عورت

دیندار عورت وہ ہے جو اپنے خاوند کا حق ادا کرتی ہے

Spread the love

حدمث میں آتا ہے کہ:

عَنْ عَبْدِاللہَ اَبی اَوْفٰی قَال قَال رَسُوْ ل اللہِ ﷺ وَالَّذیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَا تُؤَدِّی الْمَرْأَۃُ حَقَّ رَبِّھا حَتیٰ تُؤَدِّیْ حَقَّ زَوْجِھا ( ابن ماجہ)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ کوئی عورت اس وقت تک خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے والی نہیں سمجھی جا سکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی۔
تشریح: جہاں آنحضرت ﷺ نے ایک طرف خاوند کو بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ وہاں دوسری طرف بیوی کو خاوند کے حقوق ادا کرنے کی بھی زبر دست تلقین فرمائی ہے۔ کیونکہ گھر کی حقیقی سکینت اور حقیقی برکت صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتی ہے کہ خاوند بیوی کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والا ہو او ربیوی خاوند کے حقوق پوری پوری وفاداری کے ساتھ ادا کرے۔ آنحضرت ﷺ کو عورت کے اس مقدس فریضہ کا اتنا خیال تھا کہ ایک دوسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں کہ جس مسلمان عورت کا خاوند ایسی حالت میں فوت ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی پر خوش ہے تو ایسی عورت خدا کے فضل سے جنت میں جائے گی۔ اور اوپر والی حدیث کے دوسرے حصہ میں فرماتے ہیں کہ اگر اسلام میں اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا چائز ہوتا تو میں حکم دیتا کہ عورت اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔

اور یہ جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو عورت اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی وہ خدا کاحق بھی ادا نہیں کرسکتی اس میں دو گہری حکمتیں ہیں اول یہ کہ خواہ درجہ کا کتنا ہی فرق ہو۔ یہ دونوں حقوق در اصل ایک ہی نوعیت کےہیں۔ مثلاً جس طرح خدا اپنے بندوں سے انتہائی محبت کرنے والا ہے اسی طرح خاوند کو بھی اپنی بیوی کے متعلق غیر معمولی محبت کا مقام حاصل ہوتا ہے اور جس طرح بوجود اس محبت کے خدا اپنے بندوں کا حاکم اور نگران ہے اسی طرح خاوند بھی بیوی کی محبت کے باوجود گھر کا نگران اور قوّام ہوتا ہے۔ پھر جس طرح خدا اپنے بندوں کا رازق ہے اور ان کی روزی کا سامان مہیا کرتا ہے اسی طرح خاوند بھی اپنی بیوی کے اخراجات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہے اور اسی طرح اور بھی کئی پہلو مشابہت کے ہیں۔

اور یہ مشابہت اتنی نمایاں ہے کہ ہماری زبان میں تو خاوند کو مجازی خدا کا نام دیا گیاہے۔ اور لفظاً بھی خدا وند اور خاوند ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ اسلام میں بندوں کے حقوق بھی خدا ہی کی طرف سے مقرر شدہ ہیں۔ اور شریعت نے حقوق العباد کو انتہائی اہمیت دی ہے حتٰی کہ ایک حدیث میں آتاہے کہ خدا اپنے بندوں کے حقوق سے تعلق رکھنے والے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔

مگر بندوںکے حقوق سے تعلق رکھنے والے گناہ اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک کہ خود بندے معاف نہ کریں۔ انہی دو حکمتوں کی بناء پر آنحضرت ﷺفرماتےہیں اور خدا کی قسم کھا کر بڑے زور دار الفاظ میں فرماتے ہیں کہ کوئی عورت اس وقت تک خدا کے حقوق ادا کرنے والی نہیں سمجھی جا سکتی۔ جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے حقوق ادا نہ کرے اور پھر ان الفاظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس عورت پر خدا راضی نہیں ہوتا جو اپنے خاوند کے حقوق ادا نہیں کرتی۔

باقی رہا یہ سوال کہ بیوی پر خاوند کا حق کیا ہے سو اس کے متعلق قرآن شریف اور حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ بیوی پر خاوند کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی فرمانبردار ہو۔ اس کا واجبی ادب ملحوظ رکھے۔ اس سےمحبت کرے ۔ اس کی وفادار رہے، اسکی اولاد کی تربیت کا خیال رکھے، اس کےمال کی حفاظت کرےاور جہاں تک ممکن ہو اس کی خدمت بجالائے ۔ اس کے مقابل پر خاوند پر بیوی کا حق یہ ہےکہ وہ اس کے ساتھ محبت اور شفقت اور دلداری سےپیش آئے۔ اس کے آرام کاخیال رکھے۔ اس کےجذبات کا احترام کرے اور اپنی حیثیت کےمطابق اس کے ضروری اخراجات کاکفیل ہو۔ اب ہر شخص خود سوچ سکتاہے کہ اگر مرد اورعورت ایک د وسرے کے متعلق ان حقوق کاخیال رکھیں تو مسلمانوں کے گھروں کے جنت بننے میں کیا کسررہ جاتی ہے؟

(چالیس جواہر پارے صفحہ 63)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *