تاریخشخصیاتقومیگوشۂ ادبمذہبمعاشرہ

کیا لوگ جو راہِ جہاں سےگزرگئے

Spread the love

تحریر: صنوبر ناظر

(سندھ اور بالخصوص کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں یہودیوں کی آمد انیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی راج میں شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ بیشتر یہودی ایرانی نسل کے تھے۔ یہ تعلیم یافتہ اور خوش حال طبقہ تھا۔ کراچی کے علاقے منوڑا، گارڈن، لی مارکیٹ، لیاری، رنچھوڑ لائن، پان منڈی، سولجر بازار، جوڑیا مارکیٹ اور رام سوامی میں یہودیوں کے کئی محلے آباد تھے۔ پرانے کراچی کی سینکڑوں قدیم عمارتوں کے ماتھے پر آج بھی نشان داؤدی موجود ہے )

”سن 1890 کا کراچی۔ “

شام کے سائے گہرے ہو چلے ہیں۔ گرمی اور نمی کی شدت کو کراچی کی سمندری ہواؤں نے معتدل کر دیا ہے۔ نقشہ ساز ”موزز جے سومیک“ کی وسیع میز پر چاروں جانب کاغذات ہوا کے جھونکوں سے بکھرے جا رہے ہیں۔

موزز سومیک ”فلیگ اسٹاف ہاؤس“ کا نقشہ بنانے میں منہمک ہے۔ اس نے فلیگ اسٹاف ہاؤس کی ڈیزائننگ میں سمندری ہواؤں سے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔ فلیگ اسٹاف ہاؤس کا نقشہ تیار ہے جس میں ہوا داری اور روشنی کے لیے جا بہ جا کھڑکیاں، روشن دان موجود ہیں۔

” 2024 کا کراچی۔ “

میٹروپول ہوٹل کے چوراہے سے ذرا پہلے بائیں جانب ماضی کا فلیگ اسٹاف ہاؤس اور آج کا قائد اعظم ہاؤس میوزیم جہاں بجلی ناپید اور چھتیں بارشوں میں ٹپکتی ہیں۔ لائبریری جہاں برسوں سے کوئی پڑھنے والا نہیں آیا خستہ حال ہے۔

جون 1875 میں لاہور میں جنم لینے والے کراچی کے پہلے مشہور نقشہ ساز ”موزز جے سومیک“ ہیں جن کے آبا و اجداد کا تعلق سیفاردیک ( ہسپانوی یہودی) اور مزراہی ( عراقی یہودی) سے تھا۔ موزز نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کراچی میں گزارا اور انیس سو چالیس کے عشرے کے وسط میں لندن جا بسے۔ یہاں کی تعمیرات میں ان کا کردار انتہائی اہم ہونے کے باوجود آج کتنے لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ لکی اسٹار صدر پر واقع ”کراچی گوون فیڈریشن ہال، ماما پارسی اسکول، عبداللہ ہارون روڈ کا ایڈورڈ ہاؤس، کیماڑی پر قائم میولز مینشن، بندر روڈ کا خالق دینا ہال ( غالباً وکٹوریہ مینشن بھی)“ موزز سومیک کے فن تعمیر کے اعلی نمونے ہیں لیکن ان عمارتوں کی تزئین و آرائش یا تحفظ کرنا تو دور کی بات ہم تو اس شہر کے پہلے نقشہ ساز کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتے۔

”سن 1893 کا کراچی۔“

کراچی بلدیہ میں بطور سرویئر تعینات سولومن ڈیوڈ ایک محنتی اور ایماندار یہودی ہے۔ چند برس قبل سولومن نے اپنے ہم مذہبوں اور حکومت وقت کی مدد سے کراچی میں یہودی عبادت گاہ قائم کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا جو اب پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ زرد اینٹوں سے آراستہ اسرائیل مسجد کے بیرونی دروازے پر اردو، عبرانی اور انگریزی میں لکھے ”میگن شولوم سنیگاگ“ کا بورڈ آویزاں ہوتے دیکھ کر سولومن ڈیوڈ اور اس کی بیوی شیولا بائی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔

”سن 1902 کا یہودی قبرستان۔ “

سولومن ڈیوڈ کی آخری رسومات ادا کی جا چکی ہیں اور اب انھیں آخری آرام گاہ، کراچی کے قدیم قبرستان کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔ یہاں پارسیوں، مسیحیوں اور یہودیوں کے علاوہ مسلمانوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔ قبرستان میں درختوں، پھولوں کے پودوں کے درمیان ابدی نیند سونے والے ہزاروں انسانوں کی سنگ مرمر سے بنی قبریں ترتیب اور قیمتی کتبوں سے سجی ہوئی ہیں۔

”سن 2024 کا میوہ شاہ قبرستان“ ۔

پرانے حاجی کیمپ کے جنوب مشرق میں قائم کراچی کا قدیم قبرستان جسے میوہ شاہ قبرستان کہا جاتا ہے، اجاڑ اور ویران پڑا ہے۔ درختوں اور پھولوں پودوں کے بجائے وہاں کانٹے دار جھاڑیاں اُگ آئی ہیں۔ ان ہی جھاڑیوں میں گھرا ایک چھوٹا سا مقبرہ ہے، جس میں کراچی کی واحد یہودی عبادت گاہ شیلوم سنیگاگ بانی ”سولومن ڈیوڈ اور اس کی بیوی شیولا بائی“ کی خستہ حال قبریں موجود ہیں۔ بقیہ قبروں کے کتبوں سے بھی سنگ مرمر اور قیمتی پتھر نوچ لیے گئے ہیں۔

البتہ سینکڑوں قبروں پر آج بھی ستارہ داؤدی موجود ہے۔ میوہ شاہ قبرستان کی حفاظت پر مامور ایک بلوچ عورت اور اس کا بیٹا عارف، تلسی نازبو کے پتوں سے پھول چن کر الگ کر رہے ہیں۔ ”کبھی بھولے بھٹکے لوگ جو تصویریں بنانے کے بہانے اپنے پیاروں سے ملنے یہاں آتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ پر اچھی رقم رکھتے ہیں اور کسی خاص قبر پر بیٹھ کر گھنٹوں روتے ہیں۔ اب کراچی میں گنے چنے یہودی رہ گئے ہیں جو بہائی یا پارسی کی شناخت لیے جی رہے ہیں۔ اپنے پیاروں کو اب دفناتے بھی بہائی قبرستان ‘گلستان جاوید’ میں ہیں۔ “ بلوچ عورت کے وجود میں تلسی نازبو کی مہک رچی بسی ہے۔

” سن 1930 کا کراچی۔ “

معروف پارسی سماجی کارکن اردشیر ماما کا فلاحی ادارہ ماما پیلس نقصان میں جا رہا ہے۔ سائمن وائس کراچی کی ایک مشہور یہودی کاروباری شخصیت ہیں جو گریٹ ویسٹرن ہوٹل کے مالک ہیں۔ ان کے بیٹے سڈنی مارڈر کلارنی ہوٹل چلاتے ہیں۔ نقشہ ساز موزز سومیک کی شادی سائمن وائس کی بیٹی اور سڈنی مارڈر کی بہن ماریا سائمن سے ہوئی۔ سڈنی مارڈر نے ماما پیلس 1933 میں خرید کر اپنا ہوٹل یہاں منتقل کر دیا اور اس کو نام دیا ”کلارنی ہوٹل۔ مارڈر پیلس“ جو بعد میں فقط پیلس ہوٹل کہلایا۔

حالات نے پلٹا کھایا تو سڈنی مارڈر نے 1947 میں یہ ہوٹل بیچ کر بیرون ملک کی راہ لی۔ 1970 کے عشرے میں پیلس ہوٹل کی عمارت مسمار کر دی گئی اور اس کی جگہ شیریٹن ہوٹل بنائی گئی جو کہ اب موون پک کے نام سے جانا جاتا ہے۔

”سن 1939 کا کراچی۔ “

رنچھوڑ لائن کے مرکزی چوک پر ”میگن شولوم“ ( یہودی سنیگاگ یا عبادت گاہ ) میں آج کافی گہماگہمی ہے۔ شولوم رنگ برنگے قمقموں سے سجی ہوئی ہے۔ ہر عمر کی عورتیں اور مرد نئے اور دلکش ملبوسات زیب تن کیے ہوئے ہیں کیونکہ آج سمہاٹ تورہ ( Simhat Torah) کا آخری دن ہے۔ میگن شولوم کے عقبی حصے میں کھجور کے پتوں سے بنایا ہوا عارضی گھر سُکّا ( Sukkha) جہاں کچھ مرد عورتیں توریت پڑھ رہے ہیں جبکہ نوجوان یہودی لڑکے لڑکیوں کا ایک گروپ شولوم کے اندرونی حصے میں رقص اور مقابلے کے کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے۔ ان میں سے بیشتر کراچی گرامر اسکول کے طلبا و طالبات ہیں۔ صحن میں کھانے کے اسٹال بریانی، سموسوں اور آلو بھاجی سے سجے ہیں۔ میگن شولوم کو قائم ہوئے سو سال بیت چکے ہیں۔

برصغیر کی تقسیم اور اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد میگن شولوم پر کئی مشتعل حملے ہوئے۔ آگ بھی لگائی گئی۔ بالآخر 1988 میں یہودی مسجد کو مسمار ہی کر دیا گیا۔ صرف اس کا بورڈ ہوا میں معلق رہا۔

”سن 2024 کا کراچی۔ “

میگن شولوم کی جگہ اب مدیحہ اسکوائر کھڑا ہے۔ جہاں کے مکینوں کو غالباً اندازہ بھی نہ ہو کہ یہ زمین کبھی بنی اسرائیل کے عبادت خانے کے طور پر استعمال ہوا کرتی تھی جسے عرف عام میں اسرائیل مسجد کہا جاتا تھا۔

” کیا لوگ تھے جو راہِ جہاں سے گزر گئے“ (میر)

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *