یتیم لڑکا
وہ بیٹھا ہے لڑکا جھکائے جو سر
اٹھاتا نہیں ہے کبھی جو نظر
ٹپکتا ہے چہرے سے جس کے ملال
سبھی جانتے ہیں کہ ہے خوش خصال
خزاں بن کے آئی جو بادِ نسیم
تو بچپن میں ہی ہوگیا وہ یتیم
اچانک ہی اجڑا امنگوں کا باغ
بجھا اس کی خوشیوں کا روشن چراغ
جو رکھتے تھے سر پر محبت سے ہاتھ
چھڑایا ہے تقدیر نے ان کا ساتھ
امیدوں کا شعلہ لہکتا نہیں
چہکنے کے دن ہیں چہکتا نہیں
بہت غمزدہ ہے بہت ہے اداس
چلو چل کے بیٹھیں ذرا اس کے پاس
اسے خوش کریں اپنی باتوں سے ہم
کہ وہ بھول جائے ہر اک درد و غم
وہ لڑکا اگر مسکرانے لگے
تو اپنی محبت ٹھکانے لگے

