متفرق

بہنوئی سے شادی سے انکار

Spread the love

تحریر فائزہ جاوید چیمہ

ثنا بنت ظفر محمود آپ کو بعوض پانچ لاکھ روپے حق مہر معجل محمد حسن ولد محمد اکرم سے نکاح قبول ہے۔ایک جامد خاموشی تھی جس میں ثنا اور اس کے ماں باپ اپنے دل کے دھڑکنے کی صدا سن رہے تھے، ثنا کی خاموشی پر حسن نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا، مفتی صاحب نے کچھ تؤقف کے بعد اپنے الفاظ دوبارہ دہرائے مگر ثنا پر ایک چپ طاری تھی۔

بولو بیٹا!…ماں نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسی اثنا میں مفتی صاحب اپنے الفاظ تیسری بار کہے…نہیں مفتی صاحب!…ثنا کی دلیر اور مضبوط آواز ابھری…مجھے یہ نکاح قبول نہیں ہے۔

ایک بجلی تھی جو کمرے میں باقی موجود لوگوں پہ گری، ظفر پر تو گویا سکتہ طاری ہو گیا

ارے! اگر بیٹی کی مرضی کہیں اور تھی تو ہمیں ذلیل کیوں کیا؟

حسن کی ماں کی پاٹ دار آواز گونج رہی تھی، حسن نے گلے میں پڑا پھولوں کا ہار نوچ کر ایک طرف پھینکا اور بڑھ کر ثنا کی ماں رابعہ کی گود سے اپنا تیرہ مہینے کا بیٹا گویا چھین لیا اور تیزی سے باہر کا رخ کیا اور اس کے پیچھے اس کا خاندان بھی نکل گیا، رابعہ نے زار و قطار روتے ہوئے ان کا پیچھا کرنا چاہا مگر شوہر نے کاندھوں سے پکڑ کر روک لیا اور کرسی پر لا کر بٹھا دیا، پانی پلایا، کمرے میں اب ایک سناٹا تھا، ثنا اور اس سے چھوٹی بشریٰ کے آنسو ان کے گریباں بھگو رہے تھے۔

ظفر اور رابعہ کی فیملی ملک کی ہزاروں اپر مڈل کلاس ایجوکیٹڈ خاندانوں میں سے ایک تھی، تین خوبصورت اور قابل بیٹیوں کے ماں باپ تھے۔ سب سے بڑی بیٹی منیٰ ایم ایس سی کر رہی تھی اور اس کا ارادہ مستقبل میں سائنس دان بننے کا تھا، درمیان میں ثنا تھی جو میڈیکل میں تھی اور اس کا دوسرا سال تھا اور بشریٰ ابھی چھوٹی تھی اور ایک اچھے پرائیویٹ سکول میں پڑھتی تھی اور اس کا ارادہ آرکیٹیکٹ بننے کا تھا۔ تینوں بہنوں کے زندگی کے بارے میں بڑے بڑے ارادے تھے، انہیں آسمانوں کو چھونا تھا، معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کے لئے بہت سا کام کرنا تھا اور سب سے بڑھ کر اپنے خوبصورت خوابوں میں قوس قزح کے رنگ بھرنا تھے مگر اس پرسکون خاندان کی زندگی میں پہلا کنکر منیٰ کے رشتے کی صورت میں گرا جو ظفر کے بڑے بھائی کی توسط سے آیا۔

حسن کا تعلق ایک خوشحال کاروباری فیملی سے تھا اور اس سے بڑی دو بہنیں شادی شدہ جبکہ ایک چھوٹا بھائی انگلینڈ میں پڑھ رہا تھا اور وہ خود امریکہ سے ڈگری لایا تھا اور اب اپنے والد کے بہت بڑے بزنس کو اگلے لیول پر لے کر جا رہا تھا، ہینڈسم، مہذب اور اعلیٰ اطوار کا مالک حسن کسی بھی فیملی کا خواب ہو سکتا تھا، سو اس رشتے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن منیٰ نے سنتے ہی ہنگامہ کھڑا کر دیا اور شادی سے صاف انکار کر دیا کیونکہ اس کے مستقبل کے خوابوں میں شادی کی کوئی جگہ نہیں تھی مگر ماں باپ نے ایک نہ سنی اور جب حسن پہلی بار گھر آیا تو اس سے نظریں چار ہوتے ہی منیٰ کے سارے اعتراضات ہوا میں اڑ گئے بلکہ وہ خود بھی ہوا میں اڑنے لگی۔

چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوا اور ہنی مون کے دن گزرنے کے بعد کچھ دنوں میں ہی دلہن گھر کے ماحول میں رچ بس گئی، سسر بالکل بیٹیوں طرح چاہتے تھے، ساس بھی اچھی تھیں اور گھر کا مکمل کنٹرول ان کے ہاتھ میں تھا جسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا تھا، رہا حسن تو وہ پہلے دن سے منیٰ کے عشق کے میں گرفتار تھا مگر بیوی کا آخری سمیسٹر مکمل نہ کرا سکا حالانکہ یہ بات شادی سے پہلے طے تھی کہ سمیسٹر مکمل کر کے ڈگری لے لی جائے گی، وہی ساس جنہوں نے شادی سے پہلے ہر طرح سے اس کی یقین دہانی کرائی تھی، انھوں نے شادی کے بعد بہو کو صرف گھر میں دلچسپی لینے کو کہا اور تینوں بہنوں میں سب سے بولڈ منیٰ چوں بھی نہ کر سکی۔

”میں امی سے بحث نہیں کر سکتا بلکہ ابو بھی نہیں کر سکتے، ہمارے گھر میں امی کا کہا حرف آخر ہوتا ہے“

حسن نے قطعیت سے کہا اور ساتھ ہی منیٰ کے سامنے آنے والی زندگی کے شب و روز واضح ہو گئے۔ گھر میں ملازم موجود تھے مگر کھانا حسن کی امی خود پکاتی تھیں جب کہ ان کے گھر میں ہمیشہ صدیقہ بی کچن دیکھتی تھیں اور وہ اتنی ماہر تھیں کی رابعہ کو نگرانی کی بھی ضرورت نہ پڑتی تھی اور یہ تینوں بہنیں پڑھنے لکھنے میں مگن رہتی تھیں اور کبھی کبھار شغل میں بیکنگ وغیرہ کر لیتیں۔

شادی کے دو مہینے بعد خوشخبری بھی مل گئی تو دونوں گھروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر منیٰ کا برا حال تھا، پانی بھی ہضم نہ ہوتا تھا اور عجیب سے ہیلتھ ایشوز ہو رہے تھے، نندیں ہر وقت آتی جاتی رہتیں اور بھائی بھابی سے ہنسی مذاق کرتیں، فقرے کستیں اور کھا پی کر ”بچے ایسے ہی پیدا ہوتے ہیں“ کہہ کر اپنے گھروں کی راہ لیتیں۔

ایک شام ظفر اور رابعہ لدے پھندے دونوں بیٹیوں کے ساتھ منیٰ کو ملنے آئے۔ مٹھائی، فروٹ، جوس کے ٹوکروں کے علاوہ ساری فیملی کے بے حد قیمتی کپڑے، ملازمین کے جوڑے اور منیٰ کے بے حد سٹائلش میٹرنٹی جوڑے تھے۔ ان کا استقبال حسب معمول تپاک سے ہوا، اور رات کے کھانے پر روک لیا گیا مگر میکے والوں کی تمام خوشی بیٹی کو دیکھ کر ہوا ہو گئی، اس کی کمزور شکل، پیلی رنگت اور ہونٹوں پر جمی پپڑی کوئی اور کہانی کہہ رہی تھی۔ ان دنوں میں تو لڑکیاں ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ پھول کی طرح کھلتی ہیں، ناز اٹھاتے شوہر کی والہانہ نظروں سے نظریں چراتی، گلابی ہوتی رنگت کے ساتھ آنچل سنبھالتی کسی اور دنیا کی لگتی ہیں مگر یہاں ایسی کوئی صورتحال نہ تھی اور حسن کی جہاں دیدہ ماں سمجھ گئی۔

”بھئی بہت سمجھایا ہے کہ کچھ انوکھا نہیں ہونے جا رہا، کھاؤ پیو تھوڑا کچن کو دیکھو اور خوش رہو، ارے کون سی نعمت ہے جو میسر نہیں، کوئی فالتو کام بوجھ نہیں ہے، سوائے شوہر اور سسر کا صبح ناشتے کا کام دیکھنے اور ہاں رات تو کھانے پر بہت اہتمام ہوتا ہے ہمارے ہاں، جب مرد سارے دن کے بعد گھر آتے ہیں۔“

مگر حاضرین بالکل چپ تھے پھر منیٰ بھی ساس کے ساتھ کچن میں مدد کے لیے چلی گئی۔ وقت تیزی سے گزرا اور حسن اور منیٰ پیارے سے بیٹے کے ماں باپ بن گئے، بہت خوشی منائی گئی۔

زبیدہ (حسن کی امی) نے بہو کو سونے کا سیٹ، بیٹیوں کو کڑے اور حتیٰ کہ بہو کی بہنوں کو بھی انگوٹھیاں دیں، پچھلے مہینوں میں گھلی ہلکی سی تلخی کہیں غائب ہو گئی۔ حسن کا تو بس نہیں چلتا تھا بیوی اور بیٹے کو دل میں چھپا لے، اس نے ماں کی مخالفت کے باوجود بیوی کو دبئی کا ٹرپ کرایا، اتنے دن ننھا منا عیسٰی خالاؤں اور نانی نانا کی گود میں کھلونے کی طرح رہا۔ پریگنینسی کے دوران منیٰ کی صحت کافی گر گئی تھی اور پھر سی۔ سیکشن ہؤا سو اب اس کا ارادہ خوب کھانے پینے اور صحت مند طرز زندگی اپنانے کا تھا کہ اس پر انکشاف ہؤا کہ وہ پھر پریگننٹ ہے۔ عیسٰی ابھی تین مہینے کا بھی نہیں تھا، اس کا دل ڈوبنے لگا، اپنی سک نیس تو برداشت کر سکتی تھی مگر ساس کا درشت رویہ، ان کی عجیب و غریب پابندیاں اور اس دوران ہر بات کو ڈرامہ بازی کہنا، اپنی اور بیٹیوں کی مثال دینا، تکلیف دہ تھا۔

حسن ماں کی عقل و دانش پر اندھا یقین کرتا تھا۔ سب سے تکلیف دہ بات جو تھی وہ نو مہینے ماں باپ کے گھر نہیں جا پائی تھی کہ ماں کا سایہ اس پر نہ پڑے مبادا کہ وہ بھی لڑکیوں کی لائن لگا دے، بہر حال کیا ہو سکتا تھا، الٹیوں نے اس کو نیم جان کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ بچے کی دیکھ بھال، اس نے حسن کی منت کی کہ اس کو ماں کے گھر چھوڑ دے ورنہ کوئی آیا رکھ دے جو عیسٰی کو دیکھ لیا کرے۔

ماں کے کہنے پر ہی وہ اس کو میکے چھوڑ نے آیا تھا، وہاں خوشی کی لہر دوڑ گئی، حسن کی بہت آؤ بھگت ہوئی اور پھر وہ اس وعدے کے ساتھ رخصت ہؤا کہ ہر روز شام کو چکر لگائے گا اور اس نے بہت حد تک وعدہ نبھایا بھی تھا۔

دوسرا بیٹا بھی سی۔ سیکشن سے ہوا۔ منیٰ کو دو بوتل خون لگا جو ظفر اور ثنا نے دیا، اس کے باوجود اس کی حالت بمشکل سنبھلی تھی اور پھر جب ہسپتال سے فارغ ہونے سے پہلے ڈاکٹر نے کمرے میں آ کر دونوں خاندانوں کی موجودگی میں منیٰ اور حسن کو لمبا لیکچر دیا اور کہا کہ اگر وہ تیسرا بچہ چاہتے ہیں تو کم از کم تین سال کا وقفہ دیں لیکن مناسب ہے کہ دو بچوں پر اللہ کا شکر کریں اور یہ بات وہ منیٰ کی صحت کے ایشوز اور حمل کی پیچیدگی کی باعث کہہ رہی تھیں، اور وہ دونوں شرمندہ سے سر ہلاتے رہے، گو کہ زبیدہ بہت سیخ پا تھیں کہ بھلا اللہ کے کاموں میں انسان کا کیا دخل ہو سکتا ہے۔

دوسرے بیٹے کا نام موسٰی رکھا گیا اور اس کا عقیقہ بھی پہلے بیٹے کی طرح دھوم دھام سے ہوا مگر منیٰ کی صحت بہت بحال نہ تھی اور دو بالکل چھوٹے بچوں کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا اور اس کے ساتھ کچن کی ذمہ داری اٹھانا اس کے لیے ناممکن تھا۔ انہی دنوں میں بشریٰ اور ثنا ملنے آئیں اور بہن کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئیں، دونوں بچوں کے چلانے کی آواز نیچے ٹی وی لاؤنج میں آ رہی تھی، اس کی ساس ایک ملازمہ سے سر میں تیل کا مساج کرا رہی تھیں، ان کی چھوٹی بیٹی آئی ہوئی تھی، بڑی سی ٹرالی لوازمات سے لدی اس کے سامنے تھی۔ ان دونوں بہنوں کو دیکھ ایک سیکنڈ کے لیے وہ گڑبڑا گئیں، مگر سنبھل گئیں۔

”ارے آؤ بھئی آؤ، بڑے ٹائم پہ آئیں، امی کو بھی لے آتیں“

زبیدہ نے آنکھیں موندتے ہوئے کہا، نند آصفہ نے بیٹھے بیٹھے ہاتھ ہلا دیا۔

اماں تو بابا کے ساتھ اسلام آباد گئی ہیں، میرے کچھ دن آف تھے تو سوچا کہ منیٰ کو لے آتے ہیں، ذرا مل جل کر مزہ کرتے ہیں، کہاں ہے وہ؟ ثنا نے کہا

”اوپر ہے، عجب زمانہ ہے نوجوان لڑکیاں دو بچے نہیں سنبھال سکتیں، ویسے بھی حسن کراچی گیا ہوا ہے وہ واپس آئے تو ہی منیٰ آئے گی“

زبیدہ کے لہجے کی نرمی ہوا ہو چکی تھی

دونوں بہنیں تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گئیں اور اوپر منظر نیچے سے مختلف تھا، بچے نرسری میں بلبلا رہے تھے، عیسٰی ماما، ماما پکار رہا تھا، بہن کے بیڈروم میں داخل ہوئیں تو وہ باتھ روم سے نکل رہی تھی، اس کا رنگ خطرناک حد تک زرد تھا، ان کو دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھی مگر درمیان میں ہی چکرا کر گر گئی۔ ایک سوا سال اور ایک تین ماہ کے بیٹے کے ساتھ وہ تیسری بار ماں بننے والی تھی اور حالت یہ تھی کہ ایک مکمل فقرہ بولتے ہوئے اس کی سانس پھول جاتی اور ہائی بلڈ پریشر، خون کی شدید کمی اور کچھ دوسری پیچیدگیوں نے اس کو بستر سے لگا دیا تھا اور ساس مسلسل اس کے نہ کھانے پینے اور الٹیاں کرنے پر اس کو تنقید کا نشانہ بنا رہی تھیں۔

بہرحال اب وہ میکے میں تھی جہاں ماں باپ کی دلجوئی، بہنوں کا پیار، بیٹوں کی بہترین نگہداشت بھی اس کی حالت میں کوئی خاص فرق نہیں لا رہی تھی اور پھر تیسرے بیٹے کو جنم دے کر وہ زندگی کی بازی ہار گئی۔ایک قیامت تھی جو اس کے خاندان پر ٹوٹ گئی، ثنا کا دل چاہتا کہ وہ آنکھیں بند کرے تو اس ڈراؤنے خواب سے کبھی نہ اٹھے، اس نے ہاؤس جاب سے رخصت لے لی تھی اور بچوں میں کھو گئی تھی حالانکہ دن اور رات مدد کے لئے دو ملازم لڑکیاں موجود تھیں۔ وقت مگر کسی غم اور خوشی کے لئے رکتا نہیں ہے اور گزر جاتا ہے۔ منیٰ کو گزرے بھی آٹھ مہینے بیت گئے تھے بے شک ماں باپ اور بہنوں کا زخم پہلے دن کی طرح تازہ تھا مگر دنیاوی کام ہونے لگے تھے، وہ دوبارہ ہاسپٹل جانے لگی تھی۔البتہ تینوں بچوں کے ساتھ اس کی دیوانگی پہلے دن کی طرح تھی جو ماں کی موت کے بعد ننھیال میں تھے۔ حسن ویک اینڈ پر بچوں کو ملنے آتا تھا، کبھی کبھی اس کی امی بھی آتیں اور صاف ستھرے صحت مند بچے جب سب کو نظر انداز کر کے ثنا کی گود میں لپکتے اور وہ دیوانہ وار ان کو آغوش میں لیتی تو وہ کسی گہری سوچ میں ڈوب جاتیں اور پھر وہ گہری سوچ رنگ لائی اور ثنا کا رشتہ حسن کے لیے مانگ لیا گیا، ظاہر ہے حسن نوجوان تھا اب منٰی کی یادوں کے سہارے تو زندگی نہیں گزار سکتا تھا اور معصوم بچوں کو سوتیلی ماں کے حوالے کرنے کے خیال سے بھی رابعہ اور ظفر کا دل ڈوبتا تھا، سو بچوں سے ثنا کا لگاؤ دیکھ کر انھوں نے دل پر پتھر رکھ کر ہاں کرنے کا فیصلہ کیا اور ثنا کو میں نے اعتماد میں لیا مگر اس نے سنتے ہی انکار کر دیا۔

میں نے اپنی زندگی ان بچوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور میں ہی ان کی ماں ہوں مگر حسن بھائی سے شادی کی قیمت پر کبھی بھی نہیں، انھوں نے یا آپ نے سوچا بھی کیسے، نہیں ہر گز نہیں، منٰی کے قاتل ہیں وہ،

اس کا لہجہ سخت اور پر عزم تھا

ماں باپ کی منت سماجت، حسن اور اس کی ماں کے پھیرے اس کی نہ کو ہاں میں نا بدل سکے۔ حسن نے خود اس سے بات کی جس کے لئے وہ بہت مشکل سے تیار ہوئی تھی کیونکہ اس کے دل کے نہاں خانوں کہیں بہت نیچے ایک احساس تھا کہ وہ منٰی کی موت کا ذمہ دار ہے۔

”حسن بھائی میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی“…اس نے صاف انکار کر دیا

مگر ہاں یہ بچے میرے ہیں، میں ہی ان کو پالوں گی، آپ دوسری شادی کر لیں۔

ثنا بیوقوفی کی باتیں مت کرو، ایسا نہیں ہوتا اور ہم دونوں مل کر ان کو پالیں گے۔

حسن کے انداز اور نگاہیں بدلے بدلے تھے جس نے اس کے غم و غصے کی آخری حد کو چھو لیا اور اس نے صاف صاف انکار کر دیا

”میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں اور آپ میرے بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔“

یوں وہ مایوس لوٹا اور بظاہر بات ختم ہو گئی، پھر منیٰ کی پہلی برسی آئی اور گزر گئی اور یہ تین ہفتے کے بعد کی بات تھی، اس کو دو چھٹیاں تھیں جو بچوں کے لاڈ اٹھاتے گزر رہی تھیں۔ دوپہر کو تینوں سو گئے تو وہ بھی ذرا کمر ٹکا کر لیٹ گئی کہ امی آ گئیں۔

ثنا فارغ ہو؟ کچھ بات کرنا تھی۔…جی اماں آپ کے لئے فارغ ہی فارغ ہوں۔…وہ خوشدلی سے اٹھ گئی۔…کل جمعے کی نماز کے بعد تمہارا حسن سے نکاح ہے…رابعہ کا لہجہ بے تاثر تھا…اماں!…وہ ششدر رہ گئی…نہیں آپ لوگ ایسا نہیں کر سکتے، میں نہیں مانتی…صدمے سے اس کی آواز پھٹ رہی تھی…یہ میرے ہاتھ دیکھو…رابعہ نے زار و قطار روتے ہوئے ہاتھ جوڑے…جن بچوں میں تمھاری جان ہے کیوں ان کو زندگی بھر کے لیے محرومیوں میں دھکیلنا چاہتی ہو…یہ میرے بچے ہیں اور…

”نہیں یہ حسن کے بچے ہیں اور وہی ان کا وارث ہے مگر بس تم ہم پر یہ احسان کر دو، ورنہ میں اور تمہارے بابا زندہ درگور ہو جائیں گے جب ہماری منیٰ کے بچوں پر دوسری ماں آ جائے گی“

اماں روتے روتے بے دم ہو رہی تھیں لیکن وہ بالکل پتھر کی طرح بیٹھی تھی، اتنے میں ملازم لڑکی عیسیٰ کو اٹھائے کمرے میں آ گئی اور وہ ہمک ہمک کر ثنا کے پاس آنے لگا۔

”رحم کرو ان پر، ہم پر اور اپنی مرحومہ بہن پر جو بھری جوانی میں مٹی اوڑھ کر سو گئی اور کل کے لئے تیار ہو جاؤ، وہ لوگ چار بجے تک پہنچ جائیں گے“

یہ کہہ کر وہ بچے سمیت باہر نکل گئیں۔

اس کے بعد جو ہؤا سو ہؤا مگر اس میں سب سے زیادہ قصور کس کا ہے؟ ماں باپ کا یا بھری محفل میں انکار کرنے والی لڑکی کا جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور معاشرے میں سر اٹھا کر جی سکتی ہے۔ اس کا قصور یہ ہے کہ اگر بہن کے بچوں سے محبت کرتی ہے تو پھر ضرور اس کی شادی بہنوئی سے کر دی جائے جو نہ صرف اس کا پروفیشن چھڑا دے بلکہ اگلے تین سالوں میں تین اور بچے پیدا کر کے پہلے بچوں سے محبت اس کے دل سے ختم کر دے۔ کیا ہے یہ سب اور کیوں ہے؟

ہمارے مذہب میں، شریعت میں اور معاشرے میں اس طرح کی شادیاں جیسے شوہر کے انتقال کے بعد دیور سے کیونکہ جیٹھ کی بیوی عام طور پر اس قسم کے ارادوں کو ناکام بنا دیتی ہے اور بہن کے انتقال کے بعد بہنوئی سے نہ صرف بہت عام ہیں بلکہ ہمارے یہاں ایک احسن عمل سمجھا جاتا ہے۔

اسلام میں یہ شادیاں جائز ہیں کیونکہ ہمارا مذہب سرا سر بھلائی ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ایک نوجوان بیوہ ایک یا دو بالکل چھوٹے بچے دنیا میں کوئی اور ٹھکانہ نہیں تو اس کی اور دیور کی مکمل رضامندی سے اس نکاح میں کوئی حرج نہیں، یہ مکمل بھلائی ہے، اسی طرح بہن کے انتقال کی صورت میں بہنوئی سے نکاح میں کوئی گناہ نہیں ہے اور یہ بچوں کو سوتیلی ماں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

اسلام نے ان شادیوں کو جائز قرار دیا مگر ساتھ ہی ہر قسم کی شادی میں لڑکا اور لڑکی کی دلی رضامندی کے بغیر نکاح کو منع کیا ہے۔

لڑکے جن بھابیوں کو ماں کی نظر سے دیکھتے ہیں، ان کو اچانک ان سے شادی پر مجبور کیا جائے اور وہ خاتون جس پر شوہر کی موت کا پہاڑ جیسا غم آ گیا اس کو دیور سے، اسی دیور کو اپنا چھوٹا بھائی سمجھتی رہی اور وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ دیور اس شادی پر رضامند نہیں اور اس کا اپنا دل بھی نہیں مان رہا مگر خاندان اور برادری کے بے پناہ پریشر کے سامنے دونوں بے بس ہیں، بالکل اسی طرح ایک لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف بہنوئی سے نہیں کرنی چاہیے مگر ان لڑکیوں کو ماں باپ اس حد تک ایموشنلی بلیک میل کرتے ہیں کہ وہ ”ہاں“ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، مرحومہ بیٹی کی محبت میں ماں باپ زندہ بیٹی کے احساسات کی پروا نہیں کرتے، آخر ہم کب تک ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح دھکیلتے رہیں گے۔ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو محبت اور اعتماد دیں، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے دیں تاکہ وہ معاشرے میں بہتر طریقے سے اپنا رول ادا کر سکیں اور اپنی زندگی کے فیصلے بھی آزادانہ کر سکیں۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *