عدم برداشت کی وجوہات و اثرات
تحریر رفعت امان اللہ
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے۔ اسی لئے اس کو ہدایت پر قائم رکھنے کے لیے دنیا میں پیغمبر بھیجے جو انسان کی تعلیم و تربیت اور اسے باخدا انسان بنانے کی حکمت کے تحت آئے،جنہوں نے انسان کو زمین پر ایک معاشرہ کی صورت مل جل کر رہنے کے قابل بنایا ۔عدم برداشت جیسی خامی کا کسی معاشرے میں موجود ہونا اس معاشرے کی رسوائی اور گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ اختلاف رائے ہر انسان کاجائز حق ہے، اسے ناجائز سمت لے کے چلنا اور پھر اس سے معاشرے کو نقصان پہنچانا یہ قابل قبول نہیں اور خدا کی قائم کردہ حدود کو توڑنے کے مترادف ہے۔
عدم برداشت اورانتہا پسندی ابتدائی زمانہ سے ہی انسان کے اندر کسی نہ کسی صورت میں داخل رہی ہے، جیسے جب بھی دنیا میں کوئی نبی اپنی نبوت کا اعلان کرتا تو اس وقت کے عوام اسے طرح طرح کی اذیتیں پہنچاتے اور ہر طرح سے اس کی مخالفت کرتے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہیں ان کے اپنے ہی لوگوں نے اس حد تک اذیت پہنچائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “اتنا کسی نبی کو نہیں ستایا گیا جتنا مجھے ستایا گیا ہے”
وجوہات:جب دوسروں کی کسی نعمت پہ صبر یا دلیل کوتحمل سے برداشت نہ کریں تو عدم برداشت جیسی خامی وجود میں آتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان جیسے غریب ملک میں وسائل کی تعداد کم اور مسائل کی بھرمار ہے، غربت ناخواندگی، افلاس، جہالت، بھوک، بےروزگاری، بہترطبی سہولیات کا فقدان، بد امنی ،سفارش اور رشوت جیسے بے شمار ناسور ہیں، جو ہمارے وطن کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے عوام کے اندر غصہ، حسد اور جلن جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں ۔ معاشرہ اس وقت قوتِ برداشت سے عاری ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں تحمل اور برداشت کی کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ہمارے رویے اس قدر خشک اور سخت ہو چکے ہیں کہ اخلاقی اقدار پامال ہو چکی ہیں۔ جس کی وجہ سے انسانیت کا احترام بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ وہ دور اب ناپید ہو چکا ہے جب لوگ ایک دوسرے کی بات کو صبر و تحمل سے سنتے اور برداشت کرتے تھے۔ اختلافِ رائے ہر انسان کا حق ہے مگر ہم صرف اسے اپنی ذات، فرقے اور رنگ و نسل تک محدود سمجھتے ہیں۔ لوگ ذرا سا اختلاف دیکھتے ہی آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا، غصہ اور جارحانہ پن ایک عام سی بات بن کے رہ گئی ہے۔ تحمل وبردباری معاشرے کی عمارت میں بنیادی اینٹیں ہیں۔ عدم برداشت کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ اسلام کی تعلیمات پرعمل پیرا نہ ہونا ہے۔اسلام جہاں حقوق کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے وہیں فرائض کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔ ہمسایوں، بیواؤں اور یتیموں کا خیال، کمزوروں کی داد رسی، مزدور کو اس کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنا، بیمار کی تیمارداری سمیت ہر طرح کے حقوق اسلام نے قائم کیے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں دوسروں کو تحفہ دینا پسندیدہ اور مسکراہٹ صدقہ ہے۔ مگر افسوس! ہم یہ تعلیم بھول چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وجہ سے نفسیاتی سماجی اخلاقی اور معاشی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے انسان میں برداشت کا توازن کم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہر انسان ایک جیسا مزاج نہیں رکھتا۔ کچھ لوگوں میں برداشت کا مادہ زیادہ اور کچھ میں کم ہوتا ہے۔ جذباتی اور کم برداشت والے افراد ذرا ذرا سی بات پر غم و غصے کا شدید اظہار کرنے لگ جائیں، توڑ پھوڑ کو معمول بنالیں تو دوسروں کی زندگی کو اپنے غلط رویوں سے مشکلات کا باعث بنا دیتے ہیں۔ بلآخر وہ لوگ بھی اپنی اخلاقی حدود و قیود سے باہر نکل آتے ہیں۔ یہی چیز معاشرے میں اخلاقی گراوٹ کا سبب بنتی ہے، اور ہمارے اندر مایوسی، نفرت، اشتعال انگیزی اور قتل و غارت گری جیسی برائیوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ نا انصافی، معاشرتی استحصال اور لاقانونیت بھی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ جب لوگوں کے پاس دلیل ختم ہوجاتی ہے تو پھر وہ تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت 111 میں ارشاد خداوندی ہے ’’اور (یہود و نصاری) نے کہا ہر گز جنت میں داخل نہ ہوگا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو یہ ان کی تمنا ئیں ہیں تم کہو تم اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو‘‘
جب دلیل اور مکالمات سے بات چیت نہ ہو تو عدم برداشت جیسی خامی وجود میں آتی ہے۔ایک اور وجہ ناانصافی بھی ہے۔ طاقتور کو قصور معاف ہو جانا اور کمزور پر ہر طرح کا قانون لاگو ہونا بھی عدم برداشت جیسی خامی کو جنم دیتا ہے۔ سورۃ النساء آیت 135 میں اللہ تعالی فرماتا ہے “اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، ہوجاؤ انصاف پر قائم رہتے ہوئے گواہی دینے والے اللہ کی خاطر اور اگرچہ اپنے آپ کے خلاف ہی ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے (خلاف ہی کیوں نہ ہو) اگر ہو وہ امیر یا فقیر تو اللہ تعالی (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے ان دونوں کا تو نہ پیروی کرو خواہش نفس کی کہ تم عدل (نہ) کرو اور اگر توڑمروڑ کر بات کرو گے (گواہی دیتے ہوئے) یا منہ موڑو گے گواہی دینے سے تو بے شک اللہ (اس) پر جو تم عمل کرتے ہو خوب خبردار ہے۔‘‘
اسی طرح سورۃ مائدہ آیت نمبر 8 میں اللہ تعالی فرماتا ہے ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ہوجاؤ قائم رہنے والے اللہ کے لئے گواہی دینے والے انصاف کی طرف اور نہ ہرگز آمادہ کریں تم کو کسی قوم کی دشمنی اس بات پر کہ تم نہ کرو عدل کیا کرو وہ زیادہ قریب ہے تقویٰ کے اور اللہ سے ڈر جاؤ بیشک اللہ خوب باخبر ہے اس سے جو تم عمل کرتے ہو۔‘‘
اس کے علاوہ حسد ایک بہت بری بیماری ہے جو عدم برداشت کی وجہ بنتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے خوبیوں اور نعمتوں پر حسد کرتے ہیں اور وہ ان کو برداشت نہیں کرپاتے اللہ تعالی نے صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ صابر و شاکر لوگ ہی عدم برداشت جیسی خامی اور دیگر کمزوریوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ سورۃ البقرہ آیت 153 میں اللہ تعالی فرماتا ہے ’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو مدد حاصل کرو صبر اور نماز سے بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
اثرات: عدم برداشت کے معاشرے پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن میں سے سب سے بڑھ کر اخلاقی پستی ہے۔ یہ برائی ایک معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔ معاشرے سے محبت، اخوت اور بھائی چارہ ختم ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے مزید مسائل جنم لیتے ہیں۔ معاشرہ مسلسل تنزلی کی طرف چل پڑتا ہے۔ عدم تحفظ اس عدم برداشت سے پیدا ہونے والا دوسرا بڑا ناسور ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں لوگوں میں برداشت کی کمی ہو وہاں رہنے والے امن پسند عوام عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر عدم برداشت کرنے والوں کا گروہ طاقت میں ہو تو اقلیت اپنے بنیادی حقوق کے ساتھ جان و مال اورعزت سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں ترقی اور خوشحالی کیسے آسکتی ہے جہاں کسی کی عزت و آبرو اور جان و مال بھی محفوظ نہ ہو۔ لوگ ایک دوسرے کو ان کی مذہبی اقدار کی روایات کی پاسداری کرنے سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ ایسے معاشرے کبھی بھی مہذب نہیں کہلا سکتے۔ یہ عدم برداشت بالآخر ظلم و جبر، تعصب اور تشدد کا باعث بنتی ہے۔ لاقانونیت نفسا نفسی کو جنم دیتی ہے اور یہی نفسانفسی کا شکار معاشرہ جلد ہی اوندھے منہ گر جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی بجائے کھانے کو دوڑتے ہیں۔ عدم برداشت کی وجہ سے تعصب ونفرت کی بھٹی جل رہی ہوتی ہے۔ جس میں ہمارا معاشرہ جھونکا جا رہا ہوتا ہے۔ اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرنے سے نفرتوں کا وجود جنم لیتا ہے۔ غلط فہمیوں کو بڑھاوا ملتا ہے اور لڑائی جھگڑے چنگاریوں کا کام کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ صاحب اختیار اپنے ماتحتوں کو سمجھاتے نہیں ہیں بلکہ ان کی اس کمزوری کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جس سے معاشرہ مسلسل گراوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے ظلم و تعصب کا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مثبت سوچ اپنائیں۔ دوسروں کی رویوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم صاحب اختیار ہیں تو اپنے ماتحتوں پر ظلم روا نہ رکھیں۔ طعن و تشنیع اور گالی گلوچ سے بچیں۔ اپنی رائے کو حتمی نہ سمجھیں۔ دوسروں کی رائے کا بھی احترام کریں۔ بے جا تنقید اور لاحاصل بحث سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس کی بجائے مضبوط فکری نشستوں کا انعقاد کریں، جس میں بات دلائل اور مکالمہ سے کرنے کو فروغ ملے۔


