تماشا دىکھتے ہىں بےبسى کا
فہمیدہ مسرت احمد
تماشا دىکھتے ہىں بےبسى کا
ىہى انداز ہے کىا دلبرى کا
کسى کى ىاد نے کھڑکى سے جھانکا
عجب عالم ہے دل کى بے کلى کا
دو سوکھے پُھول کچھ نامے پرانے
ىہى حاصل ہے اپنى زندگى کا
سرِ مژگان اُترے ہىں ستارے
نہ پوچھو راز مىرى دلکشى کا
صنم کىسا کہاں کى عاشقى اب
محبت نام ہے دىوانگى کا
ارے کىسا گلہ کىسى شکاىت
بہانہ ڈھونڈتے ہىں دُشمنى کا
سبق ہم کو سکھاىا وقت نے ىہ
نہىں دنىا مىں کوئى بھى کسى کا

