متفرق

یہ مقام ہے بابا عشق کا، یہاں ننگے پاؤں چلا کرو

Spread the love

تحریر ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ

یہ بات سچ ہے کہ کئی دہائیوں کے کڑے اور تھکا دینے والے مسلسل سفرکے بعد اردو غزل کی انگڑائیاں ابھی تک بھی بدستور جاری ہیں۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد وطن کی مٹی کی حفاظت کے لیے جہاں ہر محکمے اور ادارے نے بڑھ چڑھ کر دعوے کیے اور کسی حد تک ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی وہاں ادب اور ادیب نے بھی اپنے کاندھوں پر لی گئی ذمہ داریاں خوب نبھانے کی جدو جہد جاری رکھی۔ اس جُہد کے لیے جس جراتِ رندانہ کی ضرورت تھی ہمارے ادیب نے وہ تہور پن اپنے اندر پیدا کر کے زمانہ و تاریخ سازی کی تاریخ رقم کی کہ آوازوں کی بھنبھناہٹ میں سے علامت، استعارہ، تشبیہ اور لفظ تخلیق کیے۔ یہ ادب ہی ہوتا ہے جو انسان کو اس کی مختصر ترین زندگی میں اس کے اکناف و اطراف میں پھیلی ہوئی کئی غیبی کائناتوں کی سیر کرا دیتا ہے۔

اگر اس جہان اور اگلے جہان کی باریکیوں پر بہ نظر غائر پرکھ کی جائے تو آسانی سے اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ حرفِ آخر کے عقب میں عشق کا وسیلہ ہی حیات کی مشکلات کو آسانی میں بدل کر اسے تازگی و تراوت مہیا کرتا ہے اور اسی وسیلے سے رب کائنات کا محبوب بھی مقام محمود تک پہنچتا ہے۔

جہاں عقل ہاتھ کھڑے کر لیتی ہے، سر کو نگوں کرتی ہے اور سوچ جامد ہو جاتی ہے، عشق وہاں اپنا سفر آغاز کرتا ہے۔ عشق ایک جہد مسلسل ہے، سچ کی گواہی ہے ”محبت کی رمز ہے، سلوک کی منزل ہے، عہد کی صداقت ہے، علوم کا بام ہے، جنون کی آخری حد ہے، زندگی ہے اور شعر کو جاننے کا ذریعہ ہے۔

دنیا کا سب سے پر اسرار راز خود انسان ہے۔ اس راز کا عقدہ، رب دو جہاں کی ذات اقدس میں کھلتا ہے۔ تو بس پھر جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے خالق کائنات کو پہچان لیا۔

ڈاکٹر یسین عاطرؔ بنیادی طور پر رومانوی شاعر ہیں۔ وہ اپنے شعری رومان کو اشیا کائنات، مناظر فطرت، انسانی حسن، سماجی رویوں اور اسلوب کی تازگی سے آراستہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس عزم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جس سیڑھی کا سہارا لیا وہ ”عشق“ ہے۔ عشق کی ماہیت کا ادراک رکھنے والا بخوبی جان سکتا ہے کہ ”عشق وسیلہ“ کے خالق نے جسے وسیلہ کیا ہے وہ بے کنار قوت ہے۔ یعنی وہ عشق کی پر خار وادی میں کود گئے ہیں۔ اس کو جادہ کرنے والا نہ تھکتا ہے نہ رکتا ہے اور نہ بھٹکتا ہے۔

ڈاکٹریسین عاطرؔ نے اپنی کتاب کا بہت منفرد نام ”عشق وسیلہ“ رکھا اور پھر عشق کے اسرارو رموز سے مکمل آگاہی رکھی۔ یہ بات میں نہیں کہتی اس بات کی صداقت ان کی شاعری سے آپ کو ملے گی۔ انہوں نے اپنے کتاب کے انتساب سے قبل اپنی اس پہلی تخلیق میں ایک شعر لکھ کر اپنی اس بصیرت پر مہریقین ثبت کی ہے :

تونگری تو ملی عشق کے وسیلے سے

یہ لوگ کیوں مری آ کر دکان دیکھتے ہیں

بلا شک و شبہ عشق وہ عظیم اور بے بہا قوت اور خزینہ ہے کہ اس کے سامنے دنیا وی مال و متاع سب بے معنی اور ہیچ ہیں۔ ڈاکٹر یسین عاطرؔ نے ایک ہی شعر میں دنیاوی جاہ و حشمت پر لات مار کر عشق کی حقیقت کی گرہ کھول دی۔ وہ نہ صرف خود اس کی پنہائیوں پر یقین کامل رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے ان احمق لوگوں کی بھی سرزنش کی ہے جو مادیت پرست ہیں اور اس حسد کی بھٹی میں خود کو ڈالنے سے اکثر گریز نہیں کرتے۔

مجھے کہنے دیجیے کہ کائنات بنانے والی کی نگاہ بھی عشق ہے۔ عشق دراصل احساس کی دولت ہے، جس کا مکیں دل ہوتا ہے جو اس سے مالا مال ہے دنیا و مافیہا کی ہر طمع سے مبرا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر یسین عاطرؔ ایک حساس دل کے مالک ہیں انہوں نے یہ راز اپنی پہلی شعری تصنیف میں منکشف کیا ہے۔ گویا یہ انہوں نے کسی کو نیچا دکھانے کے لیے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنے دل کی گواہی سے نفس کی سچائی کی کو فروغ دیا ہے۔ ڈاکٹر یسین عاطرؔنے جتنی شاعری کی ہے دل سے کی ہے وہ تصنع اور بناوٹ پر چار حرف رکھتے ہیں :

جتنی بھی محبت ہے وہ آنکھوں سے بیاں کر

ڈبے پہ ربن باندھ کے تحفہ نہیں دیتے

دیکھنے پڑھنے میں یہ شعر ممکن ہے سطحی اذہان کو سطحی معلوم پڑے مگر ہر گز ہر گزیہ سطحی نہیں ہے۔ اس بظاہر سادہ شعر میں زندگی کی ایک بڑی کاٹ چھپی ہوئی ہے۔ آپ کے گردو پیش میں ایک ہی دن میں سیکڑوں لوگ ایسے ہوں گے جن کے دل کدورت، حسد اور نفرت سے آلودہ ہوتے ہیں مگر وہ اپنی کھوکھلی محبت چند سکوں کے عوض جتاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس بھید کو چوراہے میں لا کرپھوڑ دیا ہے کہ محبت کے لیے کسی مادی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ تو محض چہرے کی سچائی اور آنکھوں کی پاکیزگی ظاہر کی جا سکتی ہے۔ اگر دل میل سے صاف ہو، احساس رگ جاں سے پھوٹے اورخیال کا تانا بانا محبت سے پروان چڑھا ہو تو پھر کسی کو اپنی چاہت کا پیپا پیٹنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انسان کی آنکھ محبت پھیلانے کا ایک آسان اور سستا ذریعہ ہے جس سے کوئی بھی مخلص فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ کا م کسی بادشاہ، مادیت پرست یا لینڈ لارڈ فیوڈل کا نہیں بلکہ یہ فقیرانہ وتیرہ کسی درویش کا ہو سکتا ہے۔ دولت سے دل کب جیتے جاتے ہیں دل سے دل تک پہنچنے کے لیے تو آنکھ کی صداقت کا پل استعمال کیا جانا چاہیے یہی صوفیانہ فکر کی ترسیل ڈاکٹر یسین عاطرؔ کے اس شعر سے نمایاں ہے۔

عہد موجود کی مادہ پرستی پر طنز کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ کہاں گئے وہ زمانے جب انسان کی کل متاع، فکر و دانش ہوا کرتی تھی اب تو دانش و ہنر کی کوئی وقعت نہیں رہی بلکہ اس کی جگہ مادیت پرستوں نے معنی کے بدلاؤ سے اپنی سہولت کے مطابق ڈالر نام رکھ دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں :

اب تو ڈالر ہی دورِ حاضر میں

اک غزل، نظم، مثنوی ہے میاں

ڈاکٹر یسین عاطرؔ چاہتے تو پیچیدہ اور گنجھل دار لفاظی سے اپنے اشعار کو ایک عامیانہ رنگ میں رنگ سکتے تھے، پر انہوں نے اپنے آپ کو عمومیت کی چھاننی سے بچا لیا آپ نے پرچلت موضوعات کے انتخاب کے لیے الفاظ کے معاملے میں سادگی اختیار کی اور ان کو ہی نیا آہنگ اور نیا مزاج عطا کر کے اپنے ہم عصروں سے الگ شناخت بنا لی جس سے اب ان کی شعری تخلیق صرف اس صدی تک محدود نہیں رہ گئی بلکہ کلچرل میکانیت کی یہ بے بہا بصیرت اگلی صدیوں کے افراد کی مدد کرے گی کیوں کہ ڈاکٹر یسین عاطرؔ کا سب سے بڑا موضوع انسان اور سماج ہے جو ذرے سے کائنات اور فرد سے انسانیت کی جانب رواں دواں ہے جو زمان و مکان و آدم کی ایک مثلث ہے۔ آدم علیہ اسلام سے آج تک اور آج سے قیامت تک یہ مثلث قائم رہے گی۔ نہ اس زنجیر نے ٹوٹنا ہے اور نہ ہی ڈاکٹر یسین عاطرؔ کا شعری سحر زائل ہونا ہے۔ عصری شعور سے ہم آہنگی اور ماہر طب وسائنس ہونے کہ بنا پر ڈاکٹر عاطرؔ کی شاعری میں ایک اعتدال بھی پایا جاتا ہے اور موجود و ناموجود کی سچائی بھی، جس کو وہ اپنے اسی تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے شعر کی قرات میں ان کے تمام اقربا شامل حال ہوتے ہیں جن کا تعلق ان کے پروفیشنل طبقے، طلبہ، اساتذہ، خاندان، قبیلے کے افراد، ان کے سامعین، دوست احباب اور خصوصاً محبوب بھی۔ کہیں کہیں وہ مکھی پر مکھی مارنے والوں کے برج مسمار کر کے رکھ دیتے ہیں تو کبھی کبھی روایتی محبوب کو اپنے برابر لا کھڑا کرتے ہیں :

جو چاند چھت پہ تمہاری ہے، دیکھتے رہنا

ادھر میں چاند وہی، اپنے گھر سے دیکھتا ہوں

اس شعر میں ڈاکٹر یسین عاطرؔ نے مبالغہ آرائی کے تمام بت ملیا میٹ کر دیے ہیں۔ اس شعر سے پہلے تک تو شاعر حضرات لفظ چاند کا درجہ محبوب کو دیتے رہے۔ یہاں چاند نہ محبوب ہے نہ محبوب جیسا بلکہ چاند ایک کائناتی حقیقت ہے جو محض ایک سیارہ ہے اور اس سے قمری اوقات میسر آتے ہیں۔

”عشق وسیلہ“ ڈاکٹر یسین عاطرؔ کی پہلی شعری تخلیق ہے۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق لاہور سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ علم اور روز گار دونوں عبادت ہیں دونوں کے لیے ہجرت کرنا بھی بڑی سعادت کا کام ہوتا ہے۔ ڈاکٹر یسین عاطرؔ نے ان دونوں ہجرتوں کی صعوبت کا خوب لطف لیا ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے ہجرت کی گردش افلاک میں در یوزہ گری کی ہے۔ جیون ساتھی ہو، روزگار کی بات ہو یا ہجرت ہو، یہ سب قدرت کے فیصلے ہوتے ہیں کہ:

جس کا جو سنجوک ملا دے، قدرت کی مختاری ہے

ڈاکٹر یسین عاطرؔ کی یہ فطانت ہے کہ انہوں نے ستاروں کی چال میں آ کر اپنے حال کو زوال نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے فطری زود رنجی اور زندگی کی بد رنگی کو سوچ کی ست رنگی دھنک سے، خیال سورج کی سرپرستی میں، حرف کے دیپ جلائے ہیں۔ جن حالات میں ہاجرلوگ اجرام فلکی کی ماند در بدر ی کاٹتے ہیں، اور اگر وہ تخلیقی جوہر رکھتے بھی ہوں تو محض عکس اور ضو کے گداگر بن کر، کرہ در کرہ خوار ہوتے ہیں مگر ڈاکٹر یسین عاطرؔنے اپنے ڈھنگ اور اسوہ سے زندگی کے راستے کشید کیے۔ برٹرینڈ رسل نے کہا تھا کہ انسان کو عام طور پر دو طرح کی اخلاقیات کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس پر وہ صرف تبلیغ کرتے ہیں، دوسری وہ جن پر وہ خود عمل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر یسین عاطرؔ دوغلی اخلاقیات کے معنی سے واقف نہیں۔ شفافیت اور اوریجنیلٹی ہمیشہ سے ان کے خمیر کا حصہ رہی ہے، سو وہ دہرے معیار اور منافقت سے دور رہتے ہیں۔ عملی زندگی میں وہ نہ تو مصنوعی محبتوں اور رشتوں کے قائل نہیں نہ ان کے حرف و معانی میں اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اظہار فکر میں تنوع اور ندرت خیال کی تازگی ان کے قوت بیان کی لہروں کو مزید تاباں رکھتی ہے۔ یہاں ان کا معمول ہے کہ وہ عمومی خیال اور معمولی حرف سے خصوصیت کے معیار تک پہنچتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا قاری ان کی فکر کے اتنا قریب ہوتا چلا جاتا کہ ان کی آواز کو وہ اپنے دل کی دھڑکن میں محسوس کرتا ہے۔ ان کے ظاہر باطن میں کوئی جھول نہیں اسی لیے شاعری میں ان کی ذات کی مانند کہیں مصنوعی پن نظر سے نہیں گزرا۔

ڈاکٹر یسین عاطرؔ نے روشنیوں کے شہر کراچی سے ایم بی بی ایس کیا۔ اللہ پاک نے رزق امریکہ سے نصیب میں لکھا تھا۔ امریکہ میں ڈاکٹر صاحب انسانیت کے ایک معروف مسیحا کی حیثیت سے جلد ہی پہچانے جانے لگے۔ میں اس بات پر پورا ایمان رکھتی ہوں کہ سائنس کے لوگ بڑے ذہین ہوتے ہیں۔ میں نے بہت سے ایسے اہل دانش لوگ دیکھے ہیں جو اپنے سائنسی میدان اور شعری پنڈال، ہر دو میدانوں میں یکساں مقبول ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عاطر کا شمار بھی ان معدودے چند میں سے ہے جو اپنی پہلی تخلیق کے بعد ہی شعری دنیا میں چھا گئے ہیں۔ میں سوشل میڈیا پر ان کے بائیس تئیس ملین فالوورز دیکھ کر حیران ہوں کہ اتنا مقبول آدمی۔ اور عاجزی ایسی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی کہ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ یہ میں اپنی آنکھوں دیکھا حال سنا رہی ہوں۔ ان کی پہلی کتاب کی پہلی تقریب پزیرائی لاہور پرل کانٹی نینٹل میں تھی۔ میں ایک غیر جانبدار لکھاری کے طور پر ان کو واچ کر رہی تھی۔ اس سے قبل میرا ان سے کوئی تعارف بھی نہ تھا۔ اس تقریب میں جتنے ادیب موجود تھے اس سے تقریباً دو گنا ان کے خاندان کے لوگ تھے۔ وہ ہر کسی کے پاس جاتے، جھک کے ملتے اور فرداً فرداً ان کا شکریہ ادا کرتے تقریب کے آخر میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا پھر بڑی محبت سے ہر کسی کو کتاب نذر کرتے اور باقاعدہ اپنے سائن سے (جو ایک ادبی اخلاقیات کے زمرے میں آتی ہے ) اقربا اور ادیبوں کو پیش کرتے رہے۔ خیر یہ سب تو برسبیل تزکرہ تھا۔

یہ بات سچ ہے کہ خیال کبھی پرانا نہیں ہوتا، ہو بھی کیسے۔ کیا کبھی انسان پرانا ہوا ہے؟ آدم سے لے کر آج تک ایک ہی فطرت۔ لہذا اگر انسان پرانا نہیں تو اس کی نسبت سے خیال بھی قدیم نہیں ہو سکتا ہاں البتہ باقی لوگوں سے الگ انفرادیت کے حامل لوگوں کا اسلوب مختلف ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹریسین عاطرؔ کی اسی خوبی نے ان کو شعری میدان میں لا کھڑا کیا ہے کہ ان کی ڈکشن منفرد ہے۔ انہوں نے کلاسیک خیال کو اپنے انداز سے برت کے معانی کا لبادہ عطا کیا ہے۔ آج کل تونئے لکھنے والوں نے لا یعنیت کی جگالی کو نئے اسلوب کی شاعری سمجھ لیا ہے مگر ڈاکٹر یسین عاطرؔ نے اس رنگ کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ ڈاکٹر صاحب کا شعری ظاہر باطن بھی ان کی شخصیت کا عکاس ہے۔ انہوں نے اپنے شعری سفر میں اپنے تیقن کا سہارا لیا اور اپنے مجموعے ”عشق وسیلہ“ کے لیے کسی سینئر استاد کی بیساکھی کا سہارا نہیں لیابلکہ اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر نوید یوسف سے اس کتاب کی ترتیب لگوائی اور اسی سے نظر ثانی کروائی۔ اس کتاب کے شروع میں ڈاکٹر صاحب کی ایک دعا شامل ہے :

مرے خدا، مرے لہجے میں عاجزی کر دے

مجھے تو عبد بنا اور متقی کر دے

ترے سوا نہ پکاروں کسی وسیلے کو

تو اس قدر مرے ایماں میں پختگی کر دے

اس خوبصورت نظم میں دعا کے سارے شیڈ موجود ہیں۔ اس میں ہر وہ التجا موجود ہے جو کوئی عاجز، بے بس، بے کس، عبد، خلق یا غلام اپنے آقا و مالک سے با آسانی کر سکتا ہے۔ عشق کو اپنا دین ایمان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ عشق کے ایک تھپیڑے نے میرے اندر ایسی ہلچل مچائی کہ وہاں ایک مستقل کیفیت سے مثبت پن جاگاجس نے میری رگوں کو تیرگی کی کائی سے بچایا۔ یہ عشق ہی ہے جس نے ان کے غموں کو مات دی جس کے نتیجے میں شعری سوتے پھوٹتے چلے گئے۔ اپنے اس شعری تجربے نے ڈاکٹر یسین عاطرؔکے فکر اور وجدان کو ایسی تراوت عطا کی کہ ڈاکٹر صاحب کی محبت اور احساس کے جادونے ان کے خیال، فکر اور وجدان کو احساسِ محبت کے سحر میں مقید رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج جس مقام پر کھڑے ہیں، وہ ان تمام شعر باز شعرا سے الگ نظر آتے ہیں جو وقتی شعری شبدہ بازی سے جل کر بجھ جاتے ہیں۔

” عشق وسیلہ“ میں کل ( 97 ) غزلیں، تئیس فردیات اور گیارہ قطعات ہیں۔ اس کتاب میں کوئی نظم شامل نہیں ہے۔ ان کو نظم کا کوئی دعویٰ بھی نہیں وہ خود بھی کہتے ہیں کہ میں غزل کا شاعر ہوں۔ یہ بیانیہ پڑھنے والے پر ڈاکٹر یسین عاطرؔ کی سادگی اور سچائی کی گرہیں وا کرتا چلا جاتا ہے اور دوسرا یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب انتہائی روانی اور سلاست سے کلام کرتے چلے جاتے ہیں انہیں رک رک کر ایک ایک مصرعے کے لیے ہلکان نہیں ہونا پڑتا جس طرح ہمارے بہت سینئر شاعر بھی اس مشکل میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور بڑے فخر اور رعونت سے بتاتے نہیں تھکتے کہ انہوں نے ایک ایک شعر کے پیچھے کتنا سفر کیا۔ یہ خداداد صلاحیت کسی کسی کو ودیعت ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ شعری و فکری ہما، ڈاکٹر یسین عاطرؔ کے سر پر محو عنایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ اپنی سورج صفت محبت کے حلقوم سے لفظوں کو روشناس کراتے ہیں تو الفاظ کاسارا کھردرا پن ان مول ہلکی ہلکی شیریں کسک میں در آتا ہے۔ اس طرح جتنا لطف شعر تخلیق کرنے میں آتا ہے اتنا ہی قاری کو مزہ دیتا ہے۔

ڈاکٹریسین کوئی جز وقتی اور حادثاتی شاعر نہیں بلکہ وہ کل وقتی اورجمالیاتی شاعر ہیں۔ اپنے اس تخلیقی جوہر سے انہوں نے اپنے زمانہ طالبعلمی میں بھی بہت نام کمایا تھا۔ خاص کر ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی میں میڈیکل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنا شغل پورا کرتے۔ اپنے زمانہ طالبعلمی کے کیرئیر میں اردو ادب کی محفلیں ان کی موجودگی میں کشت زعفران رہتیں۔ اسی دوران انہوں نے بہت سے شعری مقابلہ ہائے جات اور بیت بازی کی مسابقت میں نام کمایا۔ اگر وہ کراچی میں ہی رہ جاتے تو آج وہ فاطمہ حسن، جاوید صبا اور صابر ظفر کے ساتھ چل رہے ہوتے۔ ڈاکٹریاسین عاطرؔ، سول ہسپتال کراچی میں جب روزگار کی جنگ جاری نہ رکھ سکے تو امریکہ چلے آئے قدرت کو یہی منظور تھا۔ جہد مسلس کو وہ عبادت سمجھتے رہے۔ پڑھائی، شاعری اور نوکری کو ہم رقاب کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے جاتے ہیں مگر اس سب کے باوجود ارض پاک کی زنجیر پاؤں سے باندھ رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں :

وقت گر پاؤں کے نیچے سے زمیں کھینچ بھی لے

دیس کی خاک سے رشتہ تو نہیں ٹوٹے گا

جس میں بستے ہیں ترے چاہنے والے عاطرؔ

تیری پرواز سے وہ شہر نہیں چھوٹے گا

اپنی زمین سے جڑت کی ایک اور خوبصورت مثال دیکھیے :

دل اب بھی مرا کوچہء دل بر میں پڑا ہے

تم لوگ مری نقل مکانی پہ نہ جانا

ان کی کامیابیوں کی روشنی اور سعی ناتمام کبھی تمام نہیں ہوتی۔ وہ اپنی خانگی، سماجی اور پروفیشنل لائف، سب میں کامیاب ہیں۔ اس وقت ایک جانب تو وہ فزیشن میڈیسن کے سینئر استاد اور ریسرچر کے طور پر مانے جانے جاتے ہیں تو دوسری طرف وہ کیلیفورنیا یونی ورسٹی میں کلینیکل میڈیسن کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ بندہ خاکی کو جس بیماری سے بہت زیادہ سابقہ پڑتا ہے وہ معدہ آنت کی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے ریسرچ کے میدان میں اگر دیکھا جائے تو صرف امریکہ ہی کیا پوری دنیا میں ڈاکٹر یسین عاطرؔ کے نام کے ڈنکے بجتے ہیں۔ یوں ڈاکٹر یاسین عاطرؔ ذہنی بالیدگی کے ساتھ ساتھ معدہ و آنت کی بالیدگی کا بھی باعث بنتے ہیں۔

جہاں لوگ شاعری کو صرف کلامِ موزوں کے پیندے میں مقید کر دیتے ہیں وہاں کچھ صاحب ہوش تخلیق کار اپنے اس کارِ فہم کو اپنے احساسات، مشاہدات، تجربات، پیشے، مقامِ ہجرت، مقامِ سکونت اوررشتوں کے بندھن سے جوڑ کر نمایاں ہوتے ہیں۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *