خدا کے خلاف جنگ نہ کریں اور ورلی زندگی کو مقدم نہ کریں ورنہ!
حضرت حاجی الحرمین مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ سورةالبقرہ کی آیت 87 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اُولٰٓیِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِفَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ۸۷
مدینہ طیبہ میں ایک شخص ایک مسلمان کے ہاتھ سے اتفاقیہ طور پرماراگیا۔ یہ واقعہ گزر گیا مگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تمام شہر کے لوگوں کو بُلا کر فرمایا کہ ہم مقتول کے وارثوں کو خوں بہا دینا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ اس کی قوم کے لوگ ہماری مخالفت نہ کریں مگر امنِ عامہ کے شریک اس دیت کے دینے میں شریک نہ ہوئے بلکہ ایک مسلمان عورت تکلا سیدھا کرانے کے لئے قینقاع (جو لوہار تھے) کے محلّہ میں گئی۔ وہ گھونگٹ نکالے ہوئے تھی۔ شریر لوہار نے کہا کہ یہ کپڑا کیوں مُنہ پر ڈالے ہوئے ہو۔ اُس نے جواب دیا۔ ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں پردہ کا حکم دیا ہے۔ اس پر اس بدمعاش نے شرارت سے لوہے کی ایک میخ پچھلی طرف کپڑے میں ٹھونک دی۔ عورت اُٹھنے لگی تو اس کا کپڑا بھی پھَٹ گیا اور گھونگٹ بھی اُتر گیا۔ یہ حالت دیکھ کر بجائے اس کے کہ معذرت کرتے انہوں نے تمسخر اُڑایا ۔ عورت نے گھبرا کر کہا کہ کوئی ہے جو میری مدد کرے۔ ادھر سے ایک مسلمان بھائی نے یہ بات سُن لی وہ مدد کو دَوڑا۔ آپس میں وہاں لڑائی چھڑ گئی جس سے ایک قتل ہو گیا۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو جب خبربھیجی تو فرمایا کہ ہم نے بَیرونی انتظام کے لئے یہ معاہدہ کیا تھا۔ تم اندرونی معاملات میں ایسے تیز ہو جاتے ہو کہ قتل تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ جب وہ بہت تنگ ہوئے تو مدینہ چھوڑ کر چلے گئے۔
ادھر بنو نضیر سے ایک حماقت ہوئی کہ کسی اپنے معاملہ کے لئے بنی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے محلہ میں بُلا لیا اور وہاں ایک شخص کو سکھایا کہ جب دیوار کے پاس بیٹھے ہوں تو تم اُوپر سے چکّی کا پاٹ گِرا دو۔ آپؐ کو ان کی بَد نیتی کی خبر کسی نہ کسی طرح مِل گئی اِس لئے آپؐ یکدم اُٹھ کر چلے گئے اور ان کا داؤ نہ چل سکا۔ یہ بات بڑھ گئی۔ ان میں کچھ شاعر بھی تھے وہ مکّہ میں گئے اور وہاں کے سرداروں کو جا کر بھڑ کایا اور بعض نے مسلمان عورتوں سے تغزّل کیا۔ اِس کےلئے بنو نضیر کو حکم ہؤا کہ یہاں سے چلے جاؤ جلاوطن کر دیا گیا حالانکہ ان سے معاہدہ کیا جا چکا تھا کہ وہ ایسے کام نہ کریں گے جس سے جلاوطنی کرنی پڑے۔ ادھر مکّہ والوں نے پیغام بھیجا کہ تم ان مسلمانوں کی عورتوں کو مارو اور ہم باہر سے لشکر لے کر اُن پر حملہ کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک اپنے ساتھ گِرد و نواح کی قوموں کو جمع کرلائے سورہ احزاب میں اس کو ذکر ہے۔ آخر خدا تعالیٰ نے اس لڑائی سے مسلمانوں کو بچا لیا۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو آپؐ نے بنوقریظہ سے پوچھا کہ تم پہلے دو واقعے قینقاع اور نبو نضیر کے دیکھ چکے ہو اور پھر بھی شرارتوں سے باز نہ آئے اور اب تمہارے حق میں ایک فیصلہ کرتا ہوں جو تمہیں ماننا پڑے گا۔ بدقسمت انسان نیک بات کو نہیں مانتا اِس لئے انہوں نے کہا ہمیں سعد بن معاذ کا فیصلہ منظور ہے نہ آپ کا۔ اس نے کہا میری رائے تو یہ ہے کہ جنگ کے شرکاء کو قتل کر دیا جاوے۔ یہ فیصلہ انہیں چارو نا چار منظور کرنا پڑا۔ جن کو قتل کی سزار دی گئی ان کی تعداد کم از کم دو سو پچّاس اور زیادہ سے زیادہ نو سَو کی بتائی (گئی ہے)۔
خیر یہودیوں کے فرقے تو اِس طرح تباہ ہوئے۔ باقی رہے عیسائی ان کالاٹ پادری عامر تھا اُسنے لوگوں کو خوب سُنایا کہ مَیں نے محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ پراگندہ (حال) اور ملک بملک اکیلا پھرتا ہؤا مَر جائے گا۔ آپﷺ نے فرمایا خواب تو سچ دیکھا ہے مگر میرا نہیں اپنا بد انجام دیکھا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہؤا۔ وہ مکّہ گیا اِس خیال سے کہ کچھ انتظام مسلمانوں کے خلاف کروں مگروہاں اس نے شراب پی کر بدمستی کی تو نکالا گیا مگر روماؔ چلا گیا۔ وہاں بادشاہ کو سکھایا مگر بادشاہ کسی امر پر ناراض ہؤا راتوں رات نکل بھاگنا پڑا اور آکر اسی طرح مرا گیا۔ حدیث میں وَحِیدًا وَّ طَرِیدًا عَشَرِیدًا آیا ہے۔اب میدان صاف تھا۔ دو گروہ رہ گئے ایک منافقوں کا اور دوسرے مسلمانوں کا۔ منافقوں کی نسبت اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ورلی زندگی کو اختیار کر لیا اِس لئے ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ وہ مدد دئے جائیں گے چنانچہ جب ان لوگوں کی تباہی آئی کوئی ان کا حامی و ناصر نہ رہا۔
اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں نصیحت کرتا ہے بایں طور کہ جو اگلی قوموں کی بُرائیاں اور خوبیاں ہیں ان کا بیان کرتا ہے تاکہ مسلمان ان بُرائیوں سے بچیں۔ اِس کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ ان عذابوں سے محفوظ رہیں گے جو ان بُرائیوں کی وجہ سے ان پرنازل ہوئے اور ان خوبیوں کواختیار کریں جن کی برکت سے ان پر طرح طرح کے انعام ہوئے۔
ان آیات میں یہودیوں کے متعلق فرمایا کہ بہت سے لوگ وَرلی زندگی کو پسند کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ حالت اچھی رہے پس وہ اس آواز کی طرف رغبت کرتے ہیں جو چند منٹ کے لئے لُطف دے اور وہ نظارہ اُن کے مرغوبِ خاطر ہوتا ہے جو عارضی ہو لیکن اس سچّے سرور کی پرواہ نہیں کرتے جو دائمی ہے اور جس پر کبھی فنا نہیں ہوتی۔
ایسے لوگوں کے لئے بھی دین کو دُنیا پر مقدّم کرنا ایک عذاب ہو جاتا ہے اور وہ ہر لحظہ ، ہر گھڑی ان کو دُکھ دیتا رہتا ہے اور کسی وقت بھی کم نہیں ہوتا۔ چونکہ عاقبت انہوں نے پسند نہیں کی وہ خدا سے بُعد میں ہوتے ہیں۔ جو عذاب ہے وہ اس سے معذَّب ہوتے ہیں لیکن اس قِسم کے عذابوں کے وعدے ہر مذہب میں نہیں۔ اِسلام کی خصوصیت ہے کہ جس عذاب کا وعدہ دیا جاتا ہے اس کا نمونہ دُنیا میں بھی دکھایا جاتا ہے تاکہ یہ عذاب اس آنے والے عذاب کے لئے ایک ثبوت ہو۔
دیکھو وہ قوم جس میں آج اچھے لڑکے نہیں ان پر کبھی وہ وقت بھی آ جاتا ہے کہ ان میں اچھے لڑکے پیدا ہوں۔ وہ قوم جن میں زور آور نہیں ایک وقت ان پر آتاہے کہ ان میں زورآور پَیدا ہوں اگر ان کے پاس آج سلطنت نہیں تو اس زمانہ کی امّید کی جا سکتی ہے جب ان میں بھی امارت آ جائے۔ ہندوؤں کی حیات گذشتہ و موجودہ پر غور کرو۔ جب ہم بچّے تھے تو یہ ہندو اتنے تعلیمیافتہ نہ تھے کہ معلّم بن سکیں اِسی لئے اکثر مسلمان معلّمین نظر آتے تھے پھر ہمارے دیکھتے دیکھتے یہ تعلیم میں اِس قدر ترقّی کر گئے ہیں کہ اَب معلّم ہیں تو ان میں سے۔ افسر ہیں تو ان میں سے۔ وہ اپنی طاقت پر اَب یہاں تک بھروسہ رکھتے ہیں کہ ہم کو اِس ملک سے نکال دینے یا گورنمنٹ پر دباؤ ڈال دینے پر تُلے بیٹھے ہیں۔ اِس بات کا ذکر مَیں نے صرف اِس لئے کیا ہے کہ قوموں میں جہالت کے بعد علم آجاتاہے۔ زوال کے بعد ترقّی ہو سکتی ہے اور ایسا ہوتا رہتا ہے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایک قوم ہے ( یہود) جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا مقابلہ کیا تھا ہم نے ان کو یہ سزا دی کہ اَور قوموں میں تو تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں مگر ان میں کوئی تبدیلی نہ ہو گی اور ان کا کوئی ناصر و مدد گا ر نہ ہو گا چنانچہ یہودیوں کی کوئی مقتدرانہ سلطنت رُوئے زمین پر نہیں۔ چَپّہ بھر زمین پر بھی ان کا تسلّط نہیں۔ اگر ان کو تکلیف دی جاوے تو کوئی نہیں جو ان کی حامی بھرے۔ تیرہ سَو برس سے خدا کا یہ کلام سچّا ثابت ہو رہا ہے۔ پس ہمیں اِس سے یہ سبق لینا چاہیئے کہ خدا کے خلاف جنگ نہ کریں اور ہرگز ہرگز ورلی زندگی کو مقدّم نہ کر لیں ورنہ لَایُنْصَرُوْنَ کی سزاموجودہے۔ ( حوالہ حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 189 تا 192 )

