عورتمتفرق

ہم لڑکیوں کی دوستی

Spread the love

تحریر: رابعہ سرفراز چودھری

جب لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں تو سب سے پہلے ان کی دوستیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ لڑکیوں کی دوستی کو مذاق اور ٹھٹھے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کی دوستی کو حسد اور کپڑوں جوتوں کی سیاست کے نام دے رکھے ہیں مگر حقیقت تو ہمیں معلوم ہے۔ جو محبت سہیلیوں کو ایک دوسرے سے ہوتی ہے، وہ تو کبھی عام کی ہی نہیں گئی۔ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں مگر ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ ہم دوسری محبتوں کو ہی بس محبت سمجھتی ہیں کہ ہمیں بتلایا سکھلایا ہی یہی ہے۔

بہت ممکن ہے کہ لڑکیاں محبت کو غلط جگہ تلاش کر رہی ہوتی ہیں۔ ہم لڑکیوں کو بس بتا دیا گیا ہے کہ محبت کہاں اور کیسے تلاشنی ہے۔ اس میں سامنے والے کا بھی قصور نہیں ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ہمیں اصل میں محبت کے معنی ہی نہ معلوم ہوں اور گمراہی میں ایک دوسرے کو ضرب لگاتے آئے ہوں۔

مگر لڑکیوں کو معلوم نہیں کہ محبت ہے کیا اور یہ ملتی کہاں ہے۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ لڑکیاں محبت غلط وقت پر تلاش کرتی ہیں یا غلط لوگوں میں تلاش کرتی ہیں۔ ہماری محبت پانے کی امیدیں غلط راہ پر گامزن ہو سکتی ہیں۔ شاید محبت اور شفقت کو غلط صنف میں ہی تلاش کیا جاتا ہے۔ یہاں محبت کا تعلق جسمانی کشش سے نہیں ہے۔ معمولی سمجھے جانے والے اظہار میں ہے۔

کچھ عرصہ قبل، میرے گھر پر ڈاکیہ کچھ چیزیں دے کر گیا۔ وہ بڑا سا لفافہ تھا، معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے سامان بھیجا تھا۔ لفافہ کھولا تو اس کے اندر سے پھولوں کی خوشبو آ رہی تھی، ساتھ ہی اس میں ملائی جیسے سفید رنگ کا ریشم کا بے حد نرم و ملائم غرارہ تھا جس پر کہیں کہیں خاص نظم سے سنہری پٹیاں سلی ہوئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہلکے گندمی رنگ کا نہایت ہی خوبصورت دوپٹہ موجود تھا۔ صرف یہی نہیں ریشم سے بنی مختلف رنگوں کی بالوں کو باندھنے اور چرمرانے والی پونیاں، ہاتھوں میں پہننے کے لئے کنگن، اور غرارے کی قمیض کے لئے الگ سے سنہرا تکمے (بٹن) بھی اس ہدایت کے ساتھ موجود تھے کہ یہ قمیض پر بہت اچھے لگیں گے۔

یہ تحائف میری بچپن کی دوست نے کراچی سے بھیجے تھے۔ غرارہ خود سی کر بھیجا گیا تھا۔ اس لفافے میں اس نے اپنے ابا کی جوانی کے دنوں کے خوبصورت کتابچے سے صفحہ الگ کر کے میرے لئے بے حد خوبصورت تحریر میں خط بھی لکھ کر بھیجا ہوا تھا۔ وہ کتابچہ ہماری پیدائش سے بھی پہلے کا ان کے پاس موجود تھا۔ اسی کے ہمراہ سورج مکھی کے پھول کی ہاتھ سے بنائی گئی نہایت ہی عمدہ تصویر بھی تھی۔

تحائف کو ایک جانب رکھنے کے بعد میں ان سنہری تکموں کا سوچ رہی تھی۔ نہایت چھوٹے سے لفافے میں موجود وہ تکمے بہت بڑے جذبات کا عکاس تھے۔ کوئی انسان کیسے کسی کی اتنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال رکھ سکتا ہے وہ بھی صرف اور صرف محبت اور دوستی کے رشتے کے توسط سے؟ میں کسی سے محبت کا اظہار کروں تو میں اس کی چھوٹی چھوٹی چیزوں اور خوشیوں کا ایسے ہی خیال رکھوں گی۔ جیسے میری سہیلی کو خیال تھا کہ غرارے کی قمیض کے ساتھ وہ سنہری تکمے دلکش لگیں گے۔ اگر مجھے کسی سے محبت چاہیے ہو تو میں اس سے اپنی ایسی ہی چھوٹی چھوٹی عام سی ضرورتوں کو پوری کرنے کی توقع رکھوں گی۔ مجھے ایسے ہی ضرورتوں کو مدنظر رکھنے سے خوشی ملے گی۔ یہاں سوال چیزوں کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ کسی کو اتنی چھوٹی سی بات کا بھی احساس ہو سکتا ہے۔

کچھ روز قبل، میری دفتر کی سہیلیوں سے ملاقات ہوئی۔ کام کرنے کی جگہ سب آپ کے رفیق اور خیرخواہ نہیں ہوتے مگر میں خوش نصیب تھی کہ مجھے ایسے دوستوں کی رفاقت ملی۔ مجھے سورج مکھی کے پھول بہت پسند ہیں۔ گزشتہ سال ملک سے باہر کچھ وقت گزارنا پڑا تو پاکستان میں جابجا کھلے سورج مکھی کے پھولوں کی بھی خوب یاد آئی۔ میری دفتر کی رفیقہ نے رحیم یار خان سے میرے لئے پھول توڑ لیا مگر پاکستان واپس آنے پر بھی ہماری ڈیڑھ سال تک ملاقات نہ ہو پائی۔ بس اب جب ہماری ملاقات ہوئی تو میرے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس نے جو دیدہ زیب لفافہ مجھے تھمایا تھا اس میں رحیم یار خان سے سنبھالا ہوا سورج مکھی کا پھول تھا جو کتاب میں رکھا رکھا سوکھ چکا تھا مگر اس کی جاذبیت اور خوش رنگی ابھی بھی باقی تھی۔

ان دو باتوں کا حوالہ دینے کا میرا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے لڑکیوں کا محبت کرنا اور اس کو ڈھونڈنا۔ محبت چیزوں سے نہیں اظہار اور جذبات سے منسلک ہوتی ہے۔ ہم لڑکیاں اصل محبت کو کہیں اور تلاش کرتی ہیں۔ ہمیں دوسری چیزیں خوش کرتی ہیں۔ ہم نے محبت کی تعریف بھی ایسے بنا رکھی ہے جس میں سامنے والے اور آپ کا نقصان ہوتا ہے۔ ادب نے محبت کے دو ہی روپ بتائے ہیں۔ وہ دونوں ہی لاحاصل ہیں۔ محبت کے نام پر ہم دکھ اور رنج ہی سینچتے ہیں۔

محبت کو دوسری صنف میں ہی ثبت کر رکھا ہے، ایک ہی رشتے میں رومانس کو زبردستی قید کر رکھا ہے۔ قید ہے تب ہی اس میں ظلمت بھی ہے اور تنہائی بھی، پابندیاں ہیں اور شبہات بھی، پہرے بھی ہیں اور جانبدارانہ تلخ فیصلے بھی۔ وہ محبت جو ہم صرف ایک جگہ ہی تلاشتے تھک جاتے ہیں وہ تو ہمارے روبرو ہماری ان سکھیوں اور سہیلیوں کے سچے رویوں، پرخلوص جذبوں میں ہے۔ سالہا سال نہ بھی ملا جائے تو اپنائیت، ساتھ، اور انسیت باقی رہتی ہے۔

رابطے ٹوٹنے پر اجنبیت کی پرچھائی تو سایہ نہیں کرتی، ساتھ ٹوٹنے کا خوف تو نہیں رہتا، ذرا برابر بحث پر رشتہ تو نہیں ٹوٹ جاتا۔ لڑائی ہو بھی جائے تو منانے کی بے چینی سانس تو نہیں روکتی، راتوں کی نیندیں نہیں اڑتی نہ وہ ہمارے برے خوابوں کا باعث بنتی ہیں۔ سکھیوں سہیلیوں کی رفاقتوں میں کوئی خوف نہیں ہوتا، سینے میں درد نہیں اٹھتا، وحشتیں چھاتی ہیں نہ دہشت طاری ہوتی ہے، ہاتھ کانپتے ہیں نہ ہزاروں آنسو بہتے ہیں۔

ہم نے کیوں دوستی میں رومانس نہیں رکھا؟ رومانس کا تعلق جسم سے نہیں کسی کے بس ہونے سے تحفظ کے احساس سے ہے۔ جس محبت کی پیاس بجھانے ہم خلوص کے صحراؤں اور انسیت کی قحط زدہ بستیوں میں بھٹکتے ہیں، اس کے جام تو ایک پیغام اور ملاقات کی دوری پر ہماری سہیلیاں تھامے رکھتی ہیں۔ وہ تپتی دھوپ میں یخ شربتوں سے ڈولتے پیالے ہمارے ہمراہ اٹھائے چلتی ہیں اور ہم دیکھ ہی نہیں پاتے۔ جو محبتیں ہم لڑکیوں کو سماج کی اکائیاں دینے سے قاصر ہیں، وہ ہم نے ارتقا سے خود میں اپنے لئے ہی پیدا کرلی ہیں، بس ہمیں اس کا گمان نہیں ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *