شادی نہ ہوئی گاؤں کا میلہ ہو گیا…
۔ تحریر صبا حسین
کورونا وائرس نے جہاں زندگي کي باقي ترجيحات کو بدلا ہے، وہاں لگے ہاتھوں شادي کي تقريبات کے رنگ بھي پھيکے کرديے ہيں۔ ڈھول باجے ٹھنڈے ہوگئے ہيں اور ہلا گلا بھي قريبي رشتہ داروں تک محدود ہو کر رہ گيا ہے۔
شادي کي تقريب دراصل معاشرے ميں دو نامحرموں کے درميان تعلق کو قانوني حيثيت دينے کي ايک رسم ہوتي ہے۔ ہوتے ہوتے يہ تقريب اب طرح طرح کي اخلاقيات اور اوقات سے زيادہ اخراجات کي پابند ہو گئي ہے۔ بچوں کي شادي کے انتظامات کے ليے ماں باپ ساري زندگي منصوبہ بنديوں ميں گزار ديتے ہيں۔ سماجي طور پر اس موقع کو اتنا اہم سمجھا جاتا ہے کہ دور پرے کے رشتے داروں، ان کے بھي رشتہ داروں، اپنے دوستوں، دفتر کے ساتھيوں بزنس پارٹنروں سميت دور قريب کے سب لوگوں کو بلانا لازمي ہوتا ہے۔ پھر اس شادي پر آنے والے اخراجات کو ديکھ کر اندازہ لگايا جاتا ہے کہ اس جوڑے ميں کتنا دم ہے۔
کورونا وائرس کي ‘برکت‘ سے اب شادي کي تقريبات اور سرگرمياں محدود ہوتي نظر آرہي ہيں۔ بڑے بڑے پنڈالوں، کھانےکي ميزوں اور جگمگاتي روشنيوں کي جگہ اب مناسب طور طريقوں ميں ان تقريبات کو ڈھالنے پر غور کيا جا رہا ہے۔ روايتي طور طريقوں کے ساتھ مخصوص لوگوں کي شرکت، محدود وسائل اور کم پرائز ٹيگز کے ساتھ ان تقريبات کو ديکھيں تو لگتا ہے لوگ يہي کچھ چاہتے تھے مگر انہيں بہانہ نہيں مل رہا تھا۔ اب بہانہ مل گيا ہے تو وہ حقيقت اور سہولت کي طرف لوٹنے ميں ذرا آساني محسوس کر رہے ہيں۔
شادي کي تقريب ميں سب سے اہم موقع وہي ہوتا ہے، جس ميں دلہن اور دلہا رضامندي کا اظہار کرتے ہيں۔ اتني سي بات کو بڑھا کر ہم گاؤں کا ميلہ تو بنا ديتے ہيں مگر اس حقيقت پر غور نہيں کرتے کہ اس ميں تفريح کا سامان قريبي لوگوں کے علاوہ کسي کے ليے نہيں ہو سکتا۔ آپ شادي کم بجٹ پر کريں يا زيادہ پر، يہ آپ کي اپني مرضي ہے۔ مگر يہ بات ذہن ميں رہے کہ پرائز ٹيگز کے ساتھ بھي وہ ويسا ہي ماجرا ہوتا ہے، جيسا سہولت کے ساتھ ہونے والي شادي کا ہوتا ہے۔
شادي بنيادي طور پر ازدواجي زندگي کے ليے کيا جانے والا وہ فيصلہ ہے، جس کے بعد فيملي جيسے ادارے کي بنياد پڑتي ہے۔ تاريخ ميں ہميشہ اس فيصلے کے اعلان کو اہميت حاصل رہي ہے۔ قرون وسطي ميں لوگ ڈھول باجوں کے ذريعے، آس پاس کھانے کي تقسيم کے ذريعے، بوسے کے ذريعے يا کسي بھي عوامي اعلان کے ذريعے اپنے اس فيصلے کا اعلان کرديا کرتے تھے۔
لہذا، ميں جو کچھ کہنے کي کوشش کر رہي ہوں وہ يہ ہے کہ شادي کي تقريب کرنا کچھ ايسي غلط بات يا روايت نہيں ہے۔ بس اتني بات کا دھيان رکھنے کي ضرورت ہے کہ يہ دوسري تمام سماجي تقريبات جيسي ہي ايک تقريب ہوتي ہے۔ مسئلہ صرف يہ ہے کہ اس تقريب کو انوکھي حيثيت دينے کے ليے ہم ہر حوالے سے اس حد تک چلے جاتے ہيں کہ معاملہ غير حقيقي لگنے لگتا ہے۔ خوشي سے زيادہ يہ ايک ايسا بوجھ لگنے لگتي ہے، جو ہم لوگوں کو متاثر کرنے کے ليے اپنے سر ليتے ہيں۔
اب تو سوشل ميڈيا صارفين کي مہرباني سے جوڑے، خاص طور پر دلہن کے حوالے سے غير ضروري اور غير حقيقي توقعات کي بمباري کر رہے ہوتے ہيں کہ ان کي زندگي کا يہ بڑا دن کس رنگ ڈھنگ کا ہونا چاہيے۔ ٹي وي، فلموں، رسالوں اور ديگر مشہور ثقافتي مراکز ميں بڑے پيمانے پر يہ بات ذہن ميں بٹھانے کي کوشش کي جاتي ہے کہ يہ شادي کي تقريب محض کوئي تقريب نہيں ہوتي بلکہ يہ توکوئي مقدس دن ہوتا ہے جب دو افراد پوري زندگي ايک دوسرے کے ليے ‘وقف‘ کرنے کا عہد و پيمان کرتے ہيں۔
انسان سماجي زندگي ميں جن چيزوں کو جو مطلب ديتا ہے اسي کو ديکھتے ہوئے عمل کرتا ہے يا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں ميں ہم سماجي توقعات کو ہر چيز سے بڑھ کر اہميت ديتے ہيں۔ يہ سمجھنا کہ اچھي شادي اور وفاومحبت کا ثبوت پرائز ٹيگز ہوتے ہيں، يا اپني خواہشات کو پورا کرنے کے ليے دوسروں کي توقعات پر پورا اترنا ضروري ہوتا ہے، تو يہ ايک غير حقيقي دوڑ ہے اور لاحاصل سي جنگ۔ ذہني سکون کو بڑھانا ہے تو ايک بار مہمانوں کي فہرست گھٹا کر ديکھ ليں۔


