وفا کا میری دیا ہاتھ سے بجھاتے ہوئے
فہمیدہ مسرت احمد جرمنی
وفا کا میری دیا ہاتھ سے بجھاتے ہوئے
پلٹ کے دیکھا نہ اک باراس نےجاتے ہوئے
لگے تھے پنکھ فضاؤں میں اُڑ رہی تھی میں
ہوا میں جگنو ترے نام کے اُڑاتے ہوئے
یہ چاند تارے مرے ساتھ جاگتے ہی رہے
تمام رات محل پیار کا بناتے ہوئے
انا کو طاق پہ اپنی اگرچہ رکھ ڈالا
بلک بلک کے میں روئی اُسے مناتے ہوئے
نہ جانے کتنے مراحل سے کرب گزرا تھا
وہ اس کا ہاتھ کسی غیر کو تھماتے ہوئے
فریب دیتے ہیں اکثر یہ قند لہجوں سے
ذرا سا ہنستے ہوئے بات کو گھماتے ہوئے
ہماری آنکھوں میں اک خواب روشنی کا رہا
اندھیرے ظلم و ستم کے سدا مٹاتے ہوئے
چھلک پڑے ہیں مَسرت یہ اشک جانے کیوں
پلک پلک پہ ستارے کبھی سجاتے ہوئے

