فضائل القرآن
قرآن کریم کے متعلق پانچ دعوے
اس آیت میں پانچ دعوے قرآن کریم کے متعلق پیش کئے گئے ہیں۔ اول یہ کہ قرآن اپنی دلیل آپ ہے اور اسے خدا کے سوا کوئی بنا ہی نہیں سکتا۔ اس لئے ایسے امور ہیں جو انسان کے اختیار سے باہر ہیں یعنی امور غیبیہ۔ فرماتا ہے۔ قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ کہ آسمان اور زمین میں خدا کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ مطلب یہ کہ قرآن میں غیب کی باتیں ہیں اور یہ خدا کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا۔
دوسرا دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ پہلی کتابوں کی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں
تیسرا یہ کہ اس میں پہلی کتابوں کی تشریح ہے۔
چوتھا یہ کہ ہر امر کو دلیل کے ساتھ ایسے رنگ میں بیان کرتا ہے کہ اس کے درست ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا۔
پانچواں یہ کہ قرآن خدا کی صفت رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ کے ماتحت نازل ہوا ہے تا کہ اس کا فیضان سب قوموں کیلئے وسیع ہو۔
فرماتا ہے۔ اگر قرآن افترا ہے تو ان پانچ صفات والی کوئی سورۃ پیش کرو۔ اگر ان صفات والی سورۃ لے آؤ گے تو ہم مان لیں گے کہ انسان ایسی کتاب بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر تم سارے مل کر بھی نہ بنا سکو۔ تو معلوم ہوا کہ ایسی کتاب کوئی انسان نہیں بنا سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس سورۃ )یونس( میں یہ دعویٰ کئے گئے ہیں اس سے پہلے جس قدر قرآن اُتر چکا تھا۔ اس میں یہ پانچ باتیں پائی جاتی تھیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا قرآن کے اس حصہ میں یہ پانچوں باتیں ہیں۔ اگر ہیں تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔
علم غیب
پہلی بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن میں وہ باتیں ہیں جو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یعنی قرآن میں علم غیب ہے۔ اس کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس کی نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ایک سورۃ کوثر ہے جو ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ۔ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ رسول کریم ﷺ کے متعلق دشمن کہا کرتا کہ یہ ابتر ہے۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں۔ اس کے بعد اس کا جانشین کون بنے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں فرماتا ہے کہ تو ابتر نہیں بلکہ تیرا دشمن ابتر ہے۔ رسول کریم ﷺ کس طرح ابتر نہیں۔ اور آپ کا دشمن کس طرح ابترہے۔ اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ اے محمد (ﷺ) ہم نے تیرے متعلق فیصلہ کر دیاہے کہ ہم تجھے ایک عظیم الشان جماعت دیں گے۔ جو روحانی طور پر تیری فرزند ہوگی۔ اور اس میں بڑے بڑے اعلیٰ پایہ کے انسان ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ۔ اے محمد (ﷺ) تو اس خوشی میں خوب نمازیں پڑھ دعائیں کر اور قربانیاں کر۔ پھر جب ہم تیری جماعت کو اور بڑھانے لگیں تو تُو اور عبادت کر اور قربانیاں کر۔ کیونکہ ہم تیری روحانی نسل کو بڑھانے والے ہیں۔ اور یہ روحانی نسل اس طرح بڑھے گی کہ ابوجہل کا بیٹا چھینیں گے اور تجھے دے دیں گے۔ وہ ابتر ہو جائے گا۔ اور تو اولاد والا ہوگا۔ یہی حال دوسروں کا ہوگا۔ ان کے بیٹے چھین چھین کر ہم تمہیں دے دیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان کے بیٹے رسول کریم ﷺ کو دیئے گئے۔ اور وہ روحانی لحاظ سے ابتر ہو گئے۔ یہی وجہ تھی کہ جوں جوں رسول کریم ﷺ کو کامیابی ہوتی گئی۔ کفار زیادہ تکلیفیں دیتے گئے۔ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا جو سورۃ کوثر میں بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ انبیاء رکوع۴ میں ذکر کیا ہے۔ فرماتا ہے۔ اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَفرمایا۔ کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ ہم ان کے ملک کو اس کے کناروں کی طرف سے چھوٹا کرتے جا رہے ہیں۔ اور ہر روز ان کی اولادیں محمدرسول اللہ ﷺ کو دے رہے ہیں۔ کیا اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ غالب آئیں گے۔ وہ غالب کس طرح آ سکتے ہیں جب کہ ہم ان کے جگر گوشے کاٹ کاٹ کر تیرے حوالے کرتے جا رہے ہیں۔ اور انہی ابتر کہنے والوں کے بچے اور عزیز اسلام میں داخل ہو کر اس کی صداقت ظاہر کر رہے ہیں اور کفار کو بے اولاد اور آنحضرت ﷺ کو بااولاد ثابت کر رہے ہیں۔ چنانچہ مکہ کے بڑے بڑے خاندانوں کے جو بیٹے اور بھتیجے رسول کریم ﷺ کو دیئے گئے ان میں حضرت عثمانؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ، حضرت ابوعبیدہؓ، حضرت ارقم بن ابی ارقمؓ، حضرت عثمان بن مظلعونؓ اور حضرت سعید بن زیدؓ تھے۔ یہ لوگ ابتدا میں ہی ایمان لے آئے تھے۔ اور وہ رؤساء جو رسول کریم ﷺ کو دکھ دینے میں سب سے بڑھے ہوئے تھے یہ ان کے بیٹے اور بھانجے اور بھتیجے تھے۔ ان کے مسلمان ہوجانے کی وجہ سے کفار کو اور زیادہ غصہ آتا کہ یہ اپنے باپ دادا کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔ اور محمد ﷺکی تائیدکرتے ہیں۔ حضرت عثمان بن مظلعون ؓ، ولید بن مغیرہ کے عزیز تھے۔ اور اس نے ان کو پناہ دی ہوئی تھی۔ حضرت عثمانؓ ایک دن باہر جا رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک مسلمان پر سخت ظلم کیا جا رہا ہے۔ مگر آپ کو کسی نے کچھ نہ کہا۔ انہوں نے ولید کے پاس جا کر کہا کہ میں اب آپ کی پناہ میں نہیں رہنا چاہتا۔ کیونکہ میں یہ نہیں دیکھ سکتا کہ دوسرے مسلمانوں کو تو اس طرح دکھ دیا جائے اور میں آپ کی پناہ میں محفوظ رہوں۔ اللہ تعالیٰ مومن کے ایمان کی آزمائش کرتا ہے۔ ادھر انہوں نے پناہ ترک کی اور ادھر یہ حادثہ پیش آ گیا کہ لبید جو ایک بہت بڑے شاعر تھے ایک مجلس میں شعر سنا رہے تھے۔ کہ ایک شعر انہوں نے پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہر چیز خدا کے سوا تباہ ہونے والی ہے اور ہر نعمت آخر میں زائل ہونے والی ہے۔ جب لبید نے پہلا مصرح پڑھا تو حضرت عثمانؓ نے کہا ٹھیک ہے۔ اس پر لبید نے غصہ سے اس کی طرف دیکھا کہ ایک بچہ میرے کلام کی داد دے رہا ہے۔ اسے اس نے اپنی ہتک سمجھا اور کہا۔ اے مکہ والو! پہلے تو تم میں ایسے بدتہذیب لوگ نہ تھے۔ اب تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا۔ یہ بےوقوف بچہ ہے۔ اسے جانے دیں۔ حالانکہ بات یہ تھی کہ انہوں نے قرآن سنا ہوا تھا۔ اور اب ان کے نزدیک شعروں کی کچھ حقیقت ہی نہیں رہ گئی تھی۔ بلکہ خود لبید نے مسلمان ہونے پر یہی طریق اختیار کیا۔ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ اپنے ایک گورنر کو کہلابھیجا کہ مجھے بعض مشہور شعراء کا تازہ کلام بھجواؤ۔ جب ان سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا۔ تو انہوں نے قرآن کریم کی چندآیات لکھ کر بھیج دیں۔
جب لبید نے دوسرا مصرح پڑھا اور کہا کہ ہر نعمت زائل ہونے والی ہے تو عثمانؓ نے کہا۔ یہ غلط ہے۔ جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہونگی۔ یہ سن کر اسے طیش آگیا اور اس نے اہل مجلس سے کہا کہ تم نے میری بڑی ہتک کرائی ہے۔ اس پر ایک شخص نے عثمانؓ کو بُرابھلا کہا۔ اور اس زور سے مکا مارا کہ ان کی ایک آنکھ نکل گئی۔ ولید کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا۔ دیکھا میری پناہ میں سے نکلنے کا یہ نتیجہ ہوا۔ اب بھی پناہ میں آجاؤ۔ حضرت عثمانؓ نے کہا۔ پناہ کیسی۔ میری تو دوسری آنکھ بھی انتظار کر رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلے۔ ان کے فوت ہونے پر رسول کریم ﷺ نے انہیں بوسہ دیا اور آپﷺکی آنکھوں سے اس وقت آنسو جاری تھے۔ جب رسول کریم ﷺ کا صاحبزادہ ابراہیمؓ فوت ہوا۔ تو آپﷺنے فرمایا أُلْحِقَ بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ یعنی ہمارے صالح عزیز عثمان بن مظلعون کی صحبت میں جا۔
پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب
دوسرا دعویٰ قرآن کریم کے متعلق یہ کیا گیا ہے کہ یہ پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب ہے۔ چنانچہ استثناء باب18 آیت 18 میں آتا ہے۔
’’خداوند تیرا خدا تیرے لئے۔ تیرے ہی درمیان سے۔ تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔‘‘
اس میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ نبی جو آنے والا ہے وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہوگا بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ہوگا گویا وہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے ہی ہوگا۔ نہ کہ کسی غیر قوم سے۔ پھر اس کی علامت یہ بتائی کہ۔:
’’جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے۔ اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو۔ تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔‘‘
اب دیکھو قرآن کی باتیں کیسی پوری ہوئیں۔ اور اس کی بیان کردہ پیشگوئیاں کس طرح سچی نکلیں۔ کفار نے جب رسول کریم ﷺ کے متعلق کہا کہ اس کی اولاد نہیں تو خداتعالیٰ نے فرمایا۔ ہم اسے اولاد دیں گے۔ اور ابتر کہنے والوں کی اولاد ہی چھین کر دے دیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔
حضرت مسیح علیہ السلام نے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے سے انکار کیا ہے۔ چنانچہ یوحنا باب1آیت21 میں لکھا ہے۔: ’’انہوں نے اس سے پوچھا۔ پھر تو کون ہے۔ کیا ایلیاہ ہے۔ اس نے کہا۔ میں نہیں ہوں۔ کیا تو وہ نبی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔‘‘ اسی طرح اعمال باب3 میں لکھا ہے کہ وہ نبی مسیح کی بعثت ثانی سے پہلے اور بعثت اول کے بعد ظاہر ہوگا۔ بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ۔: ’’سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے باتیں کیں ان سب نے ان دنوں کی خبر دی ہے۔‘‘
یہ پیشگوئی رسول کریم ﷺ کے ذریعہ پوری ہوئی۔ کیونکہ آپﷺ~ ان کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے تھے۔
اسی طرح یسعیاہ آنے والے نبی کی خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں۔: ’’تب قومیں تیری راستبازی اور سارے بادشاہ تیری شوکت دیکھیں گے۔ اور تو ایک نئے نام سے کہلائے گا۔ جسے خداوند کا مونہہ خود رکھ دے گا۔‘‘ سوائے اسلام کے دنیا میں کوئی مذہب نہیں جس کا نام خدا تعالیٰ نے رکھا ہو۔ چنانچہ اسلام کے متعلق ہی فرمایا ہے۔ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا دوسری پیشگوئی بھی اسی کے ساتھ لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ:’’تُو آگے کو متروکہ نہ کہلائے گی۔ اور تیری سرزمین کا کبھی پھر خرابہ نام نہ ہوگا۔ بلکہ تو حفیضیاہ کہلائے گی۔‘‘
یہ پیشگوئی بھی اسلام کے متعلق ہی ہے۔ چنانچہ مکہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا جو اس میں داخل ہو وہ امن میں آ جاتا ہے۔
پھر حضرت مسیحؑ کہتے ہیں:’’مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں۔ مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا۔ بلکہ جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دیگا۔‘‘
اب دیکھو۔ اس میں کتنی علامتیں رسول کریم ﷺ کی بیان کی گئی ہیں۔
اوّل یہ کہ آنیوالا نبی ایسی تعلیم دے گا جو مسیح تک کسی نے نہیں دی۔ گویا وہ سب سے بڑھ کر تعلیم دے گا۔
(2)وہ ساری باتیں کہے گا۔ یعنی کامل تعلیم دے گا اور اس کے بعد اور کوئی اس سے بڑھ کر تعلیم نہیں لائے گا۔
(3)وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا۔ بلکہ کلام اللہ لائے گا۔
(4)اس کلام اللہ میں آئندہ کی خبریں ہوں گی۔
(5)وہ کلام مجھ (یعنی مسیحؑ) پر دشمنوں کے عائد کردہ الزامات کو دور کرے گا۔
یہ سب باتیں رسول کریم ﷺ پر صادق آتی ہیں۔ پہلی بات حضرت مسیحؑ نے یہ فرمائی تھی کہ وہ نبی ایسی تعلیم لائے گا جوپہلے کوئی نہیں لایا۔ قرآن کریم اس کے متعلق فرماتا ہے علم الانسان مالم یعلم یعنی قرآن کریم کے ذریعہ وہ وہ باتیں سکھائی گئی ہیں۔ جو کسی اور کو معلوم نہیں۔ دوسری بات حضرت مسیحؑ نے یہ بیان کی تھی کہ وہ ساری باتیں بتائے گا۔ قرآن کریم میں اس کے متعلق آتا ہے۔ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ آج سارا دین تم پر مکمل کر دیا گیا ہے۔ پھر سورہ کہف رکوع8 میں آتا ہے۔ وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ہم نے اس قرآن میں ہر ضروری آیت کو مختلف پیرایوں میں بیان کر دیا ہے۔ تیسری بات حضرت مسیحؑ نے یہ بتائی تھی کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا۔ بلکہ خدا تعالیٰ اسے جو کچھ بتائے گا اسے پیش کرے گا۔ قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔ وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی۔ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰی یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ خدا ہی کا کلام پیش کرتا ہے۔ باقی سب کتابوں میں انبیاء کی اپنی باتیں بھی ہیں۔ صرف قرآن ہی ایک ایسا کلام ہے جو سارے کا سارا خدا کاکلام ہے۔ پانچویں بات حضرت مسیحؑ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ نبی ان الزامات کو دور کرے گا جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں۔ اس کے متعلق سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کو نَعُوْذُ بِاللہِ وَلَدَالزَّنَا کہا گیا تھا۔ اور لعنتی قرار دیا گیا تھا۔ قرآن نے ان الزامات کی پوری تردید کی۔
(حوالہ فضائل القرآن صفحہ 239 تا 244 )


