شادی کے موقع پر بیٹی کے لیے حقیقی تحفہ
میری پیاری بیٹی امینہ
’’خدا نے بیٹیوں کو ماں باپ کے گھر میں رہنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ ماں باپ ان کو دوسروں کے گھر آباد کرنے کے لئے پالتے ہیں۔جب تمھارا وقت آ پہنچا کہ کسی دوسرے گھر کی تم رونق بنو اور خدا کے فضل سے تم جوان ہو گئیں تو میں نے بہت دعاوں اور استخارہ کے بعد تمہاری شادی کا بندوبست کر دیا۔جہاں تک مجھ سے ہو سکا میں نے تم کو دوسرے کی امانت سمجھ کر تمہاری ہر طرح کی حفاظت اور پرورش کی اور اب تمہاری شادی کر کے تم کو بظاہر مسٹر سلیمان تیجوکے اور بباطن ارحم الراحمین خدا کے سپرد کرتا ہوں۔
بیٹی، جس خدا نے تم کو پیدا کیا ہے اس کو کبھی نہ بھولنا۔وہ بھی تم کو کبھی نہ بھولے گا۔کوئی نماز ضائع نہ ہونے دینا اور کوشش کرنا کہ تمہارا شوہر بھی نمازی بن جائے اور روزانہ صبح کی نماز کے بعد قرآن شریف کی تلاوت بھی ضرور کرتی رہنا۔ اور پھر خدا کے بعد اپنے خاوند کی پوری پوری اطاعت کرنا اور اپنی خوشی پر اس کی خوشی مقدم کرنا۔خاوند کی مرضی کے خلاف کسی بات پر زیادہ ضد نہ کرنا اور اس کی طاقت سے بڑھ کر کسی قسم کے خرچ کا بوجھ اس پر نہ ڈالنا۔ جو خدا کھانے پہننے کو دے اس پر خدا کا شکر ادا کرنا۔اپنے خسر کی باپ کی طرح عزت کرنا اور اس کو ہر طرح آرام پہنچانے اور اس کی خدمت کا خیال رکھنا اور اپنے خاوند کے تمام رشتے داروں سے بھی عزت کے ساتھ پیش آنا۔ کوئی چیز بھی زیادہ حرص سے اور جلدی جلدی نہ کھانا بلکہ تسلی سے خوب چبا کر کھانا اور دانتوں کو ہمیشہ خوب صاف رکھنا۔ بدن کا کپڑا پرانا بھی ہو تو خوب صاف رکھنا۔میلا رہنے کی عادت کبھی نہ ڈالنا۔گھر کی ہر ایک چیز کی ایک جگہ مقرر کر چھوڑنا تا اندھیرے میں بھی ضرورت پڑے تو تم کو فوراً مل جائے۔کسی چیز کو نکما سمجھ کر مت پھینکو بلکہ سنبھال کر رکھ چھوڑو چاہے معمولی ہو وہ چیز ایک نہ ایک دن تمھارے کام جائے گی۔
بیٹی، خدا نہ کرے اگر تم کو کوئی تکلیف ہو تو بجائے ماں باپ کے پاس شکایت کرنے کے خدا کے آگے رونا اور اس سے دعا مانگنا کیونکہ وہ دعا مانگنے الوں کے واسطے ماں باپ سے بہت زیادہ مہربان ہے۔ دعا بہت قیمتی چیز ہے اس کو کبھی بھی نہ چھوڑنا اور اپنی دعاؤں میں اپنے ماں باپ بھائی بہنوں کو بھی یاد رکھنا۔ تم اپنے خداوند کو اگر خوش رکھو گی تو وہ تمھارے خاوند کو بھی تم پر مہربان کر دے گا۔
اپنے خاوند اور اپنے گھر کا کوئی بھید کسی پر ظاہر نہ کرنا۔ کبھی تکبر نہ کرنا۔ غریبوں بیواؤں سے نیک سلوک کرنا اور ہمیشہ صدقہ و خیرات کرتی رہنا کیونکہ صدقہ رد بلا ہوتا ہے۔
ہم نے اپنے خیال سے تمہاری شادی اچھی جگہ کر دی ہے اور جہاں تک ہمارا خیال ہے وہ تمہارا خیال رکھے گا اور تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچنے دیگا۔ اور خدا سے دعا ہے کہ ہمارے اس گمان کو ہماری امید سے بھی بڑھ کر ثابت کرے۔
بیٹی، تم کو خدا کے فضل سے پال پوس کر اب اپنے گھر سے رخصت کرتے ہوئے ہمارے دل رنج محسوس کرتے ہیں مگر خدا کے حکم کے سامنے ہم مجبور ہیں۔ خدا نے عورتوں کو اپنے خاوندوں کے لئے بنایا ہے اور ان کی حقیقی خوشی اگر خدا چاہے تو خاوندوں کے پاس رہنے میں ہوتی ہے۔ تم کو اگر خاوند کی طرف سے کچھ جیب خرچ ملا کرے تو اس میں خدا کا حصہ رکھنا یعنی کم سے کم روپے پیچھے ایک آنا{چھ سینٹ} چندہ ضرور ادا کرنا۔ میں خود تو دسواں حصہ چندہ دیتا ہوں۔قادیان کی مقدس اور پاک بستی کو بھی کبھی نہ بھلانا وہاں سے جو حکم آئے اس کو سر آنکھوں پر رکھنا۔ وہاں جانے کی ہمیشہ سچی خواہش دل میں رکھنا کیونکہ وہاں کی زندگی اور وہاں کی موت دونوں بہت با برکت ہیں۔ میں نے یہ خط آنکھوں کے آنسوءوں سے لکھا ہے اور تمھارے لئے اور تمہارے خاوند کے لئے بہت دعا کی ہے۔ میرے اس خط کو سنبھال کر رکھنا اور کبھی کبھی پڑھ لیا کرنا اور میری نصیحتوں پر عمل کرنا۔ خدا حافظ۔خدا تمہارے ساتھ ہو اور اس کی رحمت کے سائے کے نیچے پھلو پھولو اور سکھ پاؤ۔


