رنگِ تخیل
تحریر: ڈاکٹر روبینہ خان کاکڑ
سورج کی روشنی تلے پتلی رنگین چادر بچھا کر کے دیکھیں، ہر زیر چادر شے پر چادر کا رنگ نمایاں ہو گا یا پھر سخت سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے جسم کو دھوپ جو سکون ملتی ہے۔ سورج کی تپش کی تاثیر اتنی ہی مختصر ہے، کہ ڈھلتے ہی سردی دگنی شدت سے حملہ آور ہو جاتی ہے۔ اور چادر کے اٹھتے ہی رنگ آلود شے اپنے اصل رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کیا عارضی اور بے اختیار شے سے ملی راحت اور سکون دیرپا نہیں؟ کیا کسی شے کی عارضی رنگینی سے مستقل اور پکا رنگ چڑھ سکتا ہے؟ یا پھر سکون میں وقت کے گزر کا ہوش نہیں رہتا، اور ایک ناپائیدار خول چڑھا کر اسے پائیدار اور دائمی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ زندگی عارضی اور ناپائیدار ہے، مگر انسانی زندگی سے بھی کئی گناہ عارضی تو تخیل کی دنیا ہے۔ انسانوں سے زیادہ تو جمادات مستحکم اور مضبوط ہیں۔ دنیا میں استحکام اور تبدیلی کا تسلسل نوع انسانی کی جسمانی تبدیلی کے ساتھ آ رہا ہے۔ یہ پہاڑ، یہ قدرتی مناظر میں تغیرات نسل انسانی کے تغیر و تبدل کے راست متناسب ہے۔ کیا ہوا جو عاد و ثمود کی قوموں کی عمریں لمبی ہوا کرتی تھیں؟ جدید انسان کی محدود عمریں ان سے کئی گناہ کار آمد اور مفید ہیں۔ خارجی دنیا کے وجود کی دریافت، انسان کی فکری صلاحیتوں کی پابند ہے۔ علامہ اقبال کے بقول
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
انسانی زندگی کئی تجربات سمیٹ کر اور لامحدود خیالات و افکار اور تدابیر چھوڑ کر فنا ہو جاتی ہے۔ ایک فرد میں روزانہ نئے خیالات و افکار کی تعمیر و تخریب ہوتی رہتی ہے۔
جام جمشید حیران کن کیوں؟ جب کہ ہمارا دماغ اپنے اندر ایک الگ کائنات کی تشکیل اور دکھانے کا ہنر رکھتا ہے۔ افلاطون کی مثالی ریاست کی کیا حیثیت؟ جب ایک فرد کے تخیل سے اس کے بصری قشر پر بنی ہوئی رنگین وادی، جس کے دہلیز پر کھڑی جنت حسن کی بھیک مانگ رہی ہے۔ یہ وادی ایک بے نظیر ریاست کی مانند ہے۔ جس کو افلاطون بھی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہو گا۔ فرد کی بصری قشر پر تاتاریوں اور چینیوں کی جنگ کی تصویر ہو، یا میدان بدر کا نقشہ؛ مستقبل سے کئی دور معلوم ہوتی ہوئی نشانیاں ہو یا پھر تاریخ کی دھندلی یادیں نیز ہر چیز اس پر بخوبی نقش ہوتی ہے۔ زندگی میں ان حالات اور واقعات کا ہوبہو دیکھنا باعثِ حیرت نہیں، بلکہ ان کو تخیل سے بنانا اور حسین ترتیب دینا کمال ہے۔ کسی فرد کے بصری قشر پر جو خیالی جنت بنتی ہے، اس کا تصور بلاشبہ ہر فرد کے ذہن میں مختلف ہو گا۔ مگر ہر فرد کے ذہن کا نقشہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہو گا۔
ایک وقت تک میرا یہ خیال تھا۔ اگر من پسند حالات کی تخلیق، ذہن میں ممکن ہو، اور ساتھ میں وہ اندرونی سکون بھی دے۔ تو کوشش کر کے تھک ہار کا کیا فائدہ؟ ہاتھوں کا وجود، انسانی جدوجہد میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر جو چیز ذہن میں بن کے ہاتھ نہ آئے، وہ شے کامل تسکین نہیں دے سکتی۔ سوچ کا عمل میں بدلنا لازمی امر ہے۔ خواہش کی تکمیل ہونا انسانی تسکین کا باعث ہے۔ کیا ہر سوچ عمل میں تبدیل ہو سکتا ہے؟ کیا ہر خواہش کی تکمیل ممکن ہے؟ بقول غالب
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
بعض اوقات خواہشات اور دلی تسکین ہم اس مادے میں بھی محسوس کرتے ہیں، جس میں بس ہماری سوچ ہی سما سکتی ہے، وجود نہیں۔ رنگین اور دلکش کھلونے، ننھی چھوٹی گاڑیاں، گڑیا گھر کے پیارے برتن مادہ ہو کر بھی اصل کی نقل ہے۔ ان سے کھیلنا اصل زندگی کی تقلید بے شک ہوگی، مگر یہ اصل سے کئی گناہ دلکش لگتے ہیں۔ نہ جانے کتنے بچے کھیلنے سے زیادہ انہیں حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔ کہ کاش ان میں ہمارا وجود بھی سما سکتا، تو کیا ہی بات ہوتی۔ اس لیے ان کی خواہشات حسرتوں میں بدل جاتی ہیں۔ انھیں محرومی کی شدت اسی لیے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ اس نقل کا نہ تو اس وقت اصل میسر ہوتا ہے، اور نہ ہی نقل باعثِ تسکین ہوتی ہے۔
ان رنگینیوں کی باوجود دنیا ویسی رنگین نہیں ہوتی، وگرنہ والٹ ڈزنی کو ڈزنی لینڈ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ دماغ نمونہ اصل دنیا سے نقل کر کے اپنی بھٹی میں پکا کر صحرا میں بھی قوس و قزح کے رنگ بھر دیتا ہے۔ جسے میں ( فانی در فانی ) کہوں تو بے جا نہ ہو گا۔
کارٹونز کی دنیا جن میں بچے یوں کھو جاتے ہیں۔ گویا وہ وہی موجود ہوں۔ ان کے معصوم اذہان اسی رنگین اور صاف ستھری دنیا میں پیاری چہچہاتی چڑیوں، آسمان پر رنگین دھنک بولتے درخت اور منتظم و باسلیقہ ماحول سے تسکین محسوس کرتے ہیں۔ مگر ٹی وی کی سکرین پر اندھیرا چھاتے ہی نظر جب اصل سے ٹکراتی ہے، بابا کے کمرے میں دیوار پہ امی کی جوتی کے ڈیزائن اور بابا کے ناڑے سے باندھا گیا الماری کے دروازے کا دیدار ہوتا ہے۔ یہاں اس بچے کی رنگین دنیا دھواں بن جاتی ہے۔
دوغلا سا ماحول ہوتا ہے۔ دنیا و آخرت کے علاوہ نقل کی دنیا بھی ایک تماشا ہے۔ پر اس اصل و نقل میں پل کون تعمیر کرے، جاپان کے انجنئیر یا یا چار پھر مشہور فرشتے۔ ہمارے بچے بے ربط جہانوں کے درمیان لٹک رہے ہوتے ہیں۔ سپائیڈر مین کا اونچی عمارت سے نیچے زمین پر چھلانگ لگا کر شہر کو بچانا، پنسل سے بنے نقش کا مادی حالت میں تبدیل ہو جانا، اچھائی کے جذبے میں غیر حقیقی کرداروں کا استعمال اچھائی کی نیت تو پیدا کر سکتی ہے، مگر انسان جو غیر فطری توانائی یا جادو سے ماورا ہوتا ہے۔ وہ اس جادوئی عمل کے سانچے میں نہیں ڈھل سکتا۔ یہ جادوئی جذبہ انسان کے اندر غیر حقیقی کرداروں کی وجہ سے منتقل ہو جاتا ہے۔ مگر حقیقت میں بابا کا تلخ لہجہ، امی کی چیخ، استاد کا تھپڑ، ہر جنونی جذبے اور انا کو مسمار کر دیتا ہے۔ عمر کے اس صف میں حقیقی اور غیر حقیقی دنیا میں توازن قائم رکھ سکنا، چرواہے سے کیمیائی فارمولوں پر بات کرنے کے مترادف ہے۔
فکر نے جہاں بنجمن فرینکلن کو بجلی کی دریافت کی جانب راغب کیا، نیوٹن کو ایک سیب نے شش و پنج میں مبتلا کیا، ایسے ہی شیخ چلی کو کئی رنگین خوابوں کے روبرو کیا۔ جس نے اصل دنیا میں رہتے ہوئے فقیری میں بادشاہی کا سکون محسوس کیا۔ فکر عمل کے بغیر ایک پل میں مسئلہ کشمیر حل کر دیتی ہے۔ ترکوں اور کردوں کو ایک دوسرے پر قربان کر دیتی ہے۔ خود مسائل بنا کر انھیں عقلمندی سے حل کر دیتی ہے۔ سوچ کر بڑے سے بڑے دشمن کو زد و کوب کا نشانہ بنا دیتی ہے۔ جو بات کرنے میں انسانی وجود لڑکھڑا جاتا ہے۔ دو بندوں کے آگے دو شبد ادا کرنے سے دل میں جو سونامی پیدا ہو جاتی ہے، یا زلزلے کا سا ارتعاش پیدا ہوتا ہو، وہی کام سوچ چٹکیوں میں انجام دیتی ہے۔ گیم کی دنیا میں بڑا جنگجو بن کر اپنے مخالفین پر گولیاں برسانا اور فاتحانہ انداز میں مسکرانا جس کے سامنے سکندر اعظم کی پوری سلطنت ہیچ دکھائی دیتی ہو۔ دوسری طرف ڈراموں، افسانوں اور ناولوں میں غیر حقیقی کردار ایک ایسے شخص کا خاکہ بناتا ہے، جس میں فرشتوں جیسی معصومیت ہو، یا پھر ابلیس جیسی انا، جس کے تخیل کو اصل میں لانے کی سعی ہوتی ہے۔ اکثر ظاہری طور پر وہی تصویر نایاب ہوتی ہے۔ فلمی سین میں کبھی چلتے چلتے نازک ہاتھوں سے کتابیں انگڑائیاں لیتی ہوئی ایسی گر پڑتی ہیں کہ بکھرتے وقت حیرت کا تلاطم برپا ہو جاتا ہے۔ جس وقت قدرت بھی مہر و شفقت کا استعارہ بن کر خوبرو جوان ہیرو کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ جو کتاب کے بکھرے شیرازے سمیٹ کر انہی نازک انگلیوں کو ایسے رومانوی انداز میں تھما دیتی ہے، جہاں سے پریت کہانی جنم لیتی ہے۔ کبھی بے موسم باد صبا چل پڑتی ہے۔ جس میں ہیروین کے ریشم نما بال ہوا میں ایسے بکھر جاتے ہیں، گویا پوری کائنات اس کی سیاہ گھٹاؤں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اسی سمے ہیرو کا آ جانا اور ہیروئن کو بانہوں میں لے کر دل کش موسیقی میں محو رقص ہو جانا، انسان کے اندر جذبات کا رنگ بھر جاتا ہے، اندر ہی اندر حقیقی زندگی میں تخیل کے خاکے کے عین مطابق کسی کا انتظار ہونے لگتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ امی، سرسوں کے تیل کے وزن سے بھری سخت چوٹی کو اڑنے کی یہ شرارت کبھی نہ کرنے دے گی۔ اس وقت تخیل کا حقیقت میں ظہور پذیر ہونے کا یقین ہونے لگتا ہے۔ انتظار کے خاتمے کی امید دل میں جگہ گھیر لیتی ہے۔ نتیجتاً اصل میں یہ سب دھواں ہوتا ہے۔ ہم یقین یا بھروسے کی ڈور پکڑ کر اپنے جذبات کسی غلط ہاتھوں میں دیے جاتے ہیں۔ جن کا ہمارے جذبات کی تسکین سے کوئی واسطہ ہوتا ہے اور نہ ہی اسے فرق نہیں پڑتا ہے۔ یہاں سے مستقبل اور تمام آرزوئیں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ عزت نفس مجروح ہو جاتی ہے۔ خودکشی کے سنسان ویرانوں کی جانب اشارے ملتے ہیں۔ مستقبل کے بُنے شاندار خواب ادھیڑنے لگتے ہیں۔ زندگی ایک محدود دائرے میں چکر کاٹتی رہتی ہے۔
دلکش خوابوں میں اپنے آپ کو بے مثال تصور کرنے تصور کرنے پر مقصد حیات بنا لیتے ہیں۔ کائنات کے حقیقی وسیع میدان سے بھاگ کر خیالوں کے کنویں میں مینڈک کی منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ غیر حقیقی فکر سکون دیتی ہے، مگر یہ عمل سے ماورا ہوتی ہے۔ محض سوچ سے، کامیابی
نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ محض سوچ عمل میں بھی جمود لے کر آتی ہے۔
امیگڈالا دماغ کا وہ حصہ ہے۔ جو خیال میں جذبات کا رنگ بھرتا ہے۔ موبائل پر شاعر کی آواز کے پس آنے والی موسیقی، امیگڈالا کو غمزدہ حالات پیدا کرنے کا حکم دے کر، ٹھیک اچھے خاصے بے حس انسان کو بھی جذبات کا احساس دلاتی ہے۔ چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔
یہ عارضی سکون سم قاتل کی مانند ہے۔ اصل راحت، خیال کی جھونپڑی میں سر چھپانے سے کبھی نہیں ملتی، ہاں اگر حقیقت کی راہوں سے آشنائی حاصل کرے تو ملنے کی دیر نہیں ہوتی۔
خیال کو اصل میں بدلنے کے لیے محنت اور کوشش لازمی امر ہے۔
تخیل کی دنیا جتنی مختصر ہے، اس سے کئی گنا دلکش و دلچسپ ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو معافی ملنے کے بعد بھی دنیا میں بھیجا گیا عارضی ہی سہی، مگر بلا کی دلکشی رکھتی ہے۔ اسی طرح بچپن میں ہی انسان کو دو جہانوں کے درمیان لٹکا کر اصل اور نقل، عارضی اور مستقل کے دہرے چہرے سے الجھایا گیا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


