شعر و شاعری

آخری شب ہے یہ دسمبر کی

Spread the love

منصورہ من انڈیا

آخری شب میں پھر دسمبر کی

خود سے بیٹھی جو گفتگو کرنے

پہلے سوچا کہ اب ہے یوں کرنا

یاد ماضی کے سارے دروازے

بند کرنے ہیں سال نو کے لیے

تے یہ کرنا ہے کیسے رہنا ہے

درد کو خیر آباد کہنا ہے؟

یا ستم بے رخی کا سہنا ہے ؟

نییو خوشیوں کی اب کے رکھنی ہے

یا ڈلی غم کی کوئ چکھنی ہے؟

اتنی سوچوں کے بعد آخر میں

دل نے ہلکی سی ایک خواہش کی

یہ حساب و کتاب جانے دو

آج تھوڑا  اداس رہنے دو

آخری شب ہے یہ دسمبر کی

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *