متفرق

راز حقیقت

Spread the love

وقت غیر محسوس طور پر کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے۔

ہر گزرتے دن میں ہونے والا واقعہ قصّہٴ پارینہ بن جاتا ہے۔ کتنی تیزی سے انسان بچپن اور جوانی کی حدود پھلانگ کر بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ جاتا ہے۔کتنی تیزی سے زمانے کی صف لپیٹ دی جاتی ہے۔ نظامِ کہنہ مٹتے جاتے ہیں اور اُن کی جگہ نئے نظام لے لیتے ہیں کتنی نئی تہذیبیں پرانی تہذیبوں کو نگلتی جاتی ہیں۔کتنے جوان رعنا شاداب چہرے امتدادِزمانہ سے ڈھلنے لگتے ہیں اور پھر صفحہٴ ہستی سے معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں ان کی جگہ نئے چہرے لے لیتے ہیں۔ غرض فنا اور تغیر کا ہاتھ ہر شے کو نگلتا جاتا ہے۔عالمی،قومی یا ذاتی سطح پر گزرنے والا ہر واقعہ درسِ عبرت دیتا چلا جاتا ہے۔ہر رشتہ، ہر تعلق آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑتا جاتا ہے اور اگر نہ بھی چھوڑے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دارُ الآخرۃ سدھار جاتا ہے۔ یہ تمام چیزیں انسان کو ایک غیر متبدل،باوفا،لازوال اور مقتدر ہستی کی طرف توجہ دلا رہی ہے جس کی خاطر وہ پیدا کیا گیا ہے جس سے ربط بڑھانے کی خاطر وہ پیدا کیا گیا ہے۔ یہ دنیا دارالابتلاء ہے قدم قدم پر انسا ن کے لئے طرح طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں جن سے نکلنے کی سعی میں اور اچھے دنوں کے انتظار میں انسان اپنی تمام زندگی گزار دیتا ہے۔ سچی خوشی اور سچی خوشحالی انسان کو حاصل نہیں ہوسکتی جب تک اُسے یہ یقین اور اطمینان حاصل نہ ہوجائے کہ اُسکا ایک معین ومددگار اور زبردست قدرتیں اور طاقتیں رکھنے والا آقا ہے، مولا ہے۔ اُسے ہر دکھ اور تکلیف سے نجات دے سکتا ہے۔ آنِ واحد میں اُسے مشکلات و مصائب سے رہائی دلانے کی قدرت رکھتا ہے۔ دونوں جہاں میں اُس کا معین و مددگار ہے تو دولتِ اطمینان قلب سے وہ مالا مال ہو جاتا ہے۔ کسی بھی نقصان اورخسارے اور ڈر خوف سے آزاد ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی جہاں میں اُ سکی زندگی جنت نشان بن جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود اس حقیقت کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان فرماتے ہیں۔

اس جہاں میں ہے وہ جنت میں ہی بے ریب و گماں

وہ جو اک پختہ توکّل سے ہے مہماں تیرا

(درثمین صفحہ 43)

خداتعالیٰ سے تعلق رکھنے والا جانتا ہے کہ اُس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں۔ مانگنے والوں کو عطا کرتا ہے، ٹوٹے بگڑے کاموں کو سنوارتا ہے، گھبراہٹوں میں امن دینے والا، درد والم کی سیاہ راتوں میں دلوں کو ڈھارس دینے والا، لاعلاج مریضوں کو شفا دینے والا۔اُس کی درگاہ میں نہ نقصان کا ڈر، نہ خسارے کا خوف، ضرورتوں کے وقتوں میں حاجت مندوں کا حاجت روا، اُن راہوں سے رزق عطا کرنے والا ہے جن کے متعلق انسان سوچ بھی نہیں سکتا، تصور بھی نہیں کرسکتا،توکّل کرنے والوں کی عجیب کفالت کرنے والا،70ماؤں سے بڑھ کر محبت کرنے والا، اپنے عاجز نحیف و نزار کمزور بندوں کی دعائیں سننے والا،بڑی عظمتوں اور شان کے باوجود عاجز مخلوق پر رحم کرنے والا، اُس کی دوستی، بے وفائی سے منزّہ ہے۔ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ

تو تو ایسا نہیں محبوب کوئی اور ہونگے   وہ جو کہلاتے ہیں دل توڑ کے جانے والے
تو تو ہر بار سرِ راہ سے پلٹ آتا ہے   دل میں ہر سمت سے پل پل میرے آنے والے

 

سو ہمارا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس مقصد کے لئے پیدا فرمایا ہے یعنی اپنا عبد بننے کی خاطر اُس مقصد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہر آن اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ کیا وہ اُس دلبر ازل کے حضور پیش کرنے کے لائق بھی ہے یا نہیں۔ (منقول)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *