متفرق

یہ نیلا آسمان کیا ہے؟

Spread the love

آسمان نیلا کیوں ہے؟

نیلا آسمان…مجھے دیکھ کے…مسکراتا ہے…ہم وہ نیلا آسمان…دیکھتے ہیں… جو وہاں… موجود ہی نہیں ہے… ارونگ برلن…اگر آپ بھی ارونگ برلن کی طرح ہمیشہ حیران ہوتے ہیں، کہ آپ وہ ’’نیلا آسمان کیسے دیکھتے ہیں جو ہے ہی نہیں‘‘

اس پہیلی کو سلجھانے میں انسان کو بہت سی صدیاں لگی ہیں جس میں بہت سارے ذہین لوگوں نے حصہ لیا جن میں ارسطو، آئزک نیوٹن، تھامس ینگ، جیمز کلرک میکسویل اور ہرمین وون ہیلمولٹز کے نام سرفہرست ہیں۔…سورج کی روشنی کے رنگ، ہوائی ذرات، ماحولیاتی مالیکیولز کا حجم اور وہ زاویہ نگاہ جس سے ہم رنگوں کی پہچان کرتے ہیں۔چلیے ریاضیاتی مساواتوں سے ہٹ کے عام فہم انداز میں رنگوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ طبیعات کی رو سے تمام رنگ، نظر آتی روشنی کی وہ مختلف طول امواج ہیں جو چیزوں سے ٹکرا کے واپس کسی عضو حسی ( سینسر ) سے ٹکرائے جیسا کہ انسانی آنکھ عضو حسی کا کام سرانجام دیتی ہے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روشنی کی طول امواج کا عکس یا پھیلاؤ خود ہی کسی چیز کے ذریعے سے ہو یا کسی بیرونی ذرائع کا حصہ ہوں۔ کسی چیز کے رنگ بدلنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ روشنی کے ذرائع سے کون سے رنگ حاصل ہو رہے ہیں۔مثال کے طور پہ، سرخ جب نیلے رنگ کے نیچے ہو گا تو کالا نظر آئے گا۔

آئزک نیوٹن نے ایک بلوریں منشور کے ساتھ اس تجربے کا عملی مظاہرہ کیا کہ سورج کی سفید روشنی میں ہی دکھائی دیتے سپیکٹرم کے تمام رنگ موجود ہوتے ہیں۔ایک صاف شفاف دن میں جب ہم اوپر دیکھتے ہیں تو آسمان ہمیں نیلا دکھائی دیتا ہے۔ شام کے وقت، سورج آسمان پر سرخ، گلابی یا سنگترے کے رنگ بکھیرتا ہے۔ لیکن آسمان نیلا کیوں ہے اور ڈوبتا سورج سرخ کیوں دکھائی دیتا ہے۔

ان سوالوں کے جواب کے لیے ہمیں لازمی طور پر روشنی اور زمین کے ماحول کا مشاہدہ کرنا ہو گا۔کرہ ہوائی بہت سی گیسوں، مالیکیولز اور دوسرے مواد کا مرکب ہے جو زمین کے اطراف پھیلا ہوا ہے۔ ہمارا کرہ ہوائی کا 78 فیصد حصہ نائٹروجن، 21 فیصد آکسیجن پر مشتمل ہے۔

بقیہ حصہ آرگن گیس، پانی ( وانپ کی شکل میں، بوندوں اور برف کے گالے ) کی حالت میں عام پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قلیل مقدار میں دیگر گیسیں، سمندر سے نمک کے ذرات، دھول، کاجل، راکھ اور جرگ کے چھوٹے ٹھوس ذرات اڑتے پھرتے ہیں۔

ماحول کی تشکیل کا تعلق محل وقوع، موسم اور بہت سی دوسری چیزوں پر منحصر ہوتا ہے۔

سمندری علاقوں میں آنے والے طوفانوں کی باعث فضا میں پانی کی زیادہ مقدار کا موجود ہونا یا آتش فشانی کے علاقوں میں ہو سکتا ہے کہ فضا میں راکھ کی بہت زیادہ مقدار موجود ہو۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث بھی مختلف گیسیں اور دھول و خاک فضا کا حصہ بنتی رہتی ہیں۔

کرہ ہوائی خلا سے زمین کی درمیانی مقام پر کمزور ہوتا ہے اور آپ جتنا بلندی کی طرف جائیں گے یہ مزید ضخیم سے ضخیم تر ہوتا جائے گا۔ خلا اور کرہ ہوائی کے درمیان کوئی وقفہ موجود نہیں ہے۔ روشنی کی لہریں : روشنی توانائی کی ایک قسم ہے جو موجوں کی صورت میں سفر کرتی ہے۔ توانائی کی اور بھی بہت سی اقسام موجوں کی صورت میں بہتی ہیں۔

مثال کے طور پہ آواز ہوا کی تھرتھراتی موج ہے اور اسی طرح روشنی برقی و مقناطیسی میدان کی تھرتھراتی موجیں ہیں۔

برقی مقناطیسی موجیں: مقناطیسی میدان کی تھرتھراتی موجوں میں سے ایک نسبتاً چھوٹے حصے کو مقناطیسی سپیکٹرم کہا جاتا ہے ۔مقناطیسی موج خلا میں 299,792 کلومیٹر ( 186,282 میل ) فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں جسے روشنی کی رفتار کہا جاتا ہے۔تابکاری میں موجود توانائی روشنی کی طول موج اور تعدد پر منحصر ہے۔

موجوں کے بالا ترین سطح سے درمیان تک کا فاصلہ طول موج کہلاتا ہے۔ہر ایک سیکنڈ میں گزرنے والی موجوں کی تعداد ریڈیو فریکوئینسی کہلاتی ہے۔روشنی کی طول موج جتنے طویل فاصلے تک جائے گی اس میں توانائی اور تعدد (فریکوئینسی) کا فقدان ہو گا۔

روشنی کے رنگ

ہماری آنکھیں جو روشنی دیکھتی ہیں یہ مقناطیسی سپیکٹرم کا حصہ ہیں۔ سورج سے یا بلب سے آتی روشنی شاید ہمیں سفید دکھائی دے لیکن حقیقت میں یہ روشنی بہت سے رنگوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ہم ان تمام رنگوں کو منشور کے ساتھ الگ الگ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ ہم اس سپیکٹرم کو اس وقت بھی دیکھ سکتے ہیں جب آسمان میں قوس قزح نظر آتی ہے۔ جس میں رنگ ایک دوسرے میں مرکب مسلسل کی صورت گندھے ہوتے ہیں۔ سپیکٹرم کے ایک سرے پر سرخ اور سنگترہ رنگ ہوتے ہیں۔ جب کے پیلا، سبز، نیلا، انڈیگو اور بنفشی رنگ کے مدھم سائے ہوتے ہیں۔ ہر رنگ کی طول موج، تعدد ( فریکوئینسی ) اور توانائی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ نظر آتے سپیکٹرم میں بنفشی رنگ کی طول موج سب سے کم ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کی تعدد ( فریکوئینسی ) اور توانائی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ سرخ رنگ کی طول موج سب سے زیادہ طویل ہوتی ہے جبکہ تعدد اور توانائی سب سے کم ہوتی ہے۔ خلاء میں روشنی اس وقت تک ایک سیدھی لائن میں سفر کرتی ہے جب تک کوئی چیز اس میں خلل نہ پیدا کر دے روشنی اپنا راستہ نہیں بدلتی ہے۔

جب روشنی کسی فضا یا ماحول میں سفر کرتی ہے تو یہ اس وقت تک سیدھا سفر کرتی ہے جب تک دھول اور گیسوں کے مالیکیولز سے ٹکرا کے پھیل نہ جائے۔

اس کے بعد روشنی کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ اس چیز کی طول موج اور سائز پہ منحصر ہے۔

دھول مٹی اور پانی کے قطروں کے پارٹیکلز روشنی کی طول موج سے بہت بڑے ہوتے ہیں۔ جب روشنی اپنے سے بڑے پارٹیکل سے ٹکراتی ہے تو واپس پلٹتی ہے یا مختلف اطراف میں پھیل جاتی ہے۔ روشنی کے مختلف رنگ بھی ان پارٹیکلوں سے ٹکرا کے مختلف سمتوں میں پھیل جاتے ہیں۔ ہمیں منعکس ہوتی روشنی بھی سفید ہی نظر آئے گی کیوں کہ اس میں پھر بھی تمام رنگ موجود ہوتے ہیں۔

گیسوں کے مالیکیولز، نظر آتی روشنی کی طول موج سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ اگر روشنی ان مالیکیولز کے اندرون پہنچ جائے تو یہ مختلف ردعمل ظاہر کریں گے۔ جب روشنی گیس کے مالیکیول سے ٹکراتی ہے، ان میں سے کچھ روشنی کو جذب کر لیتے ہیں۔ کچھ لمحے میں مالیکیول تابکاری پیدا کرتا ہے اور روشنی کی ایک مختلف سمت میں ترسیل شروع کر دیتا ہے۔

جو رنگ مالیکیول جذب کرے گا صرف اسی رنگ کی ترسیل آگے ہو گی۔تمام رنگ جذب ہو سکتے ہیں، لیکن نیلا رنگ جو کہ اعلی تعدد (فریکوئینسیز ) کا حامل ہے وہ زیادہ جذب ہوتا ہے نسبتاً سرخ کے جو کہ ادنیٰ تعدد کا حامل رنگ ہے۔یہ رے لی پھیلاؤ عمل کہلاتا ہے، یہ دریافت انگریز طبیعات دان لارڈ جان رے لی سے منسوب ہے جس نے یہ عمل 1870ء میں دریافت کیا تھا۔

تو سوال اب یہ ہے کہ آسمان نیلا کیوں ہے؟

آسمان کا نیلا رنگ اصل میں رے لی عمل پھیلاؤ کا نتیجہ ہے۔ جب روشنی کسی فضا میں داخل ہوتی ہے تو ان میں سے زیادہ تر لمبی طول موج گزر جاتی ہے۔ سرخ، سنگترہ اور پیلا ہوا کے ساتھ اثر انداز ہوتے ہیں۔

سورج کی روشنی جب کرہ ہوائی سے ٹکراتی ہے تو روشنی کی لمبی سرخ لہر اس میں سے گزر جاتی ہے، لیکن نیلی روشنی گیس کے مالیکیولوں سے ٹکرا کر پھیل جاتی ہے یوں آسمان نیلا دکھائی دیتا ہے۔ڈوبتے سورج کی روشنی کو زیادہ کرہ ہوائی سے گزرنا پڑتا ہے اس لئے روشنی کی چھوٹی لہریں گیسوں سے ٹکرا کے پھیل جاتی ہیں اور صرف سرخ روشنی کی لہر گزرتی ہے اس لئے سورج سرخ نظر آتا ہے۔

مریخ کا آسمان سرخ کیوں ہے؟

1977ء میں وائکنگ نامی مریخ خلائی اسٹیشن سے اور 1997ء میں پاتھ فائنڈر نامی خلائی جہاز تصاویر موصول ہوئیں جس میں مریخ کا ماحولیاتی جائزہ لیا گیا اور یہ دریافت ہوا کہ مریخ کا آسمان سرخ رنگ کا ہے۔

مریخ کا آسمان سرخ رنگ کا اس لئے ہے کیونکہ مریخ کی فضا میں سرخ آئرن کے ذرات وقفے وقفے سے آنے والے طوفانوں کی دھول کے ساتھ اڑتے پھرتے ہیں۔

مریخ کا آسمان موسم کی تبدیلیوں کے ساتھ اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے۔

مریخ کے آسمان کا رنگ ہلکا نیلا بھی ہوتا ہے جب وہاں کوئی طوفان نہ آیا ہو۔ لیکن دن میں ہماری زمین کی نسبت مریخ کا آسمان ہلکا سیاہ ہوتا ہے، کیوں کہ مریخ کا کرہ ہوائی ہماری زمین کے کرہ ہوائی سے پتلا ہے ۔

اب اگر ہم زمین سے اوپر نظر آنے والے کرہ ہوائی میں روشنی کی لہروں کو آسمان سمجھتے ہیں، تو وہ محض روشنی کے رنگوں کا عکس ہے۔آخری سوال کا جواب آپ دیں کہ ہم آسمان کسے کہتے ہیں اور آسمان کیا چیز ہے جو وہاں موجود ہی نہیں جہاں ہم دیکھتے ہیں۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *