غزل یا رب میرے گلشن کا شجر
تحریر:نور الصباح بدر جرمنی
یا رب میرے گلشن کا شجر تیرے حوالے
دل جان سے پیارا وہ پدر تیرے حوالے
کس ناز سے کس شان سے رخصت وہ ہوا ہے
وہ باپ وہ محمود بدر تیرے حوالے
یہ ہجر کا گھاؤ ہے جو بھرتا ہی نہیں ہے
کرنا ہے اسے اب تو مگر تیرے حوالے
ہر درد سہا تنہا اور چپکے سے تو نے
پھر باندھ لیا رخت سفر تیرے حوالے
وہ خلق کا پیکر وہ میری ماں کا سہارا
وہ لعل وہ نایاب گہر تیرے حوالے
دادا کا تھا وہ نور نظر آنکھ کی ٹھنڈک
دادی کی دعاؤں کا ثمر تیرے حوالے
راضی برضا رہنا ہے مجھ کو میرے پیارے
کرتی ہوں اسے تیری نظر تیرے حوالے
پیارے اسے رکھنا تو بہشتوں میں ہمیشہ
مشکل سے ہے اب آیا صبر تیرے حوالے

