اقوام متحدہ کے 17 نوجوان رہنماؤں میں شامل حدیقہ بشیر کون ہیں؟
. اقوام متحدہ کے ينگ ليڈرز پروگرام ميں منتخب ہونے والي سوات کي حديقہ بشير کہتي ہيں کہ خاندان اور گاؤں کي شديد مخالفت کے باوجود والدين ان پر بھرپور بھروسہ کرتے ہيں۔
‘گاؤں اور خاندان والے بار بار ميرے والد کو کہتے ہيں کہ اپني بيٹي کو گھر پر بٹھائيں اور باہر گھومنے سے روکيں کيونکہ لڑکي کو گھر ميں رہنا چاہيے ليکن والد نے کبھي بھي مجھے اپنے کام سے نہيں روکا۔’
يہ کہنا ہے سوات سے تعلق رکھنے والي 18 سالہ حديقہ بشير کا، جن کو اقوام متحدہ نے دنيا کے ان 17 نوجوان رہنماؤں کي فہرست ميں شامل کيا ہے جو اپنے علاقے ميں اقوام متحدہ کے ‘سسٹينيبل ڈويلپمنٹ گولز’ کے ليے کوششيں کر رہے ہيں۔
حديقہ واحد پاکستاني ہيں جن کا ان رہنماؤں ميں انتخاب ہوا۔ وہ 13 سال کي تھيں جب انہوں نے اپنے علاقے ميں کم عمري کي شاديوں کے خلاف آواز اٹھائي اور آج تک اسي مقصد کے ليے کام کر رہي ہيں۔
انہوں نے انڈپينڈنٹ اردو کو بتايا کہ اس سارے کام ميں والد اور والدہ نے بہت سپورٹ کيا۔ ان کے والد ايک سکول ميں پرنسپل اور سماجي کارکن ہيں اور ملالہ يوسفزئي کے والد کے قريبي دوستوں ميں شمار ہوتے ہيں۔
حديقہ ‘گرلز يونائيٹڈ فار ہيومن رائٹس’ نامي ايک گروپ کي سربراہي کر رہي ہيں جس ميں ان کے ساتھ 10 لڑکياں ہيں جو کم عمري کي شاديوں سميت ‘خواتين کے ليے محفوظ شہر’ کے نام سے مہم چلا رہي ہے تاکہ سوات کي گليوں اور سڑکوں کو خواتين کے ليے محفوظ بنايا جا سکے۔
ان سے جب پوچھا گيا کہ کيا اب تک کم عمري کي شاديوں کے حوالے سے کوئي عملي کام کيا ہے؟ تو انہوں نے بتايا: ‘ہم گھر گھر جا کر مہم چلاتے ہيں جبکہ اس مقصد کے ليے علاقے کے مذہبي رہنماؤں سے ملاقاتيں بھي ہوتي ہيں تاکہ وہ عوام ميں آگاہي پھيلائيں۔ اب تک ہم نے 50 کے قريب مذہبي علما سے ملاقاتيں کيں، جس ميں سے پانچ کم عمري کي شاديوں کو روکنے کے ليے عوام ميں آگاہي پھيلانے پر آمادہ ہيں۔‘ حديقہ نے بتايا کہ انہوں نے دو ايسے کيس بھي حل کيے ہيں جس ميں ايک لڑکي کي کم عمري ميں شادي طے کردي گئي ليکن ہم نے ان کے خاندان والوں کو اس بات پر آمادہ کيا کہ وہ اس شادي کو روکيں۔
حديقہ نے کہا: ‘اس لڑکي کے گھر والوں نے بتايا کہ غربت کي وجہ سے وہ بچي کي شادي کرنا چاہتے تھے ليکن ہم نے اس شادي کو رکوايا اور اس وقت سے اب تک ہم اس لڑکي کے تعليمي اخراجات برداشت کر رہے ہيں۔’
اقوام متحدہ کے ينگ ليڈرز کيا کريں گے؟
جب حديقہ سے پوچھا گيا کہ اس پروگرام ميں شموليت کيسے ہوتي ہے؟ تو انہوں نے بتايا کہ ہر دو سال بعد اقوام متحدہ درخواستيں موصول کرتا ہے تاکہ پوري دنيا سے نوجوان ليڈرز پر مبني ايک ٹيم دو سال کے ليے بنائي جائے۔ اس پروگرام ميں پوري دنيا سے ينگ ليڈرز اپلائي کرتے ہيں، اس سال پروگرام کے ليے سات ہزار سے زائد لوگوں نے اپلائي کيا تھا جس ميں سے 17 منتخب ہوئے اور پاکستان سے ان کا نام بھي شامل ہے۔
حديقہ نے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے ميں بتايا کہ اقوام متحدہ اب انفرادي يا ٹيم کي سطح پر، يعني ايشيا کے ينگ ليڈرز کي ٹيم بنائے گا اور ان کو سسٹينيبل ڈولپمنٹ گولز پورا کرنے کے ليے ہدف ديے جائيں گے۔
سسٹينيبل ڈوپلمنٹ گولز (ايس ڈي جيز) کيا ہے؟
اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي نے 2015 ميں 17 اہداف بنا کر رکن ممالک کو ان اہداف کو حاصل کرنے کے ليے 2030 تک کا وقت ديا ہے۔ ان اہداف ميں مختلف شعبے مثلاً دنيا سے بھوک کو مٹانا، غربت ميں کمي، معياري تعليم، پينے کے صاف پاني کي فراہمي، صاف توانائي، کلائميٹ ايکشن اور مختلف شعبے شامل ہيں۔
اسي مقصد کو حاصل کرنے کے ليے اقوام متحدہ مختلف پروگرام چلا رہا ہے، جس ميں سے ايک اقوام متحدہ کا ينگ ليڈرز پروگرام ہے۔ اس پروگرام ميں 17 ينگ ليڈرز کو پوري دنيا سے منتخب کيا جاتا ہے، جو ايس ڈي جيز سے متعلق اہداف حاصل کرنے کے ليے کوششيں کرتے ہيں۔
حديقہ نے بتايا کہ وہ ايس ڈي جيز اہداف کو حاصل کرنے کے ليے اپني کوششيں جاري رکھيں گي خصوصاً کشمير ميں نوجوانوں کے حقوق کي پامالي پر اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي ميں آواز اٹھائيں گي۔
کام جاري رکھنے ميں کوئي مشکلات تو نہيں؟ اس سوال کے جواب ميں حديقہ نے بتايا کہ معاشرے ميں حمايت اور مخالفت کرنے والے لوگ ہميشہ ہوتے ہيں اور ‘ميرے ساتھ بھي يہي ہے کہ کچھ لوگ شديد مخالفت کرتے ہيں۔’
حال ہي ميں انٹر کا امتحان پاس کرنے والي اور سائيکالوجي يا قانون کي تعليم حاصل کرنے کا ارادہ رکھنے والي حديقہ نے بتايا کہ سوشل ميڈيا پر انہيں عجيب وغريب قسم کے کمنٹس ديکھنے کو ملتے ہيں، تاہم انہيں اس کي کوئي پرواہ نہيں۔
وہ کہتي ہيں: ‘کوئي کچھ بھي کہے، ميں اپنا کام جاري رکھوں گي اور جو مقصد ميں نے سامنے رکھا ہے اس کو حاصل کرنے کے ليے تگ و دو کروں گي۔’


