شعر و شاعری ماہ نومبر ۲۰۲۰
غزل
بشریٰ سحر کولکتہ
ہماری زندگی پر زندگی اب ناز کرتی ہے
ہوئے تم دوست ایسے دوستی اب ناز کرتی ہے
تمہارے حسن پر اب ہوگیا خود آئینہ شیدا
تمہاری سادگی پر سادگی اب ناز کرتی ہے
نہ کچھ بھی کہہ کے سب کچھ کہہ دیا خاموش آنکھوں نے
تمہاری گفتگو پر خامشی اب ناز کرتی ہے
غموں کی دھوپ کی شدت سے جو مرجھایا رہتا تھا
ترے چہرے پہ گل کی تازگی اب ناز کرتی ہے
نہ کوئی دوست تھا اپنا نہ کوئی اپنا ہمدم تھا
تمہاری دلبری پر دلبری اب ناز کرتی ہے
غزل بشریٰ سحرؔ کی سن کے یہ اہلِ سخن بولے
تمہاری شاعری پر شاعری اب ناز کرتی ہے
ززز
غزل
بشارت سکھی جرمنی
کتنا دل کش ہے ترے پیار کا اظہار کہ بس
روح تک ہوگئی ہے مری سرشار کہ بس
زیست ہر لمحہ ہوئی جاتی ہے آزار کہ بس
ہو رہے وقت کے ہاتھوں سبھی لاچار کہ بس
تند لہجوں سے سدا گھاو کھرچنے والے
ہم کو تو ایسے ملے ہیں سبھی غم خوار کہ بس
بعد تیرے تو ہنسی روٹھ گئی ہونٹوں سے
ایسا اجڑا ہے مری خوشیوں کا سنسار کہ بس
عرش بھی شرم سے ہو اٹھا تھا پانی پانی
بنت حوا ہے لٹی ایسی سر بازار کہ بس
ماورا لمس کی چاہت سے محبت ہے مری
ہم نے تو رکھا محبت کا یہی معیار کہ بس
جسم خاکی سے کہاں عشق نبھایا جائے
عشق تو کھینچ کے لے جائے سر دار کہ بس
درد وہ دل میں اٹھے ہے کہ نہ پوچھو ہمدم
فرقت غم نے ہمیں ایسا کیا لاچار کہ بس
رنج وغم ہی تو مری زیست کے مخزن ٹھہرے
عمر بھر سینت کے رکھا یہی سنسار کہ بس
ربط کیسا ہے مرا درد کی زنجیروں سے
ہر قدم پر ہے اٹھی درد کی دیوار کہ بس
ایک مسکان کی قیمت یوں چکائی دل نے
چھن گئے ہوش و خرد کر دیا لاچار کہ بس
باندھ رکھا تھا جسے صبر کے دھاگوں سے سکھی
ضبط یوں ٹوٹ کے رویا ہے مرے یار کہ بس
نظم
(وقت ملا تو سوچیں گے)
آصفہ بلال پاکستان
تم عورت ہو
وہ عورت جو کہ
ماں،بہن اور بيٹي ہے
وہ عورت جس کے کاندھوں پر
احساس کے بھاري بوجھ بھي ہيں
اور سوچ کے وزني طوق بھي ہيں
يہ بوجھ اٹھائے پھرتي ہو
يہ طوق سجائے پھرتي ہو
نہ رکتي ہو
نہ تھکتي ہو
کبھي بيٹي بن کر رہتي ہو
کبھي بيوي بن کر سہتي ہو
جب ماں کے روپ ميں آو تو
ممتا کي لوري کہتي ہو
پر جب بات تمہاري ذات کي
اور بات تمہاري بات کي ہو
تو ہنس کے تم کہہ ديتي ہو
خود کو بھي کبھي ہم کھوجيں گے
وقت ملا تو سوچيں گے
کچھ خواب تمہارے بھي ہوں گے
کپڑوں ،مہندي اور زيور کے
کچھ شوق تمہارے بھي ہوں گے
ہر شوق کو وار ديا تم نے
ہر خواب کو مار ديا تم نے
پر پھر بھي فرض نبھايا ہے
سکھ بانٹ کے غم اٹھايا ہے
خود کے بارے ميں پوچھو تو
ہر بار جواب يہ آيا ہے
خود کو بھي کبھي ہم کھوجيں گے
وقت ملا تو سوچيں گے
جب سارے فرض نبھا بيٹھي
اور سارے قرض چکا بيٹھي
اب ڈھونڈتي ہو ان رشتوں کو
جنھيں خون سے اپنے سينچا تھا
سينے سے اپنے بھينچا تھا
پر دور تلک تنہائي ہے
نہ بيٹا،باپ نہ بھائي ہے
اب سارے تم کو چھوڑ گئے
وہ رشتے بھي منہ موڑ گئے
اب ان کو صدائيں ديتي ہو
پھر بھي تم دعائيں ديتي ہو
ان بچوں کو جو کہتے ہيں
ہم ماں کا بوجھ کيوں سہتے ہيں
ہم کاموں ميں مصروف بہت
ہم ماں کو کيسے ديکھيں گے
وقت ملا تو سوچيں گے
يہ بوجھ بہت ہي بھاري ہے
کل ميں نے رکھا تھا ماں کو
آج چھوٹے بھائي کي باري ہے
يہ باتيں سنتي رہتي ہو
اور دکھ جگر پہ سہتي ہو
پھر بھي خاموش ہي رہتي ہو
اک دن يونہي سو جاو گي
اس مٹي ميں کھو جاو گي
اس وقت تمہيں وہ کھوجيں گے
وقت ملا تو سوچيں گے
وقت ملا تو سوچيں گے
ززز
اب اسي گلشن ميں لوگو راحت و آرام ہے
(صفيہ صفي چيمہ فرينکفرٹ)
اب اسي گلشن ميں لوگو راحت وآرام ہے
تم ہو قسمت کے دَھني، بيٹھے ہو اس گلشن ميں آج
دي بشارت نبيء اعظم مصطفےنے جس کي دي
وہ حسيں فارس نسل ہے ہر طرف مشہور آج
لائےگا ايماں ثريا سے زميں پر پھر سے وہ
ڈال رکھي ہيں کمنديں ايم ٹي اے نے ديکھو آج
چاند اور سورج نے خود بڑھ کے گواہي جس کي دي
ہے غلام احمد مسيح و مہدي و موعود آج
ختم کر ڈالے گا فتوے سب جہاد و جنگ کے
تير نہ تلوار جائز، ہے قلم ہتھيار آج
سانپ سے کھيليں گے بچے، شير و گوسپند ايک گھاٹ
دل پڑيں گے نرم سارے ، پھيلے گي الفت يہ آج
در تھے بند اسلام کے ، ديں کي حمايت سَرد تھي
ڈوبنے کو تھي جو کشتي ، کيسي اُبھري ہے وہ آج
وہ نوشتے اور خزائن جو پڑے اندر نہاں
جھولياں بھر بھر کے بانٹے اس جري اللہ نے آج
تو نے دي قرآں کو عزت، پائي عزت اے مسيح
آسماں پر تيري عظمت اور زميں روشن ہے آج
کيا عيسائي، آريہ ، ہندو دھرم سب ختم ہيں
اک خدا ہے اک محمد، ايک قرآں سن لو آج
سب کا تھا مسلک ، الہام و وحي اب بند ہے
سچے اللہ سے تعلق باندھ کر بتلايا آج
بادشاہ پائيں گے برکت تيرے کپڑوں سے مسيح
ديکھي ہم نے چشم ِنم سے پُوري ہوتي بات آج
تھا تيرا وعدہ ميرے مولا کہ پھيلائے گا تُو
اور پھيلا شش جہت ميں ہر طرف پيغام آج
ہے بِنا تقوي ٰپہ سارے دين کي سُن اے بشر
کوئي رنگ بھي رنگ تقوي ٰسے نہيں ہے بڑھ کے آج
کيا خدا تيرا بھلا تيرے لئے کافي نہيں
خود خدا کي ذات نے پورا کيا الہام آج
اسمعو صوت السماء کي ہے نِدا چاروں طرف
آسماني اورزميني رابطے قائم ہيں آج
اے مسيحا تيرے دم سے ہي بقاء اسلام کي
بے شمار نسليں صفي اُس کي وہ ابراہيم آج
ززز
جينا محال کرتے ہيں
حميرا نگہت
جو ہم فراق ميں آنکھوں کو لال کرتے ہيں
تو خير خواہ بھلا کيوں ملال کرتے ہيں
بلا ليا ہےانھيں سوچ کر يہ چائے پر
جو ربط ٹوٹ گئے ہيں بحال کرتے ہيں
چھڑک رہے ہيں مسلسل نمک ہي زخموں پر
يہ حال پوچھنے والے کمال کرتے ہيں
بہل تو جاتا ترے بعد دل مگر کچھ لوگ
تمھارا پوچھ کے ،جينا محال کرتے ہيں
ہمارے دل کو ترے غم نے يوں اجاڑا ہے
کہ جيسے قحط زميں پائمال کرتے ہيں
يہ کوئے عشق ہے نگہت جہاں سبھي عاشق
بس ايک ورد پہ ہوُ کے دھمال کرتے ہيں
ززز
غزل
طاہرہ زرتشت نازؔ
جو ساتھ ساتھ رہا ہر گھڑي دعاؤں ميں
وہ شخص چھوڑ گيا ہم کو ابتلاؤں ميں
کڑي تھي دھوپ غضب کي کہ پاؤں جلتے تھے
نہ مل سکا ہميں سايہ شجر کي چھاؤں ميں
مرے وطن کي فضاؤں ميں گھول کر بارود
«يہ زہر گھول گيا کون ان ہواؤں ميں»
نہ چھوڑنا رہا ممکن نہ بھولنا ممکن
عجيب بيڑي پڑي ہے ہمارے پاؤں ميں
کڑا ہے وقت سرا سيمگي کا عالم ہے
کہ دم بھي گھٹنے لگا ہے اب اپنے گاؤں ميں
عزيز تر ہے مجھے نازؔ بر گزيدہ شجر
ليا ہے گھير جسے ملگجي گھٹاؤں نے
ززز
غزل
نُزہت جہاں ناز
جگمگاتا سا مقدر کا ستارا ہوتا
ساتھ ہم کو جو ميسر وہ تمہارا ہوتا
آشيانہ کہيں اک ايسا ہمارا ہوتا
پھر محبت سے جسے خوب سنوارا ہوتا
جو ہميں ڈوبتے تنکے کا سہارا ہوتا
وہي انجان سا اک شخص ہمارا ہوتا
کسي ٹوٹي ہوئي کشتي کے مسافر ہوتے
کوئي بہتے ہوئے دريا کا کنارا ہوتا
کوئي خواہش نہ کوئي اور ضرورت ہوتي
تري چاہت پہ ہي اپنا تو گزارا ہوتا
دامنِ ناز بھرا رہتا محبت سے تِري
سُود ہوتا نہ ميسر نہ خسارا ہوتا
ززز
زندگي کا روپ يہ ہم نے کبھي ديکھا نہ تھا
دعا علي
ايک دن دے گي دغا ايسا کبھي سوچا نہ تھا
زندگي کا روپ يہ ہم نے کبھي ديکھا نہ تھا
ميں پکڑ لائي تھي جگنو روشني کے واسطے
کالي راتوں کا تسلسل تھا ترا چہرہ نہ تھا
بس انا تھي دو دلوں کے درمياں جھوٹي انا
بيچ ميں ورنہ ہمارے فاصلہ اِتنا نہ تھا
آخرش ميں اپنے اندر کي کمي ميں مر گئي
تم کو ميرے غم کي گہرائي کا اندازہ نہ تھا
تو نظر انداز کردے گا مجھے ايسے کبھي
اس طرح کا کوئي ميرے دل کو تو دھڑکا نہ تھا
ززز
غزل
پروينؔ شاکر
کچھ فيصلہ تو ہو کہ کِدھر جانا چاہيے
پاني کو اب تو سر سے گُزر جانا چاہيے
نشتر بدست شہر سے چارہ گري کي لو
اے زخمِ بے کسي تُجھے بھر جانا چاہيے
ہر بار ايڑيوں پہ گِرا ہے ميرا لہُو
مقتل ميں اب بہ طرزِ دِگر جانا چاہيے
کيا چل سکيں گے جن کا فقط مسئلہ يہ ہے
جانے سے پہلے رختِ سفر جانا چاہيے
سارا جوار بھاٹا ميرے دل ميں ہے مگر
اِلزام يہ بھي چاند کے سر جانا چاہيے
جب بھي گئے عذابِ در و بام تھا وہي
آخر کو کِتني دير سے گھر جانا چاہيے
*تہمت لگا کے ماں پہ جو دُشمن سے داد لے*
*ايسے سخن فروش کو مر جانا چاہيے*
ززز
وفا پہ اپني سدا شرمسار ہوکے چلے
فہميدہ مسرت احمد جرمني
کڑا يہ وقت سہي پُر وقار ہوکے چلے
کہ زرد رُت ميں بھي ہم گُلزار ہوکےچلے
کسي کي ايک جھلک ديکھ کر لگا ايسا
ديارِ جاں ميں ہوا پُر بہار ہو کے چلے
گرے نہ ريت کي ديوار کي طرح کہنا
يہ راہِ عشق ہے ياں جاں نثار ہو کے چلے
ذرا بتائيے کيا اِندمال ہے اس کا
نظر کا تير اگر دل کے پار ہو کے چلے
يہي ہے رسم يہ دُستور ہے زمانے کا
نہ سر اُٹھا کےکوئي طرح دار ہوکےچلے
براجمان تھے اغيار سب ہماري جگہ
تمہاري بزم سے ہم سوگوار ہو کےچلے
صِلہ ملا ہے مُسرت خُلوص کا ايسا
وفا پہ اپني سدا شرمسار ہوکے چلے
ززز
دل جلايا تري خوشي کيلئے
بشري ناہيد غزل
دل لگايا تو تھا خوشي کے لئے
غم ملا، ساري زندگي کے لئے
کس ارادے سے آن بيٹھے ہو
ہم فقيروں سے دوستي کے لئے
کوئي دولت کسي بھي کام نہيں
ہم سے عاشق کي بے بسي کے لئے
ايک مسکان نے کيا گھائل
دل جلايا تري خوشي کيلئے
دن ميں چکر لگائے ہم نے کئي
ايک درشن کو اس گلي کے ليے
آگ لگ جائے ايسے جيون کو
دل دکھائے جو ہر کسي کے لئے
دوستي چھوڑ ان فريبوں کي
آنکھ بدليں روا روي کے لئے
اور باقي نہيں ہے کچھ بھي پاس
سب لٹايا ہے آپ ہي کے لئے
آہ لگ جائے اس کو تيري غزل
راہ بدلے جو مطلبي کے لئے
ززز
گھنی کالی گھٹا
امۃ الباری ناصر
بال ميرے تھے گھنے کالي گھٹا ہو جيسے
اس قدر لمبے کہ ايڑي کو چھؤا ہو جيسے
اونچے اسٹول پہ بالوں کو دُھلايا کرتي
دھوپ ميں ہيئر ڈرائر سے سُکھايا کرتي
بيک کومبنگ کبھي چٹيا کبھي جُوڑا کرتي
کھول کے بال ربن ڈھيلا سا باندھا کرتي
اچھے شيمپو مرے بالوں کے لئے آتے تھے
ليموں کا جوس لگانے سے چمک جاتے تھے
عمر بڑھنے لگي تو بال مرے گرنے لگے
کنگھي کرنے ميں وہ گچھوں کي طرح جھڑنے لگے
ان کے بچنے کے لئے سَو سَو جتن کرنے لگي
يا گھنے بال تھے يا گنج سے ميں ڈرنے لگي
آملہ ريٹھا سکاکائي لگايا ميں نے
مہندي ميں ارنيکا آئيل بھي ملايا ميں نے
مانگ چھدري ہوئي زگ زيگ بنائي جيسے
گنے کے کھيت ميں ہاتھي کي چڑھائي جيسے
عمر کي چغلي لگے کرنے خدو خال مرے
چاندي کي طرح سے کچھ ہونے لگے بال مرے
بچنے والوں کو بہت گہرا رنگايا ميں نے
ٹنڈ کو بال بچھا کر بھي چھپايا ميں نے
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئي
بے وفاؤں کو کہاں ٹوک سکا ہے کوئي
مستقل گرتے رہے گرتے رہے گرتے رہے
ايک وقت آيا کہ کُل بال فقط چار رہے
چار رہ جانے پہ سوچا چلو جُوڑا باندھوں
ايک ٹوٹا تويہ سوچا چلو چٹيا گوندھوں
تين سے دو رہے اب چٹيا بناؤں کيسے
صرف دو بال سٹائل سے سجاؤں کيسے
دو کو بل دينے ميں اک ٹوٹ گيا ہے مجھ سے
آخري بال بھي اب رُوٹھ گيا ہے مجھ سے
اب تو زُلفوں کو کھلا چھوڑ ديا ہے ميں نے
بالوں کا سوچنا بھي چھوڑ ديا ہے ميں نے
کدو کو اوٹ ميں وگ کي ميں چھپاؤں اب کيا؟
فارغ البال ہوئي دھوؤں نچوڑوں اب کيا؟
ززز
کوئي تو ايک چارہ گر رکھيئے
فرحت ضياء راٹھور ہمبر گ
بات ميں بھي کوئي اثر رکھيئے
يونہي خود کو نہ معتبر رکھيئے
چاہتے ہيں دلوں ميں گھر کرنا
بات اتني ہي مختصر رکھيئے
پھول کلياں گلاب مہکيں گے
خود کو ايسے ہي بے خبر رکھيئے
درد دينے کا فن اگر جانتے ہيں
چوٹ سہنے کا بھي ہنر رکھيئے
لوگ کيوں ساتھ چھوڑ جاتے ہيں
اپنے لہجہ پہ بھي نظر رکھيئے
روگ دل کا ہے عمر بھر رکھيئے
بات اندر کي اپنے گھر رکھيئے
دشمنوں سے ہيں با خبر ليکن
دوستوں پر بھي کچھ نظر رکھيئے
منزليں دور ہوتي جاتي ہيں
راہزن کو نہ ہم سفر رکھيئے
کشتياں پار لگتي جائيں گي
نوح سا کوئي راہبر رکھيئے
لوگ سب زخم دينے والے
کوئي تو ايک چارہ گر رکھيئے
ززز
اب تو پلکوں پہ اک ديا بھي نہيں
زاھدہ حنا
جانتي ھوں کہ وہ خفا بھي نہيں
دل کسي طور مانتا بھي نہيں
کيا وفا و جفا کي بات کريں
درميان اب تو کچھ رھا بھي نہيں
درد وہ بھي سہا ھے تيرے ليے
ميري قسمت ميں جو لکھا بھي نہيں
ھر تمنا سراب بنتي رھي
ان سرابوں کي انتہا بھي نہيں
ھاں چراغاں کي کيفيت تھي کبھي
اب تو پلکوں پہ اک ديا بھي نہيں
دل کو اب تک يقين آ نہ سکا
يوں نہيں ھے ، کہ وہ ملا بھي نہيں
وقت اتنا گزر چکا ھے حنؔا
جانے والے سے اب گلہ بھي نہيں…!!
نعت رسول مقبول
سائرہ حميد تشنہ لاہور
راہ راستي کا سب کو دکھايا ميرے نبي نے
پيغام حق ملا جو سنايا ميرے نبي نے
ہوں مشکلوں کے صحرا يا غم پہاڑوں جيسے
کبھي غير کو نہ پکڑو، يہ کہا ميرے نبي نے
قول ان کے سارے سچے، کام ان کے سارے اچھے
باطل کو حق کا رستہ دکھايا ميرے نبي نے
جھوٹوں سے ان کو نفرت، جھوٹوں پہ رب کي لعنت
سچائي کو ہميشہ سراہا ميرے نبي نے
جب عہد کوئي کرنا ہو، ميں تو سوچ کے کرو
کوئي بھي عہد کر کے نہ توڑا ميرے نبي نے
بڑي مشکليں تھيں آئيں بڑے راستے کٹھن تھے
سوائے خدا يہ سر نہ جھکايا ميرے نبي نے
بيشک ہيں حق کے رستے پر سوز و پر خطر
کہيں ڈگمگا نہ جانا، تھا کہا ميرے نبي نے
اے کاش ميري امت حق راہ جان لے
فرمان رب سے نکلے نہ، چاہا ميرے نبي نے
لاريب آپ تھے اک بحر رحمتوں کا
رکھا کسي بھي نہ تشنہ ميرے نبي نے
ززز
غزل
شوکت سلطانہ احمد جرمنی
خواب نہ بُنيں گے کيا؟
جاگتے رہيں گے کيا؟
پہلے عشق کرنے کے
فائدے گنيں گے کيا؟
مسئلہ محبت ہے
اس کو حل کريں گے کيا؟
جو بنوں ميں دھڑکن تو
ميرا دل بنيں گے کيا؟
موند لوں اگر آنکھيں
خواب ميں دکھيں گے کيا؟
خواب کا حقيقت سے
فاصلہ رکھيں گے کيا؟
چھوٹي چھوٹي باتوں پر
روٹھتے رہيں گے کيا ؟
ميں اگر صلح کر لوں
آپ بھي جھکيں گے کيا؟
جانور، نہيں انساں
ان سے بھي ڈريں گے کيا؟
دل ليا نہ جب ثابت
کرچياں کريں گے کيا؟
دل ميں درد سا تو ہے
اشک بھي بہيں گے کيا؟
غم سے ملنے جانا ہے
آپ بھي چليں گے کيا؟
رتجگوں سے شوکت کے
نين بھي جليں گے کيا؟


