شخصیاتگوشۂ ادبمتفرقمدیرہ کی ڈاک

یومِ اقبال

رپورٹ: عیشا صائمہ نمائندہ آبگینے
 ڈاکٹر راشد حمید واہ کینٹ میں والینٹیر فورم کے زیر اہتمام یومِ اقبال کی شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا مہمان خصوصی ادارہ فروغِ قومی زبان اردو ایکزیکیٹو ڈائریکٹر، چیف ایڈیٹر اخبار اردو اور ماہر اقبالیات بھی ہیں  نظامت کے فرائض عفت رؤف نے ادا کیے۔
بچوں نے تلاوت ونعت کے بعد اپنی  خوب صورت آوازوں میں کلام اقبال پیش کیا..ایف جی کالج واہ کینٹ کے طالب علم نے اس دن کی مناسبت سے کلام اقبال “ہر لحظہ ہے مومن کی نئ شان نئ آن”اور طلباء عدیلہ شاہ نے  “لا پھر اک بار وہی باداوجام اے ساقی” پیش کر کے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا – کچھ سکول و مدرسے کے طلباء نے علامہ محمد اقبال کی شاعری اور شخصیت کو اجاگر کیا اور ان کے تصور خودی کے بارے میں لہو گرما دینے والی تقاریر کیں – اس کے بعد شرکاء محفل نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں ایڈیٹر اور رپورٹر سید مشتاق نقوی  جنہوں نے علامہ اقبال کے اس شعر میں ساری بات کہہ دی 
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں 
7 2 1
اس کے بعد پاکستان یوتھ لیگ کے روح رواں “محترم عابد حسین” نے بتایا   یوتھ لیگ کی بنیاد  ثریا شہاب نے رکھی  اور ادبی سرگرمیوں کا ایک  سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک جاری و ساری ہے  یہ لیگ کامیابی سے بہت سے قیمتی ہیروں کو متعارف کراچکی ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو۔
اس کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے اس سلسلے کی پہلی تقریب اقبال ڈے کے حوالے سے ہے – ” آپ نے مہمان خصوصی سمیت سب کا شکریہ ادا کیا – اس کے بعد واہ میں تعلیم و اردو زبان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت پرنسپل کینٹ کالج  “محترمہ درخشندہ  اکرم” نے اقبال کی خودی کے تصور کو خوب صورت انداز میں بیان کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ” علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں ہر پہلو کو سمویا ہے جیسے اللّٰہ تعالی نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے قرآن پاک میں زندگی گزارنے کے ہر پہلو کے بارے میں بتایا – اسلیے ہم کہہ سکتے ہیں علامہ اقبال کی شاعری ضمیروں کو جھنجھوڑنے کے لیے اور اللّٰہ تعالیٰ کا پیغام ہم تک پہچانے کے لیے تھی  جیسا کہ وہ اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں – 
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی 
تو اگر میرا نہیں بنتا  نہ بن اپنا تو بن 
اس میں ان کا کہنا یہ ہے کہ انسان اپنے بارے میں جانے اپنے آپ کو پہچانے اور ہم دیکھیں کہ ہم ہیں کیا؟ اور ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے؟ اور اس مقصد کو جاننے کے لئے ہم نے ان کے خودی کے پیغام کو سمجھنا ہے انہوں نے یہاں اشفاق احمد کا ایک قول شئر کیا.. “وہ کہتے ہیں عشاء کی نماز کے بعد دس منٹ کمرے میں بیٹھ جائیں اور خود سے پوچھیں آپ کون ہیں؟ آپ کا مقصد کیا ہے؟ سارا دن آپ نے کیا اچھا کام کیا؟ کیا برے کام کئے؟ اور ان میں سے برائیوں کو نکال کر اچھے کام اپنائیں ان کو سرانجام دینے کی کوشش کریں..یہ سب خودی کے ذریعے ممکن ہے انہوں نے کہا خودی کے تین مراحل ہیں – 1.اطاعت.  یعنی ہم مسلمان ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنی ہے – 
2.ضبط نفس.نفسانی خواہشات کو کنٹرول کر کے ہم اللّٰہ کی اطاعت کرتے جائیں اور 3-نیابت الٰہی یعنی اللّٰہ کا نائب ہونے کی حیثیت سے اپنے مقام، اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھتے ہوئے زندگی گزاریں تاکہ ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو – 
انہی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے “محترم پروفیسر ہاشم” نے کہا کہ اقبال
نے قرآن و حدیث، اسلامی تاریخ اور اسلامی مفکرین کا مطالعہ کیا ان کے شاعری اور فکری انقلاب کو دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے وہ انسان کو اشرف المخلوقات کے اس درجے پر دیکھنا چاہتے ہیں جس میں وہ مرد مومن ہونے کا حق ادا کرے اور اپنی زندگی عشق خدا اور عشق رسول میں گزار دے یہ ہی اس کی کامیابی ہے- 
7 3
اور آخر میں مہمان خصوصی” ایگزیکٹو ڈائریکٹر ادارہ فروغِ قومی زبان” ڈاکٹر راشد حمید” نے بہت ہی سادہ مگر پر اثر  انداز میں علامہ اقبال کے حوالے سے بتایا کہ ان کی ایک دعا لب پہ آتی کو ہی لے لیجیے اس کے مضامین پہ غور کیجیے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ علامہ اقبال کتنے بڑے شاعر ہیں ان کا ہمارے پاس ہونا کسی نعمت سے کم نہیں دنیا میں کوئی ایسا شاعر نہیں جس کا کلام تواتر سے پڑھا جا رہا ہو اور دنیا میں کوئی ایسا شاعر نہیں جس کی شخصیت اور فن پر ڈھائی ہزار سے زائد کتابیں لکھی گئ ہوں دنیا میں آپ کو کوئی ایسا فلسفی نظر نہیں آئے گا جس کے فلسفے کی بنیاد پر دنیا کے خطے پر ایک ملک نمودار ہوا جس کا نام پاکستان ہے ان کا کہنا تھا 1930ء کا خطبہ الہ باد بچوں اور بڑوں کو بار بار پڑھنا چائیے وہ آپ کو اپنی تہذیب سے آگاہ رکھے گا انہوں نے اردو زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کا دشمن آپ کو تہذیب سے کاٹنا چاہے تو وہ سب سے پہلے آپ کی زبان پہ وار کرے گا اس کی سادہ سی وجہ ہے کہ آپ کا علمی، مذہبی، تہذیبی ورثہ اردو زبان میں محفوظ ہے اردو دنیا کی واحد زبان ہے جس میں قرآن پاک کی سب سے زیادہ تفسیریں لکھی گئ ہیں آپ ایک ایسی زبان کے وارث ہیں جس کو دنیا کی کسی بھی زبان کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے – اور دنیا کی بڑی زبانوں میں اس کا شمار ہوتا ہے.. اگر اردو زبان کسی کو نہیں پسند تو وہ ہماری اشرافیہ ہے جو انگریزی زبان کے ذریعے آپ پر حکومت کرنا چاہتے ہیں ان کا کہنا تھا اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے اس کے لئے جگہ بنائی جائے اسے دفتری زبان بنایا جائے- کچھ لوگ کہتے ہیں اردو خطرے میں ہیں تو میں کہنا چاہوں گا اردو کو کوئی خطرہ نہیں یہ عوام کی زبان ہے اور اسے کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو  سکتا – باران پاکستان بہت زیرک لوگ تھے مُحب وطن تھے دکھ درد رکھنے والے لوگ تھے انہوں نے اسے سوچ  سمجھ کر قومی زبان قرار دیا اور آئین پاکستان میں اسے   دفتری زبان قرار  دینے کا وعدہ کیا جو ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا – ایک لفظ ہے پولیٹیکل ول جب تک نہیں ہو گی اردو کا نفاذ ممکن نہیں ہو سکتا..
بنگال جہاں سے پاکستان بنانے کی تحریک کی ابتداء ہوئی تھی اسے کاٹ کر ہم نے الگ کر دیا ہے اوراس خطے سے جہاں اردو سے محبت کی تحریک چلی تھی یعنی  سندھ کا علاقہ آج وہیں سے اردو کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں – میں سمجھتا ہوں یہ ناعاقبت اندیش سیاستدان یا بری نیت رکھنے والے سیاستدان یہ ان کی وجہ سے ہو رہا ہے اور پاکستانیوں کے بنیادی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے کہ اردو میں بات نہ کی جائے “انہوں نے مزید کہا” کہ مقابلے کا امتحان انگریزی میں ہوتا ہے جبکہ میرے دیس کے بچوں کو اردو زبان آتی ہے اگر یہ امتحانات اردو میں ہونگے تو یہ اشرافیہ کے بچوں کا مقابلہ کریں گے جنہیں ہم پر حکومت کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے جنہیں انگریزی سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے تاکہ وہ ہم پر حکومت کر سکیں لیکن ہمارے ضمیر کی جنبش اتنی کمزور ہے کہ ہم صرف گھر پر بیٹھ کر بات تو کرتے  ہیں لیکن بار بار اس مطالبے کو نہیں دہراتے جب لوگ ہمارے پاس ووٹ مانگنے آتے ہیں تو تب بھی ہم اپنا مطالبہ نہیں دہراتے بلکہ ہم اپنی گلیاں پکی کرانے  اور سڑک بنانے کا تو کہتے ہیں لیکن تہذیب کو زندہ رکھنے کے لئے جو مطالبہ کرنا ہم پر واجب ہے ہمیں وہ یاد نہیں رہتا یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا کی دوسری قوموں سے کوسوں پیچھے ہیں یہ مسئلہ تب تک حل نہیں ہو گا جب تک ہمارے ضمیر کی جنبش علامہ اقبال کے فکر کے مطابق نہیں ہوگی علامہ اقبال کا کہنا یہی ہے کہ 
نشاں یہ ہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا 
کہ صبح و شام بدلتی ہیں جن کی تقدیریں 
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا ہمیں نئ نسل کو کیا جواب دینا ہے؟ کس طرح کا پاکستان ہم ان کو دے کر جائیں گے؟ اس کے لئے ہم کو کام کرنا ہو گا – ہم سرکاری نوکری اس لیے ڈھونڈتے ہیں کہ ہمیں کام نہ کرنا پڑے اور مہینے بعد تنخواہ بیٹھے بٹھائے مل جائے – اگر کوئی افسر بن جائے اور کام کرنے لگے تو لوگ اس کو طعنے دیتے ہیں 
کہ تم افسر بن گئے ہو پھر بھی کام کرتے ہو تو فائدہ کیا ہوا؟ علامہ اقبال کا کہنا ہے جب تک آپ کام نہیں کریں گے رزق حلال نہیں کریں گے اسوقت تک قوم نہیں بن پائیں گے – ایک شعر بہت ضروری ہے یہاں کہنا – 
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم 
کرتی ہے  جو ہرزماں  اپنے عمل کاحساب
یعنی جب تک آپ اپنے عمل کا حساب نہیں کریں گے ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہو سکتے- آخر میں انہوں نے فلسطین کی موجودہ صورتحال پہ علامہ اقبال کے چند اشعار پڑھے
شیرازا ہوا ملت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا تیرا مسلماں کدھر جائے
ان کا کہنا تھا ہم اب بھی کربلا میں جی رہے ہیں ویسے ہی حالات ہیں.. اسوقت
کربلا کی خوش نصیبی تھی کہ امام انہیں نصیب تھے اب ہم خالی ہاتھ ہیں لیکن امام کا فکر ہمارے پاس ہے جو چلتا ہوا اقبال تک آیا ہے اور ایک نعمت کی صورت ہمارے پاس موجود ہے اختیار ہمارے پاس ہیں کہ اب ہم نے کیا کرنا ہے-
ہر چند ہے وہ لذتِ آشوب نہیں بحر عرب میں
پوشیدہ جو ہے مجھ میں وہ طوفاں کدھر جائے
ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اس کوہ و بیاباں سے حدی خوان کدھر جائے
اس راز کو اب فاش کر اے روح محمد
آیات الہی کا نگہبان کدھر جائے!
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *