معاشرہ

انصار عباسی – فہاشی اور قوم کا فخر

Spread the love

. تحریر سعدیہ احمد

ہمارا چھوٹا بھائي بچپن ميں روٹھ کر ايک کونے ميں بيٹھ جاتا تھا۔ جب کوئي منانے نہيں آتا تھا تو خود ہي نعرہ بلند کرتا تھا ’ميں نالاج ہوں۔‘ يعني ميں ناراض ہوں لہذا دنيا والو آؤ اور مجھے منانے کي سعادت حاصل کرو۔ جب تب بھي کوئي کان نہيں دھرتا تھا تو بيچارہ خود ہي نظريں چراتا سب ميں واپس آ بيٹھتا تھا۔ آج ہم نے بھي يہي کيا ہے۔ کچھ عرصے سے لکھنے سے وقفہ ليا تھا تاکہ روزگار زندگي پر فوکس کيا جا سکے۔ اميد تھي کہ آپ لوگ سوال کريں گے۔ ايڈيٹر صاحب کو ايميليں لکھيں گے کہ کہاں گئيں عہد حاضر کي بہترين کالم نگار۔ جيسا کہ آپ نے ہماري اميدوں پر پاني انڈيل ديا ہم آپ کي خدمت ميں خود ہي حاضر ہيں۔

اصل ميں لکھنا تو آج بھي نہيں تھا ليکن مشہور صحافي انصار عباسي صاحب نے مجبور کيا کہ سعديہ بي بي آج تو قلم اٹھانا ہي ہو گا۔ خالي خولي ولاگ بنانے سے کام نہيں چلے گا۔ ہم ان کي فرمائش کيسے موڑتے، جھٹ آپ کي محفل ميں حاضر ہوئے۔ خير سے عباسي صاحب کي بہت عزت کرتے ہيں۔ ان سا کہنہ مشق استاد پاکستان کو کئي نسلوں تک نصيب ہونا ناممکن ہے۔ اتني محنت کرتے ہيں کہ لگتا ہے محنت ميں عظمت کي کہاني کے مرکزي کردار يہي تھے۔

جہاں باقي صحافي اپنے چھوٹے موٹے کاموں ميں الجھے رہتے ہيں قدرت نے انصار عباسي صاحب کو وہ ذمہ داري بخشي ہے جو ماٹي کے يہ بت ادا کرنے سے قاصر ہيں۔ ہمارے قابل فخر انصار عباسي صاحب صبح شام ٹي وي پر ہونے والي فحاشي ڈھونڈنے ميں يوں محو رہتے ہيں جيسے دو سال کا بچہ اپنے آئي پيڈ پر ہو۔ کچھ صلاحيت خداداد بھي ہے کہ يہ وہاں بھي فحاشي ڈھونڈ نکالتے ہيں جہاں تمام دنيا ٹٹولتي بھي پھرے تو نہ پہچان پائے۔ بھلے ٹيليويژن پر ورزش کرتي خاتون ہوں يا گالا بسکٹ ميں ناچتي ہوئي ستارہ امتياز مسمات مہوش حيات، عباسي صاحب کي عقابي نظر فحاشي کھوج ہي ليتي ہے۔

جيسا کہ محنت ميں عظمت ہے۔ انصار عباسي صاحب اپنے مشن ميں کبھي ناکام نہيں ہوئے۔ اب کي بار تو چھکا يوں بھي پارک سے باہر ہے کہ انہوں نے گالا بسکٹ کا اشتہار ہي بند کرا ديا۔ اور اس پر ان کا بس نہيں چل رہا کہ خود بھي ناچنا شروع کر ديں کہ کيا کارنامہ انجام ديا ہے۔ مانا کہ اشتہار خاصا بورنگ اور بھونڈا تھا ليکن اس ميں فحاشي کہاں تھي يہ تو عباسي صاحب ہي جانيں۔ آفٹر آل ہيرے تو جوہري ہي پہچان سکتا ہے۔

جتني مرضي جگتيں پڑيں انصار عباسي صاحب نے اپنے فرض سے کبھي غفلت نہيں برتي۔ وہ ہميشہ ٹي وي کو محدب عدسے سے ديکھتے ہيں کہ کہيں بھي عورت کے وجود کا کوئي بھي پيچ و خم دکھائي دے وہ وہيں ويڈيو ريکارڈ کر کے ٹويٹ کر ديں۔ کچھ جلنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر ميڈيا پر اتني ہي فحاشي ہے تو انصار عباسي صاحب اپنا ٹي وي کيوں بند نہيں کر ديتے؟ ليکن جلنے والے کا منہ کالا۔ عباسي صاحب کے عزائم ہماليہ کي پہاڑيوں سے بلند ہيں۔

بعض بلکہ اکثر اوقات انصار عباسي صاحب کا يہ فن وہ اور کمال حاصل کر ليتا ہے کہ وہ محض عورت کي ايک جھلک پر ہي فحاشي کے بينر ديکھنے لگتے ہيں۔ آفٹر آل، عورت کے وجود سے بڑھ کر فحش کيا ہو گا؟ اب خدا جانے کہ ان کي نگاہوں ميں ايکس رے ہے يا پھر دلوں کا حال جانتے ہيں۔

انصار عباسي صاحب اس قوم پر خدا کي رحمت ہيں جن کي قدر ہر جن و انس پر لازم ہے۔ ہماري طرف مت ديکھئے۔ ہم نے تو ان کي شان ميں وہ قصيدہ بھي لکھ ڈالا جو ان کے وہم و گمان ميں نہ ہو گا۔ عباسي صاحب اس قوم کا فخر ہيں، ماتھے کا جھومر ہيں، اور فحاشي يعني عورت کے وجود کے خلاف جہاد ميں اس قوم کے سپہ سالار ہيں۔ عباسي صاحب کا اقبال اور ٹيليويژن اينٹينا بلند ہو۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *