متفرق

سکون قلب

Spread the love

تحریر فائزہ حبیب کراچی

اکثر اوقات فقہی مسائل کی مجالس میں نماز کے متعلق مختلف سوالات کئے جاتے ہیں ہر خاص و عام چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات کو یوں سوال کی صورت میں پیش کرتا ہے  گویا نماز نہیں کوئی آرمی کی پریڈ ہے کہ ذرا سا بھی انسان چوک نہ جائے ۔

کبھی سوال ہوتا ہے کہ ہاتھ ناف کے اوپر باندھے جایں یا ناف کے نیچے ۔پہنچے ٹخنوں سے کتنے انچ اوپر ہوں اور کتنے انچ نیچے ۔سجدے کی صورت میں کوہنی زمین پر ہو یا اوپر وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

میرا مختصر تجربہ ہے لیکن سب سے مختلف ہے ۔

نماز ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو حقیقی دنیا سے نکال کر تصوف اور تصور کی دنیا میں لے جاتا ہے اصل نماز وہ ہے جس میں جسم آداب نماز سے بالا ہوجاتا ہے اور انسان کی روح سجدہ گاہ پر گلہ کٹی بکری کی طرح تڑپ رہا ہوتا ہے ۔

یہاں نفس کی موت ہوتی ہے حواس خمسہ اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ اپنے خالق کے حضور جھک جاتے ہیں ۔نماز ایک اسے عالم کا نام ہے جہاں انسان ہر بار گناہ اپنے کندھوں پر لاد کر جاتا ہے اور واپسی پر ایک پاکیزہ پر نور روح لیکر لوٹتا ہے ۔دنیا کے جھمیلوں میں پھنسا ہوا انسان جب اللّه اکبر کی سدا بلند کرتا ہے تو تمام مشکلات پریشانیاں بیماریاں چھوٹی لگنے لگتی ہیں ۔الحمداللہ رب العلمین کے الفاظ انسان کے جسم پر لرزہ تاری کر دیتے ہیں اور انسان ایک عالم تصور میں کھو جاتا ہے جہاں اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے دربار میں کھڑا ہے جس کا بادشاہ تمام بادشاہوں سے بڑا ہے اور اس وقت وہ میری عرضی سننے کے لئے حاضر ہے جب کے وہ میرے تمام تر اعمال سے بخوبی واقف ہے۔ اس سوچ کے ساتھ ایک انسان کی آنکھوں میں خوف کے آنسو کیسے نہیں بہتے جسم پر لرزہ کیسے طاری  نہیں ہوتا ۔لیکن آج تک کسی مجلس میں یہ سوال نہیں ہوا کے جسم کی اس بے اختیاری کی صورت میں نماز خراب تو نہیں ہوتی ؟۔

الرحمن الرحیم کے الفاظ خدا کی محبت اور رحیمیت  کا یقین دلاتے ہیں جبکہ وہ خدا انسان کے کاندھوں پر گناہوں کا گٹھرا دیکھ رہا ہوتا ہے پھر بھی یقین دلاتا ہے کہ میں تجھ پر رحم کروں گا ایسی بے غرض اور والہانہ محبت دیکھ کر جب انسان کا دل الفت الہی سے لبریز ہوتا ہے تو بے ساختہ دایاں ہاتھ دل کی طرف بڑھتا ہے کہ محبت الہی کے جوش سے بھری ہوئی دھڑکنیں سینے سے باہر ہی نہ آجایں ۔

آج تک کسی مجلس میں یہ بھی سوال نہ ہوا کہ دل پر ہاتھ رکھنا نماز کا حصّہ نہیں تو کہیں اس سے نماز خراب تو نہیں ہو جاتی ؟۔

مالک یوم دین کے الفاظ جب انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک دن یوں ہی تو ہاتھ باندھے سر کو جھکاے  اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہو گا اس وقت سے پہلے اپنے خدا کی طرف لوٹ ا ٓ۔

میرے حساب سے سورہ فاتحہ کے مکمل ہونے تک انسان اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں اسکا وجود اسکا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اپنے اعمال اور محبت الہی کا ایک ایسا رخ اس کے سامنے آتا ہے کہ وہ آداب نماز کے تحت نہیں بلکہ آداب عشق کے تحت گھٹنوں پر جھک جاتا ہے اور اپنے رحیم خدا کی بے ساختہ حمد بیان کرتا ہے اور جب وہ عظیم خدا اسے پوری محبت کے ساتھ دوبارہ سیدھا کھڑا کرتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ خدا نے اس کی سن لی جس نے اسکی حمد کی ۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان خدا کی بے پناہ محبت سے سرشار ہو کر بے ساختگی  کے ساتھ اس کے  قدموں میں ڈھیر ہو جاتا ہے ان لمحوں میں انسان خود اپنا بھی نہیں رہتا اسکی روح عشق الہی میں سرشار ہو کر اپنے خدا کو سجدے کرتی ہے آنسوؤں کی ایک آبشار ہوتی ہے جو آنکھوں سے رواں ہوتی ہے۔اب  جبکہ روح سجدہ ریز ہے تو جسم کی کیا جسارت کہ اسے آداب نماز سکھائے۔

کیا ایسی نمازیں اب کوئی بھی نہیں پڑھتا اگر پڑھتا تو سوال بھی اسی طرح کے ہوتے۔ شاید امت مسلمہ میں موجود بے چینی اور بے سکونی کا سبب وہی نمازیں ہیں جو اجکل پڑھی جا رہی ہیں ۔

نماز ایسی ہو کہ انسان اللّه اکبر کہے اور سجدہ روح کرے ۔

آداب ملاقات رسمی ملاقات کے ہوتے ہیں

عشق کے بھی بھلا کوئی اصول ہوتے ہیں ؟

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *