کہانی بلا عنوان
تحریر امتہ الرشید بدر آزاد کشمیر
مین روڈ پر چلتے ہوئے اس کے قدم گویا من من بھاری ہو رہے تھے۔اپنے وجود کو گھسیٹ رہی تھی۔ابھی سڑک پر زیادہ بھیڑ بھی نہیں تھی۔ اس نے کچھ اور فاصلہ طے کرنا تھا۔اس کا ٹارگٹ لنک روڈ پر واقع آرمی پبلک اسکول تھا۔اسے گلیوں کے اندر سے ہوتے ہوئے مطلوبہ مقام پر پہنچنا تھا۔اس کے جسم پر بارودی مواد نصب کیا گیا تھا جو اس نے بچوں کے سکول میں اسمبلی کے وقت استعمال کرنا تھا۔اس کے نتیجے میں اس کی زندگی کا خاتمہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی گھروں کے چراغ بجھنے والے تھے۔چند لمحوں کے لیے وہ رکی۔شاید اس کے اندرکوئی احساس جاگا تھا۔نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔مجھےٹارگٹ پورا کرناہوگا۔میرے پیچھے میرے لیے کوئی ماتم کرنے والا نہیں ہے۔والدین کو دھوکہ دینے کا یہی انجام ہوتا ہے۔ان دیکھے لوگوں کے لیے اتنے خوبصورت رشتے قربان کر دیے۔ان کی آبرو کو مٹی میں ملا دیا۔ اچھی پر آسائش زندگی کے خوابوں کی تعبیر کے لیے کسی غیر کے اشارے پر اپنے قدم گھر سے باہر نکال دیے ۔لیکن آنے والے وقت کا نہیں پتہ تھا۔کون سی آزمائشوں سے اسے گزرنا پڑے گا۔جس دن وہ اپنے تئیں گھر سے آزاد ہوئی تھی۔اسی دن وہ ایک تنظیم کی قید میں چلی گئی۔جہاں فرقہ وارانہ تعصب اور قتل و غارتگری کی تعلیم دی جاتی تھی۔اسی کے نتیجے میں اج اسے یہ ٹاسک ملا تھا۔اس نے اپنی رفتار تیز کر لی۔
وہ سکول یونیفارم میں ملبوس تھی۔ماسک کی وجہ سے بھی اس کے اندر جانا مشکل نہ تھا۔ سکول بیگ کاندھوں پر لٹکائے وہ تیزی سے آگے بڑھی چند لمحوں کے بعد قیامت کا منظر تھا۔بڑی تعداد میں بچے زخمی اور بیسیوں شہید ہو گئے اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔دھماکے کی زمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کر لی تنظیم پہلے بھی اس طرح کے واقعات میں ملوث رہی تھی۔اور طریقہ واردات ایک ہی تھا۔چودہ سے سولہ سال کی طالبات کو موبائل فون کے ذریعے بلیک میل کرنا۔اور اس قدر برین واشنگ کرتے کہ لڑکیاں والدین کی عزت کو پامال کر کے اس تنظیم کے گھناونے کھیل کا شکار ہو جاتیں۔رابطے ہمیشہ نوجوان لڑکوں کے ذریعے ہوتے ۔دھماکہ کرنے والی کے گروپ میں تین لڑکیاں تھیں۔دو کو مخبری ملنے پر پولیس نے گرفتار کر لیا۔تفتیش کے مراحل سے گزرنے کے بعد ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔اس تنظیم کا نیٹ ورک بہت وسیع تھا۔دھماکوں کے ذریعےملک کی جڑوں کو کمزور کرنا۔ملک دشمن عناصر کی پشت پناہی کرنا اور ان کا ساتھ دینا ان کے اہم مقاصد تھے۔اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتے۔دونوں لڑکیاں مختلف شہروں سے تعلق رکھتی تھیں۔موبائل گیمز کے ذریعے ان سے رابطے بڑھائے گئے۔خوبصورت زندگی کے خواب دکھائے گئے۔اس کے لیے اغوا شدہ لڑکوں کو ہی استعمال کیا جاتا۔اور گزشتہ تین ماہ پچیس لڑکے لڑکیاں اس تنظیم کے ہتھے چڑھ گئے۔جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔برآمد کنندہ لڑکیوں کو ان کے والدین کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔لیکن وہ واپس جانے کے لیے راضی نہ تھیں۔کیونکہ جن صدمات سے وہ انہیں دوچار کر کے آئیں تھیں۔ اس کی وجہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں تھیں۔اس لیے دارلامان جانے کو ترجیح دی۔آج وہ اپنے آپ سے بھی نظر ملانے کا حوصلہ بھی نہیں تھا۔وہ اپنے والدین کا مان اور بھروسہ تھیں۔اور اس بھروسے کی چادر کو تارتار کرنے کے بعد ان کے سر ننگے تھے اور ہاتھ خالی تھے۔۔آج وہ تینوں اس سب کا زمہ دار والدین کی نصیحتوں پر عمل نہ کرنے اور موبائل فون کے ناجائز استعمال کو ٹھہرا رہی تھیں۔
۔پاس بیٹھی ایک خاتون نے بڑی شفقت سے کہا بیٹا اللہ تعالیٰ نے اسی لیے نماز کا حکم دیا ہے کہ ہر نماز میں اھدنا الصراط المستقیم کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے ہدایت کے راستے پر چلانے کی دعا مانگیں۔۔۔اس سے گناہوں کی بخشش کی دعا مانگیں۔بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا ھے۔۔۔۔۔آج ان کے ذہنوں سے پردے ہٹ گئے تھے وہ تینوں وضو کرنے کے لیے چلی گئیں تاکہ وہ اپنے گناہوں کا مداوا کر سکیں۔


