متفرق

غزل— گلنار آفرین

-شاعرہ : گلنار آفرین

اے شہر ستم پیشہ بتا کس کو صدا دوں
اب کون رہا ہے جسے پیغام وفا دوں

شامل مری سانسوں میں ہے صدیوں کی اذیت
آ گردش دوراں میں تجھے بھی تو دعا دوں

اشکوں کے گہر بھی تو نہیں پاس مرے اب
میں سوچ رہی ہوں غم دوراں تجھے کیا دوں

ڈرتی ہوں بکھر جائے گی خاکستر جاں بھی
بجھتے ہوئے شعلوں میں تمہیں کیسے ہوا دوں

وہ لوگ جو سرگرم تکلم ہیں سر بزم
کیسے انہیں آداب تکلم کے سکھا دوں

اے رات سرابوں کے سوا کچھ نہ ملے گا
میں دن کے اجالے میں اگر شمع جلا دوں

گلنارؔ سر شاخ چمن لالہ و گل کو
دے دے وہ اجازت تو مہکنے کی ادا دوں

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *