متفرق

علم عروض

Spread the love

۔ تحریر طاہرہ زرتشت

علمِ عروض ايک ايسے علم کا نام ہےجس کے ذريعے کسي شعر کے وزن کي صحت دريافت کي جاتي ہے، يعني جانچا جاتا ہے کہ آيا کلام موزوں ہے يا ناموزوں ہے۔ يعني وزن ميں ہے يا نہيں ۔ يہ علم ايک طرح سے منظوم کلام کي کسوٹي ہے، اس علم کے ديگر علوم کي طرح ، کچھ قواعد اور قوانين ہيں  جن کي پاسداري کرنا،کلامِ موزوں کہنےکے لئے لازم ہے۔ اس علم کے ذريعے کسي کلام کي بحر متعيّن کي جاتي ہے۔ اس علم کے باني يا سب سے پہلے جنہوں نے اشعار پر اس علم کے قوانين کا اطلاق کيا وہ ابو عبد الرحمٰن خليل بن احمد بصري ہيں ۔

علمِ اوزان کے موجد ابو عبد الرحمٰن خليل بن احمد بصري ايک عالم انسان تھے وہ ايک عربي عالم ہونے کے ساتھ ساتھ  علمِ ہيئت ، علمِ بيان ،علمِ نجوم ، فلسفہ اور تاريخ کےبھي عالم تھےاور بلند پايہ شاعر بھي تھے۔

آپ کي پيدائش 718 عيسوي اور وفات نومبر 790عيسوي ميں ہوئي ۔ آپ عمان ميں پيدا ہوئے۔ اور عجمي نسل سے تھے۔ آپ نے اپني زندگي کا بڑا حصہ بصرہ ميں گزارا اور وہيں وفات پائي۔

عربوں ميں اسلام سےپہلے بھي شاعري عام تھي ۔اور اس قديم شاعري ميں بھي وزن موجود تھاليکن بہتري کي گنجائش تو ہر فن ميں ہميشہ موجود رہتي  ہے۔ اس علم کے بننے سے پہلے بھي شعر کہے جاتے تھے۔بلکہ ايامِ جاہليت کے شاعر تو بہت مشہور ہيں ۔ تو کيا اس وقت اشعار ميں وزن موجود نہيں تھا ، بالکل تھا۔ليکن اس وقت کے شعراء کے نزديک وزن کا معيار علمِ عروض کے قوانين کي بجائے ذوقِ سليم اور وجدان تھا۔ اور اس وقت کے شعراء کسي معيار يا ميزان نہ ہونے کي وجہ سے  بعض اوقات غلطي بھي کر جاتے تھے۔ اور اِنہيں شعراء کے کلام کو سامنے رکھ کر خليل بن احمد نے اس علم کے قوانين متعين کئے۔ اور انہي غلطيوں کو بعد ميں زحافات اور سکتہ کا نام ديا گيا۔ اور يوں يہ بات بالکل درست ہے کہ عروض کے قوائد شاعري کو سامنے رکھ کر بنائے گئے، نہ کہ ان قواعد کو سامنے رکھ کر شاعري کي جاتي ہے۔

ليکن خليل بن احمد کو يہ اعزاز ضرور حاصل ہےکہ سب سے پہلے انہوں نے اس علم کے قواعد و قوانين رياضي اور موسيقي کے اصولوں پر وضع کئے۔ اور ان کا اطلاق شاعري پر کيا۔

 کہا جاتا ہے کہ وہ اس علم کے مجدد اور امام ہيں بلکہ يہ خليل ہي تھے جنہوں نے اس علم کو جديد ادبي تقاضوں کے پيشِ نظر سنوارا ، نکھارااور اس ميں قابلِ قدر اضافے بھي کئے ۔

اگرچہ خليل بن احمد کا کيا ہؤا کام تحريري صورت ميں نہيں ہے تاہم اس کو بنياد بنا کر علامہ المتشرقي نے اپني کتاب “ محيط الدائرہ” تحرير کي جسے عربي ميں عروض کي حيثيت حاصل ہے۔ جس ميں بعد ميں آنےوالےاہلِ ، ادب  وقت کي ضرورت کے تحت تبديلياں کرتے رہے۔اس طرح يہ علم وقت کي تلخياں اور نرمياں سہتا ہوا مختلف ادوار سے ہوتا ہوا مسلمانوں کے ساتھ ہي ديگر علوم کے ساتھ ہندوستان پہنچا۔ہندوستاني ادب نے بھي  اپني ضرورتوں کے مطابق کچھ تبديلياں کر کے اسے قبول کر ليا۔ اس طرح يہ علم کئي سو سال نہيں بلکہ کئي ہزار سالوں کي مسافت طے کرنے کے بعد جديد شکل ميں ہمارے سامنے ہے ۔ يہ مضمون بے حد وسيع ہے اور علماء نے  اس پر اب تک بے شمار کتب و رسائل لکھےہيں۔ جن ميں کچھ باتوں پر اختلاف رائے بھي پايا جاتا ہے۔

خليل ابنِ احمد کي طبيعت بچپن ہي سےہر فن ميں  کمالِ عروج پر پہنچنے کي طرف راغب تھي ۔ آپ قرآن وحديث کے بلند پايہ عالم تھے ، اور زُھد و تقوٰ ي ميں بھي بے نظير تھے ۔انہيں انساب عرب ، اشعارِ عرب نحو اور لُغت ميں بھي امامِ وقت تسليم کيا جاتا ہے۔

  خليل بن احمد نے دعا کي تھي کہ “ اے اللہ مجھے وہ علم عطا فرما جو تُو نے اس سے پہلے کسي کو نہ بخشا ہو”

کہتے ہيں کہ اسي دعا کے نتيجے ميں يہ علم آپ کو الہام کيا گيا۔ جس وقت خليل نے اس علم کے اصول و ضوابط متعين کئے اس وقت وہ اتفاقًا مکہ معظمہ ميں تھے۔

يوں تعظيمً و تبرکاً اسے عروض کا نام ديا گيا۔ کيونکہ مکہ کا ايک نام عروض بھي ہے۔

عروض اس شئے کا نام ہے جس شئے پر کوئي شئے عرض کي جائےاس فن ميں چونکہ اشعار کو عرض کرتے ہيں ۔ اس پر پھيلاتے ہيں ۔ اس لئے اسے عروض کا نام ديا گيا۔ خيمے کے ستون کو بھي عروض کہتے ہيں ۔ اس کے علاوہ بھي کئي اور معنٰي ديگر کتابوں ميں ملتے ہيں ۔ جس کا مفہوم يہي بنتا ہےايسي چيز جو شعر کے لئے راہنما اور مفيد ہو ۔

خليل بن احمد نے کل پندرا بحريں  ايجاد کيں ۔ جن کے نام درجِ ذيل ہيں ۔

بحرِ ہزج ،بحرِ رجز، بحِر رمل ،بحرِ کامل ، بحرِ وافر ، بحرِ متقارب، بحرِ طويل ،بحرِ مديد ، بحرِ بسيط، بحرِ سريع ،بحرِ خفيف، بحرِ مجتث، بحِر منسرح ، بحرِ مضارع ، بحرِ مقتضب

خليل بن احمد کي پندرا بحروں کے بعد اس ميں چار بحروں کا اضافہ ايران والوں نے کيا۔ اور يہ انيس بحريں ابھي تک رائج ہيں ۔ يہ انيس کي انيس بحريں نہ تو عربي ميں مستعمل ہيں نہ فارسي ميں اور نہ اردو ميں ، بلکہ ان تينوں زبانوں کے بولنے والوں نے اپني اپني زبان اور اپنے اپنے ذوق اور اپني ضرورت کے مطابق کچھ مخصوص بحريں استعمال کي ہيں ۔ اور يہ انيس بحريں سالم حالت ميں ہيں ۔ يعني ان ميں کسي قسم کا تغيّر و تبّدل نہيں کيا جاتا۔ مختلف زحافات کے استعمال کے بعد جو نئي بحريں بنتي ہيں تو ان کي تعداد سينکڑوں ميں پہنچ جاتي ہيں ۔

نو آموز شاعرات کو عمومًا کسي غزل کا طرحي مصرعہ گرہ لگانےکے لئے ديا جاتا ہے۔

آپ طرحي مصرعہ پر  طبع آزمائي کي مشق کرتے کرتے باقي رموزِ شعر وسخن سے بھي آہستہ آہستہ واقف ہونےلگتےہيں۔ ليکن در اصل يہاں سے سفرکا آغاز ہوتا ہے۔يہ سفر محنت اور لگن کا متقاضي ہے۔ اردو ادب ميں شعراء کے ہاں استادي شاگردي کا سلسلہ روزِ اوّل سے موجود ہے۔

 شاعري کا فن ايسا ہے کہ صرف کتابيں پڑھ لينے سے يا اپنے وجدان کي بنياد پر ايک حد تک تو گرفت ہوسکتي ہے مگر کامليت نہيں آسکتي۔ اس کے لئے اساتذہ کي ضرورت پيش آتي ہے۔

 اس فن پر بے شمار کتب موجود ہيں ۔ان کا مطالعہ کرنے سے ذہن کے دريچےکھلتے ہيں ۔اس کے لئےمطالعہ کا وسيع ہونا بھي نہايت اہم ہے۔ شاعري سيکھنے کے لئےعمر درکار ہوتي ہے۔

 نسلِ انساني کي پوري شعري تاريخ ميں شعر کا کم از کم وصف آہنگ قرار پاتا ہے۔ نظم اور نثر ميں امتياز آہنگ ميں ہونے يا…… نہ ہونے کي بناء پر ہوتا رہا ہے۔ البتہ شعر کے اچھے يا برے ہونے کا دارومدار صنائع و بدائع کي پيچيدہ تفصيلات کي روشني ميں کيا جاتا ہے۔ يہ بات بھي درست ہےکہ آہنگ ميں لکھي ہوئي ہر بات بھي شعر نہيں کہلا سکتي۔

اوزان  يا بحر ميں نہ لکھي ہوئي تحرير نثر کہلاتي ہے۔ کيونکہ نثر کي تو بنياد ہي يہي ہے کہ وہ اوزن ميں نہيں ہوتي ۔

آہنگ ايسي چيز ہے کہ اس کا ايک اپنا لطف ہے جب آپ مصرعہ کو گنگناتے ہيں تو آہستہ آہستہ وہ آپ کےنُطق پر رواں ہونے لگتا ہے اور جب مصرعہ رواں ہوجائے اور پکڑ ميں آجائے تو آپ مزيد اشعار کہنے کے قابل ہوجاتے ہيں ۔

آخري اور اہم بات استقلال ہے ۔ سيکھنے کا عمل ان تھک محنت ، لگن اور صبرکا متقاضي ہے۔ مسلسل محنت ، لگن سے بالآخر منزليں طے ہوجايا کرتي ہيں ۔ کسي شاعر نے کيا خوب کہا ہے۔

آسانيوں سے پوچھ نہ منزل کا راستہ

اپنے سفر کي راہ ميں موتي تلاش کر

ذرّے سے کائنات کي تفسير پوچھ لے

قطرے کي وسعتوں ميں سمندر تلاش کر

نوٹ: يہ معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کي گئي ہيں ۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *