متفرق

گلاب اور انسان

Spread the love

تحریر بشرہ عمر بامی انگلینڈ

گلاب کو لوگ اس لئے نہیں پسند کرتے ہیں کہ وہ خوبصورت ہے بلکہ پسندیدگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ خوشبو سے بھرا ہوا ہے اسی طرح وہی انسان قابل اعتبار اور صاحب وقار ہوتا ہے جس میں علم کی خوبصورتی اور عمل کی خوشبو ہو ۰

گلاب کا رنگ لال، سفید، پیلا اور کالا ہو سکتا ہے مگر وہ اس کی مقبولیت اور پذیرائی کا معیار اس کی خوشبو ہے اسی طرح انسان کا رنگ گندمی سفید یا سیاہ ہو سکتا ہے وہ سماج میں معتبر تبھی ہو سکتا ہے جب اس کے علم پر اس کا عمل اور کردار حاوی ہو ۔

گلاب ہزار  کانٹوں کے درمیان رہ کر بھی اپنی مدت حيات کو مکمل کرتا ہے اور اپنے وجود کو برقرار رکھتا ہے اسی طرح انسان کو حالات سے نبردآزما ہوتے ہوئے اپنے وقار کو برقرار رکھنا چاہئے جب تک انسان آزمائشوں سے دو چار اور حالات کی ناسازگاری کا شکار نہیں ہوتا ہے تب تک اس کے کردار کو بلندی اور حوصلے کو مہمیز نہیں ملتی ہے

رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد

سرخرو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد

گلاب کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ جو بھی اس کے قریب سے گذرتا ہے اسے وہ معطر کر دیتا ہے اور اپنے چاروں طرف خوشبو پھیلائے رہتا ہے اسی لئے مالی کے لئے وہ اہمیت کا حامل رہتا ہے اسی طرح انسان اپنے علم و فن کی خوبصورتی اور عمل کی خوشبو سے اپنے سماج کو مزین اور معطر رکھتا ہے لیکن جس دن انسان اپنے کردار و عمل کی خوشبو سے محروم ہو جاتا ہے اس دن وہ سماج کے لئے کانٹا اور سوکھا ہوا پھول بن کر رہ جاتا ہے ۔

جب گلاب مر جھا جاتا ہے اور اس کی خوشبو اس سے جدا ہو جاتی ہے تب لوگ اسے مسل کر پھینک دیتے ہیں یا اس کی پنکھڑیوں کو ہوا کی نذر کر دیتے ہیں انسان جب اپنوں کے لئے بے عمل اور بے سود ہو جاتا ہے تب وہ نظر استحسان سے دور ہو جاتا ہے ۔

گلاب جب اپنی شاخ سے جدا ہوتا ہے تب کہیں جاکر وہ کسی کے سر کا سہرہ یا گلے کا ہار بنتا ہے انسان بھی جب تک گھر سے دور راہ کی ٹھوکریں اور راستے کی دھول نہیں پھانکتا ہے تب تک اسے کامیابی اور کامرانی نہیں ملتی ہے

وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے نکل گیا

عزت اسے ملی جو وطن سے نکل گیا

گلاب بہت مختصر مدت ہی میں مالی کا نور نظر ہو جاتا ہے جو اس کی بقا کے لئے ہمیشہ دعا گو رہتا ہے ہم انسانوں کو بھی یہی سبق لینا چاہئے کہ جو بھی مہلت زندگی ملی ہوئی ہے اسے مفاد عامہ کی راہ میں صرف کریں اور سب کے لئے مفید بن کر لوگوں کی دعاؤں کے مستحق بنیں ۔

گھلا گلاب تو یہ راز بھی کھلا ہم پر

کہ سرخ رنگ ہری ٹہنیوں میں ہوتا ہے

گلاب کا پھول محبت کی علامت ہے اس کے شوخ رنگ جذبات کے اظہار کا موثر ذریعہ ہیں جب گلاب شاعری میں آتا ہے تو شاعر اسے محبت کی ڈوریوں میں پرو کر اپنی الفت کا اظہار کرتے ہیں گلاب جب طبیب اور حکماء کے پاس آتا ہے تو وہ اس کے طبی خواص کو کشید کر کے دوائیں تیار کرتے ہیں عام طور پر گلاب کی دو اقسام ہیں دیسی گلاب اور ولائیتی گلاب لیکن خوشبو کے لحاظ سے دیسی گلاب بالکل منفرد ہے دیدی گلاب کو بھی مزید دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے سیوتی اور سندھی سیوتی گلاب کا رنگ گلابی مائل سرخ اور خوشبو ذرا ہلکی ہوتی ہے جبکہ سندھی گلاب تیز سرخ یا ہلکا سیاہی مائل ہو تا ہے اس کی خوشبو زیادہ تیز ہوتی ہے گلاب کا عطر اسی گلاب سے بنتا ہے طبی طور پر استعمال کے لئے دیسی گلاب ہونا ضروری ہے قبض کی شکایت میں تازہ گلاب کو دودھ میں ابال کر چینی ڈال کر گھونٹ گھونٹ کر کے پینے سے قبض کی شکایت دور ہو جاتی ہے گلاب کو سونگھنے سے دل کی دھڑکن میں نظم پیدا ہوتا ہے اور دماغ کو بیداری اور قرار حاصل ہوتا ہے گرمی کی وجہ سے سردرد سر سے گرمی نکلتی ہو دل میں بے چینی ہو تو ایسے میں عرق گلاب کا پینا یا سونگھنا فائدہ دیتا ہے متلی اور چکر بھی دور ہو جاتے ہیں گلاب کی پتیوں کو پیس کر ورم کی جگہ لگانے سے آرام ملتا ہے کمزور مسوڑھوں کی وجہ سے دانت کمزور ہو جائیں تو تازہ خشک کئے ہوئے گلاب کے پھولوں کو پانی میں جوش دے کر اس سے بار بار کلیاں کرنی چاہیئے ہاتھ پاؤں کی جلن سے افاقے کے لئے ایک بڑا چمچ عرق گلاب آدھے گلاس پانی میں حل کر کے چینی ملا کر شربت بنا کر برف ڈال کر پینے سے گرمی دور ہو جاتی ہے ساتھ پیاس کی شدت کم ہو جاتی ہے۔

منقول

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *