گوشۂ ادب

چاہت کی موت

. کتنے دن ہو گئے تھے رافیہ کو کراچی میں ٹرانسفر ہوئے پر ابھی تک اسکی شرجیل سے ملاقات نہ ہو سکی تھی اسے کمپنی کی طرف سے گھر اور گاڑی ملے تھے وہ بہت خوش تھی پروموشن کے ساتھ یہ سب اضافی خوشی کا باعث تھا اس نے جب انشورنس کمپنی میں جاب شروع کی تھی تو گھر میں سب ہی اس کے مخا لف تھے پھر اس نے بڑے بابا سے اصرار کر کے منوالیا پاپا بھی بڑے بابا کے سامنے نہ بول سکے اور یوں وہ ایک ماحول سے الگ تھلگ مزاج کے محکمے میں آگئی شروع شروع میں اسے یہ سب بہت مشکل لگا لیکن آہستہ آہستہ اسے دلچسپ لگنے لگا اور پھر اس کھجل خواری کی جاب میں بھی اسے چارم نظر آگیا جب اس کی پرموشن کراچی میں ہوئی، وہ بھی ساحل ِسمندر کے قریب ہی کلفٹن ایریا میں اور گھر بھی اور آفس بھی زیادہ دور نہ تھا اس مروموشن پہ بھی عجیب ہنگامہ ہوا تھا اکیلی جائے گی کیسے رہے گی سب سوال اور اسکا ایک ہی جواب وہاں شرجیل ہے ناں پاپا اور شرجیل کا سن کر پاپا کچھ سوچ میں پڑ گئے انکی بہن کا اکلوتا بیٹا لاڈ پیار میں اس نے بھی میٹرک کرتے ہی ضد کر کے کراچی شہر کو اپنی پڑ ھائی کے لئے چنا اور پھر وہیں کا ہو رہا۔ ۔ کہاں پنجاب اور کہاں کراچی خیر … کبھی کبھار ہی پنجاب آتا اور تو اور اپنی مرضی سے شادی بھی کر لی۔ جس پہ خاندان والے اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے پر رافیہ،، اسکی سوچ الگ تھی حالانکہ سب سے زیادہ ہرٹ بھی وہی ہوئی تھی اسکی شادی پہ لیکن دل ہی دل اس تکلیف کو دبا کر اس نے تعلیم مکمل ہوتے ہی جاب کر لی ابا شادی کروانے پہ تلے تھے پر بڑے بابا کی لاڈلی نے ہر بات منوانے کے لیے بھی بڑے بابا کو ہی چنا ہوا تھا اسی لئے پچیس سال کی ہوگئی تھی پر ابھی تک شادی کو رضامند نہیں ہوئی تھی کیوں؟ اس کیوں کاجواب شاید اسکے پاس خود بھی نہیں تھا۔ آج بھی تین بجے چھٹی کے بعد بے مقصد سڑک پہ گاڑی گھومتی رہی حالانکہ بڑے بابا سے وعدہ کر کے آئی تھی کہ بس کام اور گھر۔ کراچی کے حالات کے پیشِ نظر کتنی نصیحتیں ملی تھیں پھو پھی جان نے جو نمبر دیا تھا وہ ٹرائی کر کر کے تھک گئی تھی پر شرجیل میاں مو بائل شاید کہیں رکھ کر بھول گئے تھے۔

بے مقصد گھو متے گھو متے گھر کو گاڑی موڑی ہی تھی کے ایک جانے پہچانے چہرے نے گاڑی سے بھر پور ٹکر مارنے کی کوشش کی بہت مشکل سے بچ پائی تھی گاڑی روکی اور غصے سے اُتری۔ ۔ وہ بھی نکل آیااور معذرت کرنے لگا یہ کون ہے اسے کہاں دیکھا ہے؟ کچھ دیر اسکی معذرت نظر انداز کرتے ہوئے اس نے سوچا کہاں؟، ، ایک دم ذہن میں بجلیاں لپکیں ارے شرجیل؟ اس کے منہ سے اپنا نام سن کر وہ بھی چونک گیا تھا تم؟ اوہ تم رافیہ ہو ناں؟ پر یہاں کیسے؟ رافیہ سڑک کے کنارے ہی اسے سب بتانے لگی دونوں ہی بہت خوش تھے وہ اسے گھر تک چھوڑنے آیا تھا رافیہ نے کہا بھی کچھ دیر ٹھہرے پر پھر آنے کا کہہ کر وہ چلا گیا اور رافیہ کتنی دیر تک پچھلےوقت اور اسکی شخصیت کے منفی اور پو زیٹو پوائنٹس پہ خود ہی سو چتی رہی

اسے لگا اسے پھر وقت پیچھے دھکیل گیا ہے فون پہ ابا کو بھی اطلاع دے دی وہ بھی مطمئن ہو گئے کہ چلو اتنے بڑے اجنبی شہر میں کوئی اپنا تو ہے۔۔ ۔ گو کہ وہ اب بیگانہ ہو چکا تھا اتنا کہ اسے لگا کہ میلوں کی مسافت پہ کھڑا ہے َ۔۔ ۔ تین چار دن بعد اس نے اسے اپنے گھر انوائیٹ کیا اور خود لینے آگیا وہ بھی اس کی بیوی دیکھنےکے شوق میں چلی گئی گھر بہت پیارا بنا لیا تھا۔ ’’ہوں اسی لئے گاؤں کم آتے ہو اتنا بڑا اور پیارا گھر جو بنا لیا ہے اپنا ‘‘۔کیا ہو تا جو ادھر پھو پھی جان کو بھی لے آتے؟ پر وہ یہ کہہ نہ سکی۔ آہ پھو پھی جان، ایک ہی بیٹا وہ بھی میلوں دور اپنی جنّت میں مگن سال دو سال بعد چکر لگا لیتا تھا۔ رافیہ کو اس کی بے حسی پہ بہت غصہ آتا تھا جی چاہتا سامنے ہو تو خبر لے پر اب سامنے ہو کر خاموش تھی۔

اسکی بیوی اس سے عمر میں بڑی تھی یا لگ رہی تھی حالانکہ اچھی خا صی ماڈرن اورا سمارٹ تھی دو بچے بہت پیارے رافیہ ان سے کافی گھل مل گئی تھی معصوم اور شرارتی۔ کھانے کے بعد اس نے اجازت لی شرجیل نے رکنے کا کہا لیکن وہ ’’آفس ادھر سے دور ہے، صبح پرابلم ہو گی ‘‘یہ کہہ کر اُٹھ گئی۔ شرجیل چھوڑنے آگیا رستے بھر وہ ان دونوں میاں بیوی کے بارے اور کبھی پھو پھی جان کے بارے سو چتی رہی۔

شرجیل بھی خاموش ہی تھا ڈراپ کر کے وہ جلدی سے مڑ گیا خدا حافظ بھی نہیں کہا۔ کتنا بدل گیا ہے؟ اب؟ وہ خود سے بولی۔ وہ تو دس سال پہلے ہی بدل گیا تھا جب اس نے کراچی آ کر رہنے کا فیصلہ لیا تھا پھر اب کیسا شکوہ وقت نے بہت بڑی خلیج پیار اور محبت کے رشتوں میں حائل کر دی تھی ؛ کزنز سے پیار تو فطرت کا حصہ ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی سے خاص لگاؤ ہوتا ہے اور کسی سے کم، رافیہ کو بھی لگا یہ ناطہ بہت خاص ہوتے ہوئے بھی عام ہی نکلا تھا،

کافی دن نہ شرجیل آیا نہ اس نے کال کی، ایک دو بار ذہن میں آیا بھی کہ گھر داری، ملازمت، پر اتنا بھی کیا؟ اسکی کزن ہوں اور اکیلی ہوں ادھر اس کی بھی ذمہ داری بنتی ہے اس پہ کوئی حق ہے اسکا بھی۔ خیر کوئی بات نہیں بعض لوگ صرف اپنی ہی ذات کے لیئے سوچتے ہیں اور اپنے فائدے کے لئے ہی ملتے ہیں جہاں فائدہ نہیں وہاں کیا جوش اور جذبہ اور پھر رافیہ بی بی جو ماں کا نہ ہوا وہ تمہاری کیا خاک فکر کرے گا؟ اور خاک دھیان رکھے گا؟ دفتر کی فائلیں چیک کرتے کرتے فون کی رنگ ہوئی اٹھایا تو شرجیل تھا کیسی ہو؟ بالکل فرسٹ کلاس اس نے خوشی اور جوش سے ملی جلی آ واز میں کہا۔ اوہ او کے میں ذرا بزی تھا سوچا حال احوال ہی پو چھ لوں َ۔ نوازش، طنز کر رہی ہو …نہیں بھئی، اتنی فکر کرنے پہ شکریہ ادا کر رہی ہوں۔ چلو ایسا کرتے ہیں کہ کل شام کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانا میری طرف سے۔ خیر ہے،حاتم کی قبر پہ لات؟ یہی سمجھ لو، دراصل آفرین گئی ہے بھائی کے ہاں۔ دودن میں فارغ ہوں، اچھا تو بیوی سے فرصت ملی تو خیال آیا۔ ڈرتے ہو اتنا؟ نہیں…پھر بھئی ہم کزنز ہیں۔

ہماری بھابھی کو پتہ ہونا چاہئے۔ خیر اوّل خویش بعد از درویش، اچھی بات ہے گھر کا ماحول خراب نہیں ہونا چاہئے، اور ہاں کل نہیں، پرسوں، کل میری بہت امپارٹینٹ میٹنگ ہے ادھر نہیں آسکوں گی۔ او کے بائی دا وے کس ہوٹل میں آنا ہے؟ شرجیل نے ہوٹل کانام بتایا۔ اس نے حسبِ عادت مو بائل پہ سیو کر لیا۔

اگلے سارا دن وہ بہت بزی رہی پچھلے ماہ کی کارکردگی اور امپروونگ لسٹ، اس میں سارے ایریے کی ڈٹیل، سب میٹنگ میں ڈسکس کرتے کرتے خاصا اندھیرا ہو گیا تھا۔

اچھا کیا شرجیل کو منع کردیا آج تو بالکل موڈ فریش نہیں تھا مزہ ہی نہ آتا ڈنر کا۔ کل شکر ہے چھٹی ہے آرام کر کے فریش ہو کر جاؤں گی تو خوب انجوائے کروں گی۔ وہ دل ہی دل میں سو چتی ہوئی گاڑی کی سپیڈ بڑھا چکی تھی اچانک اسے بریک لگانی پڑی اس بڑی شاہراہ پہ ایک ہوٹل کے آگے روڈ بلاک تھا بہت ٹریفک اور لوگ بھی جمع تھے آہستہ آہستہ گاڑی کو چلاتے ہوئے تھوڑی سائیڈ سے حا لات کا موازنہ کرنے لگی۔ کافی رات ہو رہی تھی یہ پو لیس کی اتنی بھاری نفری اور یہ کچھ لوگ بھاگ دوڑ رہے تھے یہ کیا ہے وہ ہراساں سی ہو گئی تھی باہر بھی نہ نکلی کہ پتہ نہیں یہ کیا ہے۔ پہلے ہی گھر والوں نے بمشکل اجازت دی ہے خیر پولیس کچھ لو گوں کو زبردستی ڈال گاڑی میں لے گئی تو ٹریفک کچھ چلی اور اس نے بھی گاڑی دوڑادی رات کب گزری ہوش نہیں۔ حالانکہ گھر آکر بھی ذہن اس سڑک اور ہوٹل کی طرف ہی لگا ہوا تھا۔

صبح دس بجے تک سوتی رہی جب اٹھی تو کافی دھوپ چمک رہی تھی۔ چلتے چلتے اخبار پہ میں دروازے کے پاس نظر پڑی جلدی سے اٹھا لیا۔ ادھر ہی چھوٹے سے لان میں کرسی پہ بیٹھ کر دیکھنے لگی فرسٹ پیج پہ رات کے واقعے کی خبر بڑی سر خیوں کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ کسی بڑے ہوٹل میں چھاپہ پڑا تھا۔ ہوٹل عیاشی کا اڈہ زیادہ تھا اور کھانے کا ہوٹل کم، خبر ہو نے پہ پو لیس نے رات کے وقت گاہکوں کی آمد پہ ہی چھاپہ مار کر رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا یہ ہوٹل کھانے کی آڑ میں نوجوان نسل کو عیاشی پہ لگا کر خوب کما رہا تھا اچانک اسکے ذہن میں ایک خیال آیا دوڑی اندر گئی اپنے مو بائیل سے ہوٹل کا نام نکالا یہ وہی ہوٹل تھا جس میں شرجیل نے اسے انوائیٹ کیا تھا ایک خیال نے اسے چونکا دیا شرجیل کا آج ہی اسکے ساتھ ڈنر تھا اوہ ! وہ سر پکڑ کے بیٹھ گئی۔

خدا نے اسے بچا لیا تھا، لٹنے سے، اجڑنے سے، برباد ہونے، بڑے بابا کی دعاؤں سےاور صدقات سے۔ یا اللہ…اسے ا ب سمجھ آ رہا تھا تو بیگم کے جانے بعد ہی کیوں بلایا اور وہ ڈنر پہ رات کو یہ سب کیا سوچ رہی ہوں میں…نہیں یہ نہیں ہو سکتا، یہ میرا وہم ہے، کیا بیوی گئی تھی کہ اسے میکے بھیجا گیا تھا ایک ایک کر کے سب سوال اس کے ذہن میں چبھنے لگے ہتھوڑے مارنے لگے… اب تک وہ سب کی باتوں کو نظر انداز کرتی رہی اور کبھی بھی کسی کی باتوں پہ اعتبا ر نہ کیا کہ وہ تو خدا کے بعد شاید شرجیل پہ ہی ایمان لائی تھی اتنا اعتماد اور وہ بھی اندھا، اے کاش میں کراچی ہی نہ آئی ہوتی شرجیل، میرا بھرم نہ ٹوٹتا۔ میں تو تمہیں مجبور سمجھتی تھی، تو کیا یہ سب سچ تھا؟ تم نے مجھے اس ہوٹل میں کیوں بلوایا؟ چھی، چھی میں بھی ناں، کتنی بے وقوف ہوں۔

اتنے سال، شادی سے انکار کس لئے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے متعلق کیا کیا باتیں گردش میں رہی ہیں اس کی دعوت قبول کر لی اور تو اور اسکی تلاش تک کرتی رہی ایک بے حسی کی لہر اور اس کے وجود میں دوڑ رہی تھی اسے لگا اسے کون لوٹنے جا رہا تھا کیا کراچی؟ یا کراچی کے لوگ ہاں وہ اتنے سالوں سے ادھر ہے اسے کیسے اس ہو ٹل کے حالات پتہ نہیں ہو نگے۔

رافیہ کا دل چائے بھی بنانے کو نہیں کیا وہ اسی طرح سارادن بستر پہ پڑی رہی شام کو شرجیل کی گاڑی آئے گی اور وہ ہاں وہ اب کسی اور ہوٹل لے جائے گا۔۔ نہیں۔۔ اب نہیں اس نے ایک کڑا فیصلہ کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی گھر کے لاک کی چابی نکالی اور لان کے پچھلی طرف سے نکلی اور ڈرائیگ روم کا دروازہ باہر سے لاک کیا اور پھر لان کے رستے اندر آکر اندرا سے اور پردے کھڑ کیوں پہ ڈالکر لائیٹیں آف کر کے چپ چاپ لیٹ گئی رات کےآٹھ بجے شرجیل کی گاڑی کاہارن سنائی دیا اور پھر وہ گیٹ پہ آکر رکا باہر سے لاک دروازہ منہ چڑا رہا تھا اس نے فون نکال کر رنگ کیا وہ تو سوئچ آف تھا کچھ دیر حیرانی اور پریشانی میں کھڑ ارہا پھر لان اور گھر کے اندھیرے کو دیکھتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھ گیا شاید اس بار اس کا شکار اور وہ بھی اپنا گھر کا ہاتھ سے نکل گیا تھا کچھ سست روی سے گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کو دیکھتا ہوا مڑ گیا۔ ۔ رافیہ جو بالکونی میں اندھیرا کرکے کھڑی دیکھ رہی تھی۔

نیچے اُتر آئی کتنے سالوں کی احساس کی ریاضت، مان، مریادہ کچھ بھی تو نہیں بچا تھا اس کے پاس وہ تو سب کچھ حاصل کر چکا تھا پھر بھی اور کی خواہش اس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا ہے رافیہ۔ سب سچ تھے اور تم؟ افسوس تم پر ایک نفس کے غلام حیوان اور درندے پہ اتنا یقین۔ سامان پیک کرتے ہوئے اسکی آنکھیں اسے لگا بالکل پتھر کی ہیں بالکل بھی نہیں بھیگیں تھیں حالانکہ اس کے کراچی آنے بعد کتنےمہینے اسے سوچ کر اسکی آنکھیں چھلک جاتیں تھیں وہ اسکے لئے سب کزنز میں خاص تھا لیکن سب سے گرا ہوا اور ایک گھٹیا انسان تھا۔ جسے اپنے نفس کی خواہش کے آگے رشتے بھی دکھائی نہیں دیتے تھے، انکا وقار بھی نظر نہیں آتا تھا صحیح کہتے تھے بڑے بابا،، بابا جو تھے،، شاید سب محسوس کرتے تھے اسے کبھی دکھی دیکھتے تو لمبی سانس بھرتے، جو ماں کا نہ ہو سکے سمجھ لو وہ دنیا میں کسی کا نہیں۔۔ اور وہ حیران ہو جاتی تھی پر اب، …..

گاڑی گاؤں واپسی سڑک پہ دوڑاتے ہوئے اک بے حسی کےساتھ ساتھ وجود ہلکا سا بھی تھا اللہ جو کرتا ہے بہتر ہی ہوتا ہے۔ آفس میں میز پہ اس کا استعفیٰ پڑا تھا جاب سے بے حسی کا منہ بولتا ثبوت چاہت کی موت نے اس کی جاب کو بھی مار دیا تھا۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *