اسلامی تعلیماتتاریختعلیمشخصیات

سخاوت و مہربانی اور اسلامی تعلیمات

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ مخلوقِ الٰہی میں سب سے بڑے دریا دل اور سخی تھے۔ آپؐ برسنے والے بادل اور موسلادھار بارش کی طرح تھے۔ خرچ کرنے میں تیز آندھی سے بھی بڑھ کر تھے۔ ایسے لٹاتے کہ فقر کا ڈر نہ ہوتاتو اُدھار لے کر بھی خرچ کرتے اور اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کو دے دیتے۔ مال غنیمت آتا تو سارا تقسیم کر دیتے۔ اپنے پاس کچھ نہ رکھتے۔ ہر آنے والے کیلئے آپﷺ کا دستر خوان کھلا تھا اور آپ کا گھر ہر اجنبی کے لئے پناہ گاہ تھا۔ آپؐ مہمان کی تکریم کرتے۔ بھوکے کو کھانا کھلاتے۔بے لباس کو لباس فراہم کرتے، جس کا کوئی کمانے والا نہ ہوتا اس کا ذمہ خود اٹھاتے۔ ضروت مندکی مدد کرتے ،پریشان حال کا مداوا کرتے اور زمانے کی آفات میں لوگوں کی داد رسی کرتے۔ محتاج اور ضرورت مند کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے۔ ہر کسی سے صلہ رحمی کرتے۔ بے گھر کو جگہ دیتے۔ محتاج کی مدد کرتے۔ اجنبی کو سینے سے لگاتے۔ مسکین کے ساتھ نرمی کرتے۔ یتیم کی کفالت کرتے اور کمزور پر ترس کھاتے۔ آپ ﷺ جود و کرم کی علامت تھے۔

نبی کریم ﷺ نے مال خرچ کرنے، دوسروں کو نوازنے اور عطا کرنے کا حکم دیاآپﷺ عطا کرکے سائل سے زیادہ خوشی محسوس کرتے۔ آپؐ دیتے ہوئے مسکراتے۔ آپؐ کی رُوح سخاوت کے لئے بے تاب ہوتی۔ آپؐ کا دل خرچ کرنے سے باغ باغ ہوتا اور آپؐ کا ہاتھ سخاوت کرتے ہوئے خوش ہوتا۔ آپ ؐکے پاکیزہ دل سے سخاوت اور جود و کرم کے دریا بہتے۔ آپﷺ کے بارے میں کہیں نہیں ملے گا کہ آپؐ کبھی مہمان یا سائل سے اُکتائے ہوں یا کسی طلب کرنے والے سے گھٹن محسوس کی ہو۔

عرب کے بڑے بڑے نامور سخیوں کا بھی آپؐ سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آپ ﷺ جو بھی دیتے، وہ بغیر کسی دنیاوی مفاد کے صرف اللہ کیلئے دیتے اور اس طرح جود و سخا کرتے جیسے کوئی شخص اپنا جان و مال اور ہر چیز کو اپنے مولا و پروردگار کی راہ میں لٹا دے۔ آپ ﷺ کائنات کے سب سے بڑے سخی، دل کے فیاض اور طبعی طور پر سب سے زیادہ معزز تھے۔

نبی کریم ﷺ نے مال خرچ کرنے، نوازنے اور عطا کرنے کا حکم دیا۔ جود و سخا کی ترغیب دی اور فرمایا:’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے‘‘(صحیح مسلم، الایمان، حدیث47:)۔آپﷺ اپنے صحابہ کرام ؓ کو بخل سے ڈراتے، کنجوسی کی نحوست سے خبردار کرتے اور انہیں آگاہ کرتے کہ یہ بہت بڑا گناہ اور خطرناک غلطی ہے، چنانچہ آپﷺ نے فرمایا:’’جب لوگ صبح کرتے ہیں تو دو فرشتے اُترتے ہیں۔ ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو نعم البدل عطا کر اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! کنجوس کو تباہ و برباد کر‘‘(صحیح البخاری الزکاۃ، حدیث1442)

سید نا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:’’انصار میں سے چند لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مال کا سوال کیا تو آپﷺ نے انہیں دے دیا۔ انہوں نے دوبارہ مانگا تو آپؐ نے پھر دے دیا۔ انہوں نے پھر دستِ سوال پھیلایا تو آپ نے پھر عطا فرما دیا، یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا، سب ختم ہو گیا‘‘۔(صحیح البخاری، الزکاۃ، حدیث 1469)۔

ایک دن آپﷺ نے نئے کپڑے زیب تن کئے تو ایک ضرورت مند نے وہ مانگ لئے۔ آپ نے وہ سائل کو دے دیئے اور خود پرانے کپڑے پہن لئے۔ سید نا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:ایک عورت نبی کریم ﷺ کیلئے تیار شدہ حاشیہ دار چادر(بُردہ) لائی۔ سہلؓ نے پوچھا: تمہیں معلوم ہے کہ ’’بردہ‘‘ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا: چادر کو کہتے ہیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ الغرض عورت نے کہا: میں نے یہ چادر اپنے ہاتھ سے تیار کی ہے اور آپ ﷺ کو پہنانے کیلئے لائی ہوں۔ نبی کریم ﷺ کو اس وقت ضرورت بھی تھی، اس لئے اسے قبول فرما لیا۔ ایک شخص نے اس کی تعریف کی اور کہنے لگا کیا ہی عمدہ چادر ہے! یہ مجھے عنایت کر دیجئے۔ لوگوں نے اس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے انتہائی ضرورت کے پیش نظر اسے قبول کیا تھا مگر تو نے اسے مانگ لیا ہے اور تجھے علم ہے کہ آپ ﷺ کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اسے پہننے کیلئے نہیں مانگا بلکہ اس لئے مانگا ہے کہ وہ میرا کفن بنے‘‘۔(صحیح البخاری الجنائز، حدیث 1277)۔

آپﷺ عطا کرکے سائل سے زیادہ خوشی محسوس کرتے۔ آپؐ دیتے ہوئے مسکراتے۔ آپؐ کی روح سخاوت کے لئے بے تاب ہوتی۔ آپؐ کا دل خرچ کرنے سے باغ باغ ہوتا اور آپؐ کا ہاتھ سخاوت کرتے ہوئے خوش ہوتا۔ آپ ؐکے پاکیزہ دل سے سخاوت اور جود و کرم کے دریا بہتے۔ آپﷺ کے بارے میں کہیں نہیں ملے گا کہ آپ کبھی مہمان یا سائل سے اکتائے ہوں یا کسی طلب کرنے والے سے گھٹن محسوس کی ہو بلکہ ایک دیہاتی نے آپ کی چادر کھینچی حتیٰ کہ آپ کی گردن مبارک پر نشانات پڑ گئے اور اس نے کہا ’’ اے محمد(ﷺ)! آپ کے پاس جو اللہ کا مال ہے اس میں سے مجھے دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا، مسکرائے، پھر اسے دینے کا حکم دیا۔(صحیح البخاری، اللباس، حدیث5809)

اللہ اکبر! یہاں حلم و کرم اکٹھا ہو گیا۔ حلم کی بہترین تصویر اور جود وکرم کا خوبصورت مظہر اور یہ صرف نبوت و رسالت کی چادر میں اکٹھا ہو سکتا ہے۔ اللہ کی طرف سے درودو سلام ہو اس فیاض و کریم اور عفو ودر گزر کرنے والے حلیم ﷺ پر۔غور کریں کہ کیسے آپﷺ نے ایک سخت گیر اور اکھڑ مزاج دیہاتی پر صدقہ و خیرات کیا جس نے نہ تو آپ ﷺ کا حق ادا کیا نہ آپ کی قدر و منزلت کو پہچانا! اس کی جفا اور ناقدری کے باوجود اس پر ساری نوازشیں کیں اور اول و آخر اس سے نیکی اور حسن سلوک کیا۔ آپﷺ دل، ہاتھ اور زبان سے مہربان تھے۔ ظاہر و باطن اور ہر روپ میں کریم تھے۔ جودوکرم کی ایسی مجسم تصویر تھے گویا یہ آپؐ کی عادات و شمائل کا دوسرا نام ہے اور سخاوت و عنایت آپ ؐکے عطیات و فضائل کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔

آپﷺ کا جود و کرم دل، ہاتھ اور اخلاق کے جود و کرم پر مشتمل ہے اور اسی پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو پروان چڑھایا ہے۔ سید نا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ نماز عصر نبی کریمﷺ کے پیچھے مدینہ منورہ میں ادا کی۔ جب آپؐ نے سلام پھیرا تو جلدی سے کھڑے ہو گئے اور حجرے کی طرف تشریف لے گئے۔ لوگ آپؐ کی اس سرعت سے گھبرا گئے۔ بہر حال آپؐ ان کے پاس واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ آپؐ کی عجلت کی وجہ سے تعجب میں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ سونے کی ایک ڈلی جو ہمارے پاس تھی، مجھے اس کی یاد آ گئی۔ میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ کہیں وہ مجھے اللہ کی یاد سے روک نہ دے، لہٰذا میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا‘‘۔(صحیح البخاری الأذان، حدبء 851)۔

آپﷺ کا ہاتھ سخاوت کی وجہ سے اس قدر کھلا تھا کہ کوئی چیز آپؐ کے پاس نہ بچتی۔ خود بھوکے رہ کر بھی لوگوں کو کھلاتے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا تو آپ نے اپنی بھوک کی پروا کیے بغیر وہ دودھ پہلے صفہ کے ان مساکین کو پلایا جو آپؐ کی مسجد میں رہتے تھے اور باقی ماندہ خود نوش فرمایا۔ آپﷺ کا فرمان ہے:’’اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو مجھے یہ پسند نہیں کہ مجھ پر تین دن گزر جائیں اور اس میں سے کوئی چیز میرے پاس باقی رہے۔ ہاں، قرض کی ادائیگی کیلئے کچھ رکھ لوں تو اور بات ہے‘‘۔(صحیح البخاری، الاستقراض، حدیث2389)۔

سید نا حکیم بن جزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے کچھ مانگا تو آپؐ نے مجھے دیا۔ میں نے پھر مانگا تو آپ نے دیا اور پھر مجھ سے فرمایا:’’اے حکیم! یہ مال سر سبز و شیریں ہے۔ جو شخص اس کو سخاوت نفس کے ساتھ لیتا ہے، اسے برکت عطا ہوتی ہے اور جو طمع کے ساتھ لیتا ہے، اس کو اس میں برکت نہیں دی جاتی اور ایسا آدمی اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا تو ہے مگر سیر نہیں ہوتا، نیز اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے‘‘۔(صحیح البخاری، الزکاۃ، حدیث 1472)

آپﷺ کے جود و کرم کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ نے ایک دفعہ سید نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر بھوک کے اثرات دیکھے تو مسکرائے اور انہیں دودھ والا ایک برتن پیش کرنے کا کہا، پھر حکم دیا کہ پیو۔ انہوں نے سیر ہو کر پیا۔ نبی اکرم ﷺ بار بار انہیں مزید پینے کا کہتے رہے یہاں تک کہ سید نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے اب مزید گنجائش نہیں رہی۔(صحیح البخاری، الرقاق، حدیث6452:)

سید نا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے سید نا انس رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ رسول اکرم ﷺ کو بلا لائیں۔ انہوں نے آپ کے لئے کھانا بنایا تھا۔ رسول اکرم ﷺ اٹھے تو آپ کے ساتھ تقریباً آپ کے چالیس ساتھی اور بھی تھے۔ آپ دس دس کو بلاتے اور کھانا پیش کرتے رہے، پھر ان سب کے بعد خود کھایا۔(سنن ابن ماجہ، الا طعمۃ، حدیث3342:)

آپ ﷺ نہایت خوش دلی سے چھوٹے بڑے مرد عورت، امیر غریب اور شہری دیہاتی کو کھانے میں شریک کر لیتے تھے اور خاص اپنے لئے کچھ بچا کر نہ رکھتے بلکہ کھانے کے خواہش مند سب لوگوں کو بلا لیتے۔ آپ کا دروازہ اور دل دونوں ہر وقت کھلے رہتے اور آپؐ کی سخاوت کا فیضان صبح و شام جاری رہتا۔ آپ بلا تفریق سب لوگوں سے حسن سلوک کرتے اور ساری انسانیت کیلئے دریا دل تھے۔

کیا تم نے کسی ایسے قائد کے متعلق سنا ہے جو اپنے ساتھیوں اور پیروکاروں کے سر پر کھڑا ہو کر انہیں کھانا کھلائے جبکہ وہ خود بھوکا ہو؟ کیا کوئی ایسا لیڈر تمہاری نظروں سے گزرا ہے جو مٹی کے کمرے میں رہائش پذیر ہو اور اسے شدید بھوک لگی ہو، پھر اس کے پاس کھانا آ جائے تو وہ فقراء کو بلا کر پہلے انہیں کھلائے اور خود سب سے آخر میں کھائے؟ یہاں میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ تاریخ کے اوراق میں بکھرے مشاہیر جنہوں نے جودو سخا میں نام کمایا، وہ کسی ایک پہلو سے سخی تھے، مثلاً کوئی دل کا سخی تھا، کسی نے مال کی سخاوت کی، کسی نے کھانے کی سخاوت کی، کسی نے لباس کی سخاوت کی، کسی نے علم کی سخاوت کی اور کسی نے اپنے جاہ و مرتبہ کی سخاوت کی لیکن ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ کی ساری زندگی جودو سخا سے لبریز ہے۔ آپ کے شب و روز جود و سخا سے بھرپور ہیں۔ آپ لوگوں کی امامت کرانے میں بھی سخی تھے کہ ثواب کی غرض سے خالص اللہ کی رضا کے لئے نماز پڑھاتے، کوئی دنیاوی مفاد پیش نظر نہ ہوتا۔

اپنے خطبات میں بھی سخی تھے کہ ان سے دلوں کو نفع پہنچاتے اور روحوں کو تسکین سے بھر دیتے۔ اپنے فتاویٰ میں بھی سخی تھے کہ حلال و حرام کو واضح کرتے۔ اپنی تواضع میں بھی سخی تھے کہ تکلف سے دور رہتے اور دنیا کے معاملات میں خوش دلی اور احسان سے دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے۔ اپنی تعلق داری اور حسن سلوک میں بھی سخی تھے کہ اسے اپنے رب کی عبادت سمجھ کر نبھاتے۔ اپنی دعوت میں بھی سخی تھے کہ اللہ سے اجر و ثواب لینے کیلئے دعوت دیتے۔ کوئی عارضی مفاد، فانی سلطنت اور دنیا کی کوئی جھوٹی بزرگی ہر گز آپ کے پیش نظر نہ ہوتی۔

اللہ ہمیں اپنے پیارے رسول حضرت محمدﷺ کی سیرت مبارکہ کو جاننے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آ مین

بشکریہ: دنیا میگزین

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *