آخری شب ہے یہ دسمبر کی
منصورہ من انڈیا
آخری شب میں پھر دسمبر کی
خود سے بیٹھی جو گفتگو کرنے
پہلے سوچا کہ اب ہے یوں کرنا
یاد ماضی کے سارے دروازے
بند کرنے ہیں سال نو کے لیے
تے یہ کرنا ہے کیسے رہنا ہے
درد کو خیر آباد کہنا ہے؟
یا ستم بے رخی کا سہنا ہے ؟
نییو خوشیوں کی اب کے رکھنی ہے
یا ڈلی غم کی کوئ چکھنی ہے؟
اتنی سوچوں کے بعد آخر میں
دل نے ہلکی سی ایک خواہش کی
یہ حساب و کتاب جانے دو
آج تھوڑا اداس رہنے دو
آخری شب ہے یہ دسمبر کی

