بچوں کے لئے

انبیاء کرام کی باتیں

Spread the love

ہمارے بچوں کو بچپن ہی سے انبیاءکرام کے مختصرحالات زندگی سے آگاہی حاصل ہونا چاہیے۔

اس ماہ سے ادارہ آبگینے خواتین ڈائجسٹ خاص طور پر ماؤں سے درخواست کرتا ہے کہ انبیاء کرام کی ان پیاری کہانیوں کو رات سونے سے قبل بچوں کو سُنایا کریں۔ تاکہ بچوں کو خدا کے ان پیاروں کے حالات کا علم ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں ان انبیاء کے حالات زندگی سے ان کے پاکیزہ اخلاق کو سیکھنے اور اپنی زندگیوں کو حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ اس سلسلہ کا پہلا مضمون انبیاء کرام کی ترتیب کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا جارہا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام

یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں بہت خوبصورت ہے جو آج سے کروڑوں سال پہلے اللہ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آئی اور مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے آج اس حالت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔

آج سے کوئی سات ہزار سال پہلے کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی غیرمنظّم اور پراگندہ حالت پر رحم فرمایا اور اس دور کے سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور مدد سے اس دور کے پہلے خوبصورت معاشرے کا قیام فرمایا۔ جہاں سب آپس میں بھائیوں کی طرح محبت سے رہنے لگے اور اپنے خدا کی عبادت کرنے لگے۔

پیارے بچو! کچھ گندے لوگ جنہیں اس معاشرے کو سکون، پیار اور محبت بُرا لگنے لگا اور وہ حسد کی آگ میں جلنے لگے۔ انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے خلاف مختلف سازشیں کرنا شروع کردیں کہ کسی طرح اس جنت کو، جو آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر بڑی مشکل سے بنائی تھی تباہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے، جو تمام لوگوں کے دلوں کے حال جانتا ہے، حضرت آدم علیہ السلام کو ان شیطان صفت لوگوں سے ہوشیار رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ان لوگوں سے تعلق نہیں جوڑنا۔

چنانچہ جب ان شیطان صفت گندے لوگوں نے دیکھا کہ اس طرح ہم حضرت آدم علیہ السلام اور آپؑ کے ساتھیوں کو شکست نہیں دے سکتے تو انہوں نے صلح کی پیشکش کی۔ تب پیارے بچو! حضرت آدم علیہ السلام کے بعض ساتھیوں نے غلطی سے ان لوگوں سے دوستی کرلی۔ اس کانتیجہ یہ ہوا کہ وہ شیطان صفت لوگ آپؑ کے جنت نظیر معاشرے میں گھس گئے اور انہوں نے قوم میں فتنہ پیدا کرنا شروع کردیا اور بہت بڑا فساد پیدا ہوگیا۔

تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم! ہم نے تمہیں ان لوگوں سے تعلق جوڑنے سے منع کیا تھا پھر بھی تم نے غلطی کی اور ان سے تعلق جوڑا۔ اب ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ یہاں سے چلے جاؤ اور زمین میں پھیل جاؤ تاکہ یہ فتنہ اور فساد مزید نہ بڑھے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام اور آپؑ کے ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اس جگہ کو چھوڑ دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام اپنے ساتھیوں کی غلطی پر سخت غمگین تھے۔ آپؑ خداتعالیٰ کے سامنے جُھک گئے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنے لگے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپؑ کو معاف کردیا بلکہ مزید ترقی کے راستے بھی بتائے۔ یوں اللہ تعالیٰ کے یہ نیک اور بزرگ نبی اپنا کام پورا کرتے ہوئے وفات پاگئے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *