غزل: آسان نہیں ہوتا
شاعرہ: امۃ الباری ناصر۔ امریکہ
ہر رات گزر جانا آسان نہیں ہوتا
ہر درد کو سہہ لینا آسان نہیں ہوتا
جب قلب کا شیرازہ یوں درہم و برہم ہو
پھر جیتے چلے جانا آسان نہیں ہوتا
کہہ دیتی ہیں بے جھجکے جو دل پہ گزرتی ہے
آنکھوں کو بھرم رکھنا آسان نہیں ہوتا
ہو ایسی ادا کوئی جو اس کو پسند آئے
روٹھے کو منا لینا آسان نہیں ہوتا
احسان فراموشی ماں باپ کی مت کرنا
خون رگ جاں دینا آسان نہیں ہوتا
جس باغ کو سینچا ہو برسوں کی مشقت سے
مٹی میں ملا دینا آسان نہیں ہوتا
ہوتا ہے بہت کڑوا یہ جان کی بازی ہے
ہرحال میں سچ کہنا آسان نہیں ہوتا
سفاک رویوں کو ضد اور تعصب کو
خاموشی سے پی جانا آسان نہیں ہوتا
ہو فضل تو ممکن ہے ہو صبر تو ممکن ہے
دشمن کو دعا دینا آسان نہیں ہوتا
یہ سچ ہے کہ گر جائیں تو مولا اٹھاتا ہے
پر خود کو گرا لینا آسان نہیں ہوتا


