شعر و شاعری

غزل

شاعرہ: فوزیہ عباس شاہ سمّی۔ شارجہ

 

منفرد زمین پہ ایک کوشش۔۔

جانتی ہوں لکیروں بھرا یہ مقدر بھی قسمت کی پرکار سے تیز ہے

عشق میں بھی اناؤں کی چادر تمہارے قبیلے کی دستار سے تیز ہے

 

کچھ پرندے جو سہمی شکستہ سی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں یہ مغموم ہیں

جانتے ہیں سبھی آج پھر ایک آندھی کی رفتار ،اشجار سے تیز ہے

 

منجمد حوصلے ،رقص میں آبلے درد بڑھنے لگا ہے تو پھر کیا ہوا

وقت مرہم لگاتا رہے گا مگر اس کی مرہم بھی تلوار سے تیز ہے

 

عمر پھولوں میں جیسے گزاری گئی زندگی خوشبوؤں سے سنواری گئی

ہائے لہجہ ترا جو سماعت چھوئے خار سے تیز ہے خار سے تیز ہے

 

خواہشوں کے ادھورے بدن مٹ گئےدن جدائی کی آغوش میں کٹ گئے

کرب سانسوں میں اترا تو شعلہ ہوا آنچ بھڑکی ہوئی نار سے تیز ہے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *