عظیم دیوار چین
چین کی بڑی دیوار مٹی اور پتھر سے بنی ایک قلعہ نما دیوار ہے
جسے چین کے مختلف حکمرانوں کی طرف سے شمالی حملہ آوروں سے دفاع کے لئے پانچویں صدی قبل مسیح سے لے کر سولھویں صدی عیسوی تک تعمیر کیا گیا تھا۔ اس دیوار کی عظمت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسانی ہاتھ کی کاریگری سے بنی اس عظیم دیوار کوخلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ انیسویں صدی کے بعد آنے والے سیاحوں نے اس کے بارے میں غلط افواہیں مشہور کر دیں کہ دیوار چین کو چاند یا مریخ پر جا کے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔1856ء سے لے کر 1860ء تک چین کی مغربی ممالک سے دوسری جنگ کے بعد جب چینیوں نے تجارت اور سیاحوں کی آمدورفت کے لئے اپنے بارڈر کھول دیے تو چین کی یہ عظیم دیوار سیر و تفریح کے لیے سب سے انوکھا اور پرکشش مقام ہوا کرتا تھا۔یہ دیوار 6،400 کلومیٹر (10،000 لی، چینی لمبائی کی پیمائش یونٹ) کے علاقے میں پھیلی ہے ۔اس توسیع سابق میں شانھاگان سے مغرب میں لپ نر تک ہے، اور کل لمبائی تقریبا 6700 کلومیٹر (4160 میل) ہے۔
چین عظیم دیوار کی لمبائی 7۔ 6 میٹر ( 26 فٹ ) اور چوڑائی 5 میٹر سے زیادہ تقریباً (16 فٹ ) ہے۔تاہم آرکیالوجیکل سروے کے حالیہ سروے کے مطابق مجموعی طور پر عظیم دیوار، اپنی تمام شاخوں سمیت 8،851۔ 8 کلومیٹر (5،500۔ 3 میل) تک پھیلی ہے۔
منگول خاندان کی حفاظت کے لئے دس لاکھ سے زیادہ لوگ اس دیوار پر مقرر تھے۔ یہ متوقع ہے، کہ عظیم دیوار کے منصوبے میں تقریبا 20 سے 30 لاکھ لوگوں نے اپنی زندگی اسے تعمیر کرنے میں لگا دی تھی۔ایسی بہت سی باتیں مشہور ہیں کہ فاتحین نے لاکھوں لوگوں کو اس دیوار میں دفن کیا یا چینی حکمرانوں کی توہم پرستی کہ باعث بچوں کی بھینٹ دیوتا کی نظر کی جاتی تھی اور انسانی ہڈیاں پیس کر ان سے اینٹیں تیار کی جاتی تھی تا کہ دیوار مضبوط اور قائم رہے لیکن یہ سب افواہیں ہیں۔ ابھی تک کسی دیوار کی بنیاد میں انسانی ہڈیاں نہیں ملی ہیں، بنیاد میں بھی چاول کے آٹے سے بنی ہوئی اینٹیں ملی ہیں۔ البتہ دیوار سے ملحقہ علاقے میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی قبریں ضرور ہیں۔
ان میں سے کچھ دیواریں 700 سال قبل مسیح تعمیر کی گئی تھی جنہیں بعد میں آپس میں جوڑ دیا گیا۔ جنگجو حملہ آوروں سے بچاؤ کے علاوہ دیوار بنانے کے دیگر مقاصد میں ملک کا بارڈر یا حدود مقرر کرنا اور تجارتی اغراض و مقاصد کے لئے ذرائع نقل و حمل کی نگرانی کرنا شامل تھے۔ دیوار پر نگرانی کے لئے فوجی دستوں کے لئے مینار، فوجی بیرک اور خوراک کے گودام بھی بنائے گئے تھے۔ سپاہی ایک چوکی سے دوسری چوکی تک دھوئیں اور آگ سے ایک دوسرے کو مخصوص پیغام بھیجتے تھے۔
ایک اور تحقیق کے مطابق اس عظیم دیوار چین کی تمام شاخوں کی کل لمبائی 21,196 کلومیٹر بنتی ہے۔اس دیوار کو چائینیز زبان کی 100 سال قبل مسیح کی قدیم تحریر میں چانگ چنگ لکھاگیا ہے جس کے معنی ( لمبی دیوار)کے ہیں۔ 19ء صدی عیسوی میں جب مغربی ممالک کے علاقے فتح کرتے ہوئے چین پہنچے تو انہوں نے اس کا نام “عظیم دیوار چین” رکھا۔
اس دیوار پر 25,000 کے قریب نگرانی کے مینار موجود ہیں۔ چین کے منگ خاندان پر منگول خاندان ہر سال وقفے وقفے سےحملے کرتے رہتے تھے، اس دوران دیوار کو جو نقصان پہنچتے ان کی مرمت کر لی جاتی تھی۔ منگ دارالحکومت کے پاس کی دیواریں بہت مضبوط تھیں۔ کی جگوانگ نے 1567ء سے لے کر 1570ء تک اس کی مرمت کا کام کروایا۔ منگولوں کے آنے کی خبر سن کر 1,200 نئے فوجی نگرانی کے مینار تعمیر کروائے گئے تھے۔ چین میں ریاست کی حفاظت کرنے کے لئے دیوار بنانے کی شروعات ہوئی آٹھویں صدی عیسوی میں جس وقت کی (Qi)، یان (Yan) اور زاھو (Zhao) ریاستوں نے تیر اور تلواروں کے حملے سے بچنے کے لئے مٹی اور پتھر کے میٹیریل کی مضبوط اینٹیں تیار کی گئیں جس سے دیوار کی تعمیر کی گئی۔
اس سے 221 سال پہلے چینی حکمران کن (Qin) نے اپنی سلطنت بنائی۔ اس سلطنت نے تمام چھوٹی ریاستوں کو ایک کر کے ایک عظیم چین کی بنیاد رکھی۔ بعد میں کن سلطنت سے حاکم شاسكو نے سابق میں بنائی ہوئی مختلف دیواروں کو ایک کر دیا جو چین کی شمالی سرحد پر بنی ہوئی ہے۔پانچویں صدی سے بہت بعد تک ڈھیروں دیواریں بنیں، جنہیں ملا کر چین کی عظیم دیوار کہا گیا۔ قدیم دیواروں میں سے ایک 220-206 قبل مسیح میں چین کے پہلے حکمران کن شی ہوانگ نے بنوائی تھی۔ اس دیوار کے حصہ کے کچھ ہی باقیات بچے ہیں۔ یہ منگ خاندان کی طرف سے بنوائی ہوئی موجودہ دیوار کے دور شمال میں بنی تھی۔
نئے چین کی بہت لمبی سرحد حملہ آوروں کے لئے کھلی تھی اس لئے کن شاسكو نے دیوار کو چین کی باقی حدود تک پھیلانا شروع کر دیا۔ اس کام کے لئے سخت محنت اور رسد کے ذرائع کی ضرورت تھی۔ دیوار بنانے کے مواد کو حدود تک لے جانا ایک مشکل کام تھا اس لئے مزدوروں نے مقامی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے پہاڑوں کے قریب پتھر کی اور میدانوں کے قریب مٹی اور پتھر کی دیوار تعمیر کی۔
ماضی میں مختلف سلطنت جیسے ہان، انجکشن، شمالی اور جنہوں نے دیوار کی وقت وقت پر مرمت کروائی اور ضرورت کے مطابق دیوار کو مختلف ہدایات دے کر استوار کیا اور لمبائی میں اضافہ کیا گیا۔آج یہ دیوار دنیا میں چین کا نام بلند کرتی ہے، اور يونیسكو کی طرف سے 1987ء سے اس عظیم دیوار کو عالمی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ ۔ !!


