ہو اس نے کیا کہا تھا؟
اسنے کہا وکیل صاحب مجھے لگ رہا ہے میرا آخری وقت قریب ہے مجھے میرے گھر پہنچا دیں
مایوسی کی باتیں نہ کرو تم بھلی چنگی ہو جاؤ گی اور اس کمزوری میں وہاں کون تمہارا خیال رکھے گا؟
اب میں ٹھیک نہیں ہوں گی میرے پاس کچھ ہی وقت ہے اور میں چاہتی ہوں کہ میری جان میرے بیٹے کی چھت کے نیچے نکلے ورنہ برادری میں اس کی بڑی بے عزتی ہو جائے گی …۔


